ایبٹ آباد: ( سٹاف رپورٹر ) قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے ایوب میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن (AMTI) ایبٹ آباد میں تقریباً 93 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور خریداری اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے گزشتہ دس سال کے دوران ادویات، فارمیسی آئٹمز اور جدید طبی آلات کی خریداری کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔


نیب نے ادارے کی جانب سے سال 2023ء میں جاری کیے گئے چار اہم ٹینڈرز سے متعلق مبینہ طور پر غائب خریداری دستاویزات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مالی سال 2023-24ء میں سامنے آنے والی مالی بے ضابطگیوں سے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں نیب کے انویسٹی گیشن ونگ ٹو نے 12 اور 13 اکتوبر کو الگ الگ مراسلے جاری کیے، جن میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ایسوسی ہسپتال ڈائریکٹر (جو اس معاملے میں فوکل پرسن مقرر ہیں) کو قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 19 کے تحت متعلقہ ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بارہ اکتوبر کے مراسلے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھاری اور جدید طبی مشینری، آلات اور دیگر سازوسامان کی خریداری کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں، جبکہ تیرہ اکتوبر کے مراسلے میں ادویات، فارمیسی آئٹمز، طبی آلات، مقامی سطح کی خریداری سمیت تمام سامان کا ریکارڈ مانگا گیا ہے۔
نیب کی جانب سے جن چار ٹینڈرز کا خصوصی ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، ان میں 31 جولائی 2023ء (فارمیسی اور مینٹیننس اشیا)، 27 اکتوبر 2023ء (الیکٹرو میڈیکل ورکشاپ، آئی ٹی اور سی سی ٹی وی سسٹمز)، 15 نومبر 2023ء (فارمیسی سروسز)، اور 7 دسمبر 2023ء (سرجیکل ڈسپوزایبلز، لیبارٹری کیمیکلز، ری ایجنٹس، ڈینٹل کارٹریجز، آئسوفلورین اور اسٹریپٹو کائنیز انجیکشنز) کے ٹینڈرز شامل ہیں۔
نیب نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام ریکارڈ سال وار اور ٹینڈر وار الگ فولڈرز میں مرتب کیا جائے تاکہ جانچ پڑتال میں آسانی ہو۔ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ حقائق چھپانے یا گمراہ کن معلومات دینے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس کے تحت تعزیری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایوب میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن میں 93 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا یہ معاملہ نگران حکومت کے دور میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد بورڈ آف گورنرز نے ڈاکٹر حق نواز خان کی سربراہی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ نیب کی جانب سے اب گزشتہ دس سال کا ریکارڈ طلب کیے جانے کو اس معاملے کی تحقیقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے