Skip to content

خان پور: کھیتوں سے 24 سالہ لڑکی کی لاش برآمد، دو روز سے لاپتا تھی

شیئر

شیئر

خان پور: جمالی نگر سے دو روز قبل لاپتا ہونے والی 24 سالہ کائنات بی بی کی لاش بستی سے ملحقہ کھیتوں سے برآمد کرلی گئی۔ واقعے پر علاقے میں غم اور تشویش کی فضا ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

کائنات بی بی کا تعلق جمالی نگر کے ایک غریب خاندان سے تھا، جو کبھی اپنے بزرگوں کی نیکی، محنت اور غریب پروری کے باعث بستی میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بستی بھی ان کے دادا مستری عبدالقادر خان جمالی کے نام سے موسوم ہوئی۔کائنات کے والد اقرار حسین محنت مزدوری کرکے گھر کا نظام چلا رہے تھے، تاہم وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔

غربت کے باعث علاج کے لیے مشکلات کا سامنا رہا اور بالآخر وہ انتقال کرگئے۔ اقرار حسین کے ایک بیٹے اور ایک بیٹی تھی، جبکہ بیٹے کی صحت اور ذہنی حالت بھی بہتر نہیں تھی۔والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری کائنات کے کندھوں پر آگئی۔ وہ خان پور میں مختلف گھروں میں کام کرکے اپنی بیمار بھائی اور بوڑھی دادی کا سہارا بنی ہوئی تھی۔

دو روز قبل کائنات کام سے واپس گھر نہ پہنچی تو اہل خانہ کو تشویش ہوئی اور تلاش شروع کردی گئی۔ پولیس کو اطلاع دینے کے بعد تھانہ سٹی خان پور میں اس کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

پولیس کے مطابق گزشتہ روز کائنات کی لاش بستی سے ملحقہ کھیتوں سے برآمد ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی شروع کی جبکہ فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کیے۔ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے میرٹ پر تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔

ڈی پی او خود بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور تفتیشی عمل کا جائزہ لیا۔پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور شواہد کی روشنی میں اصل حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کائنات کی موت نے ایک بار پھر معاشرے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک غریب گھرانے کی وہ نوجوان لڑکی جو اپنی بیمار بھائی اور بوڑھی دادی کی کفالت کے لیے محنت کرتی تھی، اب خود اپنے اہل خانہ کو سوگوار چھوڑ گئی ہے۔

علاقہ مقینوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں مقدمات، تحقیقات اور گرفتاریاں اپنی جگہ، مگر اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں