
ثالثی کی معیشت: مصر کا تجربہ اور پاکستان کا امتحان
تحریر : ذیشان ہاشم ہمارے اس عالمی نظام میں بعض اوقات وہ ممالک غیر معمولی اہمیت حاصل کر لیتے ہیں جو متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کا قابلِ اعتماد کردار ادا کر سکیں۔ ایسی ثالثی ریاستوں، متحارب گروہوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہو سکتی ہے۔ بظاہر یہ ایک اخلاقی ذمہ داری لگتی ہے (جو ہونی بھی چاہئے )، مگر درحقیقت اس کے ساتھ سیاسی وقار اور معاشی فوائد بھی جڑے ہوتے ہیں ، اگرچہ یہ سیاسی و معاشی فوائد حتمی نہیں












