میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کا نتیجہ آنے کے بعد طالب علم کے لیے اصل سند یا سرٹیفکیٹ ایک اہم تعلیمی دستاویز ہوتی ہے۔ ملازمت، مزید تعلیم، بیرونِ ملک تعلیم، اسکالرشپ یا مختلف سرکاری معاملات میں اصل سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اسی لیے طلبہ اور والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ متعلقہ تعلیمی بورڈ اصل سند کتنے عرصے میں جاری کرنے کا پابند ہے اور مقررہ مدت میں سند نہ ملنے کی صورت میں شہری کہاں رجوع کرسکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت ’’اورجنل سند/سرٹیفکیٹ کا اجراء‘‘ کو باقاعدہ عوامی سروس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
کے پی آر ٹی ایس کے مطابق اس سروس کی مقررہ مدت نتیجہ جاری ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر ہے۔ اس سروس کے ذمہ دار افسر سیکریٹری جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی چیئرمین ہیں۔
اصل سند یا سرٹیفکیٹ کیا ہے؟
اصل سند وہ سرکاری تعلیمی دستاویز ہے جو متعلقہ تعلیمی بورڈ کامیاب امیدوار کو میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔ یہ طالب علم کی تعلیمی قابلیت کا مستقل سرکاری ریکارڈ ہوتی ہے اور مستقبل میں یونیورسٹی میں داخلے، ملازمت، اسکالرشپ، بیرونِ ملک تعلیم یا دیگر سرکاری و نجی معاملات میں طلب کی جاسکتی ہے۔اگرچہ رزلٹ کارڈ بھی طالب علم کی کامیابی کا ثبوت ہوتا ہے، لیکن کئی معاملات میں اصل سند یا سرٹیفکیٹ الگ سے طلب کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اصل سند کا بروقت اجرا طلبہ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
یہ سروس کن طلبہ کے لیے ہے؟
کے پی آر ٹی ایس میں یہ سروس بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت درج ہے۔ اس لیے متعلقہ بورڈ کے کامیاب طلبہ جن کی اصل سند جاری ہونا باقی ہے، اس سروس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ کے پی آر ٹی ایس میں اس سروس کا نام ’’اورجنل سند/سرٹیفکیٹ کا اجراء‘‘ درج ہے۔
طلبہ کو چاہیے کہ اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور طریقہ کار پر عمل کریں، کیونکہ سند کے حصول، وصولی یا ترسیل کا طریقہ مختلف بورڈز میں مختلف ہوسکتا ہے۔
اصل سند کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے؟
عام طور پر کامیاب امیدوار کے تعلیمی ریکارڈ کی تکمیل اور بورڈ کی جانب سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے مقررہ عمل کے بعد اصل سند جاری کی جاتی ہے۔ متعلقہ بورڈ اپنے قواعد کے مطابق سند کی وصولی، ترسیل یا درخواست دینے کا طریقہ طے کرتا ہے۔
مثلاً بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں کی معلومات میں SSC اور HSSC کے اصل سرٹیفکیٹ کے لیے نارمل اور ارجنٹ دونوں سہولتوں کا ذکر موجود ہے۔ نارمل اصل سرٹیفکیٹ کے لیے فیس نہ ہونے جبکہ ارجنٹ اجرا کے لیے مقررہ فیس کا ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم مختلف تعلیمی بورڈز کے طریقہ کار اور فیس میں فرق ہوسکتا ہے، اس لیے طالب علم کو اپنے متعلقہ بورڈ کی تازہ ہدایات ضرور دیکھنی چاہئیں۔
یہ سند کتنے عرصے میں ملنی چاہئیں؟
یہ اس سروس سے متعلق سب سے اہم معلومات ہے۔ کے پی آر ٹی ایس کے مطابق اورجنل سند/سرٹیفکیٹ کا اجراء نتیجہ جاری ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر ہونا چاہیے۔اس سروس کے لیے ذمہ دار افسر سیکریٹری جبکہ چیئرمین اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ اس مقررہ مدت کا مقصد یہ ہے کہ کامیاب طلبہ کو اپنی اصل تعلیمی سند کے حصول کے لیے غیر ضروری طور پر طویل انتظار نہ کرنا پڑے۔ا
گر 6 ماہ گزر جائیں اور اصل سند نہ ملے تو کیا کریں؟
اگر طالب علم کا نتیجہ جاری ہوئے 6 ماہ گزر چکے ہوں لیکن اصل سند جاری نہیں ہوئی تو سب سے پہلے متعلقہ تعلیمی بورڈ سے سند کی موجودہ صورتحال معلوم کرنی چاہیے۔ ممکن ہے کسی انتظامی یا ریکارڈ سے متعلق وجہ سے سند کا اجرا زیرِ التوا ہو، اس لیے پہلے متعلقہ بورڈ سے معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔اگر نوٹیفائیڈ سروس کی مقررہ مدت گزر چکی ہو اور بلاجواز تاخیر ہو رہی ہو تو کے پی آر ٹی ایس کے مطابق اس معاملے میں چیئرمین اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ طالب علم یا اس کے والدین متعلقہ ریکارڈ، رول نمبر، رزلٹ کارڈ اور دیگر دستیاب ثبوت کے ساتھ اپیل کرسکتے ہیں۔
طالب علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا رول نمبر، رزلٹ کارڈ، درخواست یا فیس کی رسید اور بورڈ کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت سمیت متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھے۔ یہ ریکارڈ تاخیر کی صورت میں اپیل یا شکایت کے دوران اہم ثبوت بن سکتا ہے۔
کے پی آر ٹی ایس سے کب رجوع کریں؟
اگر نوٹیفائیڈ سروس مقررہ مدت میں فراہم نہ ہو اور متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی، یعنی چیئرمین، سے رجوع کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے رجوع کرسکتا ہے۔
کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کا مرکزی رابطہ نمبر 091-9216375
ویب سائٹ www.kprts.gov.pk
ای میل pschief.rts@kp.gov.p
شہری اپنا حق جانیں
اصل سند صرف ایک تعلیمی کاغذ نہیں بلکہ طالب علم کی تعلیمی قابلیت کا اہم سرکاری ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بروقت اجرا سے متعلق مدت اور شکایت کے طریقہ کار سے طلبہ اور والدین کا باخبر ہونا ضروری ہے۔
اگر نتیجہ جاری ہونے کے بعد 6 ماہ گزر جائیں اور اصل سند جاری نہ ہو تو طالب علم کو غیر ضروری طور پر طویل انتظار کرنے کے بجائے پہلے متعلقہ بورڈ سے اپنی سند کی صورتحال معلوم کرنی چاہیے۔ اگر مقررہ مدت کے باوجود نوٹیفائیڈ سروس فراہم نہ کی جائے تو متعلقہ اپیلیٹ فورم، یعنی چیئرمین، سے رجوع کیا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی شکایت کی جاسکتی ہے۔
اورجنل سند/سرٹیفکیٹ کا اجراءمحکمہ: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
مقررہ مدت: نتیجہ جاری ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر
ذمہ دار افسر: سیکریٹری
اپیلیٹ اتھارٹی: چیئرمین
اہم بات
6 ماہ کی مقررہ مدت کا تعلق نوٹیفائیڈ پبلک سروس ’’اورجنل سند/سرٹیفکیٹ کا اجراء‘‘ سے ہے۔ طالب علم کو چاہیے کہ اپنے متعلقہ بورڈ کے طریقہ کار اور ضروری تقاضے بھی مکمل کرے۔ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود بلاجواز تاخیر کی صورت میں شہری کو اپیل اور شکایت کے دستیاب قانونی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
