سلیکشن نہ ہونے کا ملال اور بعد میں ملی کامیابی: ہزارہ یونیورسٹی سے جڑی میری یادیں
تحریر : راشد خان سواتی ہزارہ یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ہماری مادرِ علمی اور ہزارہ کے خوب صورت ثقافتی تنوع کی آئینہ دار ہے۔ یہاں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات علم کی پیاس بجھانے اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے آتے ہیں۔ پشتو، ہندکو، گوجری، کوہستانی، کشمیری، پنجابی اور سرائیکی زبانیں بولنے والے افراد اس خطے کے ثقافتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں، اور ہزارہ یونیورسٹی ان مختلف ثقافتوں کو






