Skip to content

آیت نور کیس: پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے 3 ملزمان کی ضمانت منظور کرلی

شیئر

شیئر

ایبٹ آباد: پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے آیت نور کیس میں قاسم نثار، طلحہ فرید اور محمد عثمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تینوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ کے یکم اکتوبر 2026 کے تفصیلی فیصلے کے مطابق مقدمہ تھانہ ٹی آئی پی، ضلع ہری پور میں ایف آئی آر نمبر 361/26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا، تاہم بعد میں مدعی محمد شفیق نے 20 اگست 2026 کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں قاسم نثار، طلحہ فرید اور محمد عثمان سمیت دو مزید نامعلوم افراد پر الزامات عائد کیے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد مدعی نے ملزم حسن کو شناخت کیا اور اس کے خلاف دعویداری کی۔ فیصلے میں درج ہے کہ حسن کی نشاندہی پر پولیس نے بچی کی میت برآمد کی۔

پولیس تفتیش میں تین ملزمان کا نام کالم نمبر 2 میں رکھا گیا

عدالتی فیصلے کے مطابق حسن نے اپنا اعترافی بیان بھی ریکارڈ کرایا، تاہم اس میں موجودہ تین درخواست گزاروں قاسم نثار، طلحہ فرید اور محمد عثمان کو مبینہ جرم میں شریک قرار نہیں دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق دورانِ تفتیش پولیس نے بھی تینوں درخواست گزاروں کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کے نام کالم نمبر 2 میں رکھے۔

مدعی نے ضمانت پر اعتراض نہیں کیا

عدالت کے مطابق مدعی محمد شفیق بھی اپنے وکیل، ممبر صوبائی بار کونسل خیبرپختونخوا سید شاہد محبوب ایڈووکیٹ، کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے تینوں درخواست گزاروں کو ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

محمد عثمان کے بیان میں تضاد کی نشاندہی

فیصلے میں عدالت نے محمد عثمان سے منسوب اعترافی بیان میں بھی ایک تضاد کی نشاندہی کی۔ فیصلے کے مطابق بیان میں محمد عثمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پانچ روز پولیس کی تحویل میں رہا، تاہم ریکارڈ کے مطابق اسے 21 اگست 2026 کو گرفتار کیا گیا جبکہ اس کا اعترافی بیان 22 اگست 2026 کو ریکارڈ ہوا۔

عدالت: اس مرحلے پر شواہد کی گہرائی میں جانا مناسب نہیں

پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر شواہد کی گہرائی میں جانا ٹرائل پر اثرانداز ہوسکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں درخواست گزاروں کو ضمانت کی رعایت دینے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے۔

عدالت نے تینوں ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ہر ایک کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور اسی مالیت کے دو ضامن فراہم کرنے کا حکم دیا۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں