Skip to content

فیکٹ چیک | پشاور میں 10 ہزار روپے کے چالان پر دو ٹریفک اہلکاروں کے قتل کی خبر غلط ہے۔

شیئر

شیئر

رپورٹ : شیر افضل گوجر

دعویٰ:
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ پشاور میں 10 ہزار روپے کا ٹریفک چالان ہونے پر ایک ڈرائیور نے دو ٹریفک اہلکاروں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور بعد ازاں خود کو بھی گولی مار لی۔

حقیقت:
یہ دعویٰ درست نہیں۔ وائرل ویڈیو پشاور کی نہیں بلکہ ضلع ٹانک میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر ہونے والے ایک مسلح حملے کی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق 27 ستمبر 2026 کو ٹانک کے وزیرآباد کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔
پشاور میں کیا واقعی ایسا کوئی واقعہ ہوا؟

اس دعوے کی تصدیق کے لیے دستیاب سرکاری معلومات اور پشاور ٹریفک پولیس کے ذرائع کا جائزہ لیا گیا۔ سٹی ٹریفک پولیس پشاور ،مختلف تھانہ جات اور پشاور کی سرکاری ویب سائٹ پر ٹریفک ہیڈکوارٹرز، کنٹرول روم اور متعلقہ افسران کے رابطہ نمبرز پر تصدیق کی گئی۔

دوسری طرف 2 اکتوبر کو بعض ویب سائٹس نے پشاور میں 10 ہزار روپے کے چالان کے تنازع پر دو ٹریفک اہلکاروں کے قتل کی خبر شائع کی۔ مثال کے طور پر روزنامہ امت نے یہ خبر یہاں رپورٹ کی،روزنامہ پاکستان نے یہاں رپورٹ کیا اور ڈیلی انڈیپنڈنٹ نے اسے ابتدائی اطلاعات قرار دیتے ہوئے شائع کیا، جبکہ مشرق ٹی وی نے بھی 10 ہزار روپے کے چالان پر دو ٹریفک اہلکاروں کے قتل کی خبر اپنی ویب سائٹ پر شائع کی۔
لیکن اس دعوے کی بنیاد بننے والی وائرل ویڈیو دراصل ٹانک کے واقعے سے متعلق ہے۔

وائرل ویڈیو کہاں کی ہے؟

27 ستمبر کو ٹانک کے وزیرآباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ مختلف معتبر نیوز رپورٹس میں واقعے کی جگہ، ٹریفک پولیس کی گاڑی اور تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔

یعنی ویڈیو میں موجود واقعہ حقیقی ہے، لیکن اسے پشاور، 10 ہزار روپے کے چالان اور ڈرائیور کی فائرنگ سے جوڑنا غلط ہے۔

غلط خبر میں اصل واقعے کو کیسے تبدیل کیا گیا؟

غلط معلومات کے پھیلاؤ میں ایک قابلِ ذکر مسئلہ یہ ہے کہ ایک حقیقی واقعے کی ویڈیو کو اٹھا کر اس کے ساتھ ایک نیا دعویٰ جوڑ دیا گیا۔

اصل واقعہ:

ٹانک میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر مسلح افراد کا حملہ، تین اہلکار شہید

وائرل دعویٰ:

پشاور میں 10 ہزار روپے کا چالان اور ڈرائیور کا مبینہ ردعمل، دو ٹریفک اہلکار قتل

دونوں واقعات کے بنیادی محرک، مقام اور تفصیلات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

صحافتی تصدیق کہاں ضروری تھی؟

اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ویڈیو کس نے سب سے پہلے شیئر کی، بلکہ یہ ہے کہ کیا خبر شائع کرنے سے پہلے دعوے کی آزادانہ تصدیق کی گئی؟

پشاور ٹریفک پولیس کا باقاعدہ ہیڈکوارٹر موجود ہے اور اس کے سرکاری رابطہ نمبرز عوام اور میڈیا کے لیے دستیاب ہیں

۔ ٹریفک پولیس کی ویب سائٹ پر کنٹرول روم کا نمبر بھی درج ہے۔
ایسے میں کسی بھی خبر میں اگر دعویٰ یہ ہو کہ پشاور میں دو ٹریفک اہلکار قتل ہوگئے ہیں تو کم از کم متعلقہ پولیس افسر، کنٹرول روم، جائے وقوعہ یا مقامی پولیس ذرائع سے تصدیق بنیادی صحافتی احتیاط کا حصہ ہونی چاہیے۔

خصوصاً جب خبر میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل جیسے سنگین دعوے کے ساتھ 10 ہزار روپے کے چالان کو واقعے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہو۔

دس ہزار روپے کے چالان کا دعویٰ بھی قابلِ جانچ تھا

پشاور ٹریفک پولیس کی سرکاری ویب سائٹ پر مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں کے جرمانوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ فہرست میں بعض خلاف ورزیوں پر 10 ہزار روپے تک جرمانہ درج ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پشاور میں کسی ڈرائیور نے 10 ہزار روپے کے چالان کے بعد دو اہلکاروں کو قتل کیا۔

یعنی جرمانے کی رقم کا ممکن ہونا، واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ

دعویٰ: غلط ❌

پشاور میں 10 ہزار روپے کے چالان پر دو ٹریفک اہلکاروں کے قتل سے متعلق وائرل دعوے کی تائید میں قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آئے۔ جس ویڈیو کو پشاور کے واقعے کے طور پر پیش کیا گیا، وہ دستیاب رپورٹس کے مطابق ٹانک میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر 27 ستمبر کو ہونے والے مسلح حملے کی ہے، جس میں تین ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بنیادی صحافتی اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ وائرل ویڈیو خبر کا ثبوت نہیں ہوتی۔ ویڈیو کے مقام، تاریخ، سیاق و سباق اور متعلقہ ادارے سے تصدیق کے بعد ہی اسے خبر کا حصہ بنانا چاہیے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں