رپورٹ : شیر افضل گوجر
سٹی کالج مانسہرہ کے لیے جونیئر کلرک کی بھرتی:سرکاری ریکارڈ میں پانچ امیدوار کامیاب،کالج انتظامیہ کی وضاحت میں صرف دو،باقی امیدوار انٹرویو تک کیسے پہنچے؟پہلے نمبر پر آنے والا تیسرے نمبر پر کیسے چلا گیا؟ بھرتی کے عمل پر اتنی تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
ضلع مانسہرہ میں حال ہی میں قائم ہونے والے گورنمنٹ ڈگری کالج سٹی مانسہرہ کی جونیئر کلرک بھرتی میں سرکاری دستاویزات کے درمیان تضادات سامنے آگئے، ٹائپنگ ٹیسٹ کے نتائج مقررہ وقت سے پہلے ظاہر ہونے اور میرٹ تبدیل ہونے پر سوالات اٹھ گئے،ہزارہ ایکسپریس نیوز نے بھرتیوں کے عمل اور نتائج پر اٹھنے والے سوالات کالج انتظامیہ کے سامنے رکھے ہیں اور اس کی تحقیق کا فیصلہ کیا ہے۔


ہزارہ ایکسپریس نیوز نے اس کیس کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ اس کیس میں پانچ بڑے Investigative leads ہیں۔
شروع میں پانچ امیدواروں کوٹائپنگ ٹیسٹ میں پاس کرکے انٹرویو کے لیے اہل قرار دیامگر بعد میں کالج نےوضاحتی نوٹ میں صرف دو امیدواروں کو کامیاب اور باقی تین کو فیل قرار دیا۔
خوشنود علی کی 8 نمبروں کی اکیڈیمک برتری انٹرویو کے زریعے ختم ہوئی اور طفیل ادریس انٹرویو مارکس میں 25/25 سے کامیاب قرار پایا۔
حسن فیاض کے اسناد میں مارکس مختلف ہیں اور کالج کی میرٹ لسٹ میں مختلف ہیں۔
کمپیوٹرائز ٹائپنگ ٹیسٹ میں Typing queen timestamps مقررہ Test window سے پہلے کے ہیں۔
بھرتی کی دستاویزات میں مارکس کی تقسیم خود بھی وضاحت طلب ہے۔۔
گورنمنٹ ڈگری کالج سٹی مانسہرہ میں جونیئر کلرک کی ایک آسامی پر بھرتی کا عمل اس وقت سوالات کی زد میں آگیا بھرتی کمیٹی نے پہلے جس امیدوار کو اپنے ریکارڈ میں پاس قرار دیا اسی کو بعد میں فیل قرار دے دیا ۔
دستیاب دستاویزات، ٹائپنگ ٹیسٹ کے نتائج اور کالج کی جانب سے جاری کردہ مختلف وضاحتوں کے تقابلی جائزے سے بھرتی کے عمل میں کئی ایسے تضادات سامنے آئے ہیں جن کی شفاف اور دستاویزی وضاحت ضروری ہے
کالج کی جانب سے 23 جولائی 2026 کو جاری کردہ نوٹس کے مطابق جونیئر کلرک کے لیے ٹائپنگ ٹیسٹ 25 جولائی کو صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ہونا تھا اور 30 الفاظ فی منٹ ٹائپنگ سپیڈ لازمی قرار دی گئی تھی
نوٹس میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ جو امیدوار 30 الفاظ فی منٹ کی رفتار سے ٹائپنگ ٹیسٹ پاس نہیں کرے گا اسے انٹرویو کی حتمی میرٹ لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا
چھبیس الفاظ فی منٹس ( 26WPM)
والا امیدوار انٹرویو تک کیسے پہنچا؟
دستیاب TypingQueen رزلٹ کے مطابق امیدوار خوشنود علی نے پانچ منٹ کے ٹیسٹ میں 31 WPM مجموعی رفتار حاصل کی تاہم اس کی Net Speed صرف 26 WPM تھی
اس کی Accuracy 83.93 فیصد اور Errors 25 درج ہیں
اس کے باوجود گورنمنٹ ڈگری کالج مانسہرہ کی جانب سے جاری کردہ Final Short Listed Candidates for Interview فہرست میں خوشنود علی کا نام پہلے نمبر پر موجود ہے اور اسے Interview کے لیے Eligible قرار دیا گیا
بعد میں جاری ہونے والی حتمی میرٹ لسٹ میں بھی خوشنود علی کو Passed قرار دیا گیا
لیکن گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مانسہرہ کے آفیشل فیس بک پیج پر نتائج جاری ہونے اور ان پر عوام کی طرف سے سخت تنقید کے بعد کالج نے بعد میں سوشل میڈیا پر جاری وضاحت میں خود کہا کہ زیادہ اکیڈمک نمبرز رکھنے والا امیدوار 26 الفاظ فی منٹ ٹائپنگ سپیڈ کی وجہ سے مقررہ معیار پر پورا نہیں اتر سکا اور اس لیے میرٹ کے لیے اہل نہیں تھا اور صرف دو امیدوار ہی ٹائپنگ ٹیسٹ میں پاس ہوئے ہیں جبکہ کالج انتظامیہ نے 25 جولائی کو امیدواروں کے کے لیے ایک اطلاعی نوٹس دیا تھا جس میں کالج پرنسپل کے دستخط سے ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنے اور انٹرویو کے لیے پانچ امیدواروں کو مدعو کیا گیا تھا اس نوٹس میں واضع لکھا گیا تھا کہ گورنمنٹ سٹی کالج مانسہرہ میں جونئیر کلرک کی اسامی کے لیے منعقدہ ٹائپنگ ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو یہ اطلاع دی جا رہی یے۔۔
یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر 26 WPM والا امیدوار مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا تو اسے انٹرویو کے لیے اہل قرار دے کر انٹرویو تک کیسے پہنچایا گیا؟
29 اور 28 WPM والے امیدوار بھی انٹرویو لسٹ میں شامل
دستیاب اصل ٹائپنگ رزلٹس کے مطابق احسن صابر کی Gross Speed 31 WPM جبکہ Net Speed 29 WPM تھی
اس کی Accuracy 94.81 فیصد درج ہے
اسی طرح عبدالباسط کی Gross Speed 32 WPM اور Net Speed 28 WPM درج ہے جبکہ Accuracy 89.87 فیصد ہے
اس کے باوجود دونوں امیدواروں کو کالج کی جانب سے جاری کردہ انٹرویو شارٹ لسٹ میں شامل کیا گیا
یہاں بھی سوال یہی ہے کہ اگر Net Speed کی بنیاد پر 30 WPM لازمی معیار تھا تو 29 اور 28 WPM والے امیدوار انٹرویو کے لیے کیسے اہل ہوئے؟
اور اگر Gross Speed کو معیار بنایا گیا تھا تو 26 WPM والے امیدوار کو بعد میں Net Speed کی بنیاد پر نااہل کیوں قرار دیا گیا؟
پانچ امیدوار پاس یا صرف دو؟
اس بھرتی میں ایک اور اہم تضاد امیدواروں کی تعداد سے متعلق ہے
کالج کی جانب سے بعد میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 51 امیدواروں میں سے صرف دو امیدوار ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرسکے
طفیل ادریس نے 43 WPM اور 99 فیصد Accuracy حاصل کی جبکہ حسن فیاض نے 30 WPM اور 90 فیصد Accuracy حاصل کی
لیکن اس سے پہلے کالج کی جانب سے جاری کردہ Final Short Listed Candidates for Interview فہرست میں پانچ امیدوار شامل تھے
خوشنود علی
طفیل ادریس
احسن صابر
حسن فیاض
عبدالباسط
اس فہرست کے عنوان میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ یہ امیدوار ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ ہوئے ہیں
اب سوال یہ ہے کہ اگر صرف دو امیدوار ٹائپنگ ٹیسٹ میں کامیاب ہوئے تھے تو پانچ امیدواروں کو پاسنگ ٹائپنگ ٹیسٹ کے بعد انٹرویو کے لیے اہل قرار دینے کی بنیاد کیا تھی؟
جب یہ سوال کالج پرنسپل ڈاکٹر مفتی محمد اسماعیل خان کے سامنے رکھا گیا توان کا موقف تھا کہ ہائر ایجوکیشن کی ہائرنگ پالیسی کے تحت انٹرویو کے لیے ٹاپ پر آنے والے کم از کم تین امیدواروں کو انٹرویو کا حصہ بنانا ضروری ہوتا ہے تاہم اس حوالے انہوں نے ایسے کسی رول کی وضاحت نہیں کی۔۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہائر ایجوکیشن کے رولز میں انٹرویو کے ٹاپ پر آنے والے تین امیدواروں کو انٹرویو میں شامل کرنا ضروری ہے تو پھر کالج نے نوٹس میں کیوں لکھ دیا کہ ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کیے بغیر کوئی امیدوار فائنل میرٹ لسٹ برائے انٹرویو میں شامل نہیں ہو گا اور اگر کالج نے محکمہ کے قواعد کے مطابق ٹائپنگ ٹیسٹ کو اشتہار/قواعد میں اہلیت کا لازمی معیار قرار دیا ہے تو جو امیدوار مقررہ 30 WPM پورا نہیں کرتا تو اسے انٹرویو میں کس قانونی قاعدے کے تحت شامل کیا گیا اور اگر کالج نے کامیاب قرار دے کر نوٹس لگا دیا ہے تو وضاحت میں ناکام کیسے قراردے دیا؟اس حوالے سے کالج انتظامیہ کو واضع قانونی بنیاد فراہم کرنا ہوں گی۔۔
مقررہ وقت سے پہلے ٹائپنگ ٹیسٹ کے نتائج
اس کیس کا سب سے اہم سوال ٹائپنگ ٹیسٹ کے وقت اور تاریخ سے متعلق ہے
کالج کے سرکاری نوٹس کے مطابق ٹائپنگ ٹیسٹ 25 جولائی 2026 کو صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ہونا تھا
لیکن فراہم کردہ TypingQueen رزلٹس میں بعض امیدواروں کے ٹیسٹ رزلٹ کے اوقات اس مقررہ وقت سے کئی گھنٹے پہلے کے ہیں
خوشنود علی کے رزلٹ پر 24 جولائی رات 11 بج کر 12 منٹ کا وقت درج ہے
حسن فیاض کے رزلٹ پر 24 جولائی رات 10 بج کر 43 منٹ کا وقت درج ہے
عبدالباسط کے رزلٹ پر 24 جولائی شام تقریباً 4 بجے کا وقت موجود ہے
احسن صابر کے رزلٹ پر 25 جولائی رات 2 بج کر ایک منٹ کا وقت درج ہے
یہ تمام اوقات کالج کی جانب سے مقرر کردہ 25 جولائی صبح 9 بجے سے 12 بجے کے ٹیسٹ ٹائم سے پہلے کے ہیں
یہ صورتحال کسی جعل سازی کا حتمی ثبوت نہیں لیکن ایک نہایت اہم سوال ضرور پیدا کرتی ہے
اگر ٹائپنگ ٹیسٹ 25 جولائی کو صبح 9 سے 12 بجے ہونا تھا تو TypingQueen کے رزلٹس پر 24 جولائی کی رات اور 25 جولائی صبح 2 بجے کے ٹیسٹ ٹائم کیوں موجود ہیں؟
کیا یہ ٹیسٹ کے اصل اوقات ہیں
کیا کمپیوٹر کی گھڑی غلط تھی
کیا یہ رزلٹ بنانے یا محفوظ ہونے کا وقت تھا
یا ٹائپنگ ٹیسٹ کسی اور وقت لیا گیا تھا؟
جب یہ سوال کالج پرنسپل ڈاکٹر محمد اسماعیل خان کے سامنے رکھا گیا تو ان کا موقف تھا کہ کہ کمپیوٹر کی گھڑی پر ٹائمنگ غلط تھی جس کی وجہ سے سب کے نتائج مختلف آئے ہیں۔
اس سوال کا جواب صرف اصل کمپیوٹر لاگز اور TypingQueen کے سیشن ریکارڈ سے دیا جاسکتا ہے کہ آیا انٹریو سے قبل کیا کمپیوٹر کو سیکرنائزڈ کیا گیا تھا؟
ایک ہی کمپیوٹر پر دو مختلف نتائج
دستیاب دستاویزات میں خوشنود علی اور حسن فیاض دونوں کے رزلٹ پر ایک ہی کمپیوٹر کا نام درج ہے
کمپیوٹر کا نام DESKTOP-GL5SH9C ہے
خوشنود علی کا رزلٹ 24 جولائی رات 11 بج کر 12 منٹ پر جبکہ حسن فیاض کا رزلٹ اسی کمپیوٹر پر 24 جولائی رات 10 بج کر 43 منٹ پر ظاہر ہوتا ہے
اگر یہ ٹائم اسٹیمپ ٹیسٹ دینے کا اصل وقت ظاہر کرتے ہیں تو یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ مقررہ ٹیسٹ سے تقریباً دس گھنٹے پہلے ایک ہی کمپیوٹر پر امیدواروں کے ٹیسٹ کیسے ریکارڈ ہوئے؟
اس حوالے سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کمپیوٹر پر ہونے والے ٹیسٹ جو سائبر سیکیور،ٹیمپر پروف ہونے اور اور بعد میں آڈٹ کے قابل بنانے کے لیے ضروری SOP کا استعمال کیا گیا تھا؟ کالج پرنسپل کے مطابق تمام امیدواروں کے نتائج پر مختلف اوقات درج تھے تو یہ سوال لازمی اٹھتا ہے کہ ممتحن کمیٹی نے معیاری SOPs کو فالو نہیں کیا ۔
حسن فیاض کے نمبروں میں تبدیلی
مختلف میرٹ لسٹوں کے تقابلی جائزے میں حسن فیاض کے تعلیمی نمبروں میں بھی فرق سامنے آیا ہے
ابتدائی شارٹ لسٹ میں حسن فیاض کے HSSC نمبر 602 اور HSSC اسکور 22 درج ہے
اس کے مطابق اس کا مجموعی اکیڈمک اسکور 52 بنتا ہے
حتمی میرٹ لسٹ میں اسی امیدوار کے HSSC نمبر 662 اور HSSC اسکور 30 درج ہیں
اس کے نتیجے میں اس کا مجموعی اکیڈمک اسکور 60 ہوگیا
یعنی HSSC نمبروں میں 60 نمبروں اور اکیڈمک اسکور میں 8 نمبروں کا فرق سامنے آیا
ممکن ہے کہ ابتدائی فہرست میں غلطی ہوئی ہو اور بعد میں درست کردی گئی ہو
لیکن سوال یہ ہے کہ اس correction کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود ہے یا نہیں؟
کیا بورڈ سے تصدیق کرائی گئی؟
کیا Selection Committee نے اس تبدیلی کی منظوری دی؟
اور کیا دیگر امیدواروں کے نمبروں کی بھی دوبارہ جانچ کی گئی؟
آٹھ نمبروں کی برتری کیسے ختم ہوئی؟
حتمی میرٹ لسٹ میں خوشنود علی کے اکیڈمک نمبر 67 اور انٹرویو کے نمبر 15 درج ہیں
اس کا مجموعی اسکور 82 بنتا ہے
دوسری جانب طفیل ادریس کے اکیڈمک نمبر 59 تھے جبکہ اسے انٹرویو میں پورے 25 نمبر دیے گئے
اس کا مجموعی اسکور 84 ہوگیا
یعنی انٹرویو سے پہلے خوشنود علی کو طفیل ادریس پر 8 نمبروں کی واضح برتری حاصل تھی
لیکن انٹرویو میں دونوں امیدواروں کے درمیان 10 نمبروں کا فرق پیدا ہوگیا
نتیجتاً طفیل ادریس 84 نمبروں کے ساتھ منتخب ہوگیا جبکہ خوشنود علی 82 نمبروں کے ساتھ پیچھے رہ گیا
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کسی امیدوار کو 25 میں سے 25 نمبر مل سکتے ہیں یا نہیں
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان 25 نمبروں کے لیے پہلے سے کوئی واضح اور یکساں معیار مقرر تھا؟
کیا ٹائپنگ سپیڈ کو انٹرویو کے نمبروں میں شامل کیا گیا؟
کالج کی وضاحت میں منتخب امیدوار طفیل ادریس کی 43 WPM ٹائپنگ سپیڈ اور 99 فیصد Accuracy کو اس کے انتخاب کے حق میں پیش کیا گیا ہے۔
کالج انتظامیہ کا موقف ہے کہ ٹائپنگ ٹیسٹ کے دس نمبر تھے اور انٹرویو کے پندرہ نمبر تھے تو سوال یہ پیدا ہوتا یے کہ پھر کالج انتظامیہ کے مطابق ٹائپنگ ٹیسٹ صرف دو امیدواروں نے پاس کیا تو باقی دو فیل امیدواروں کو پندرہ کے بجائے سولہ نمبر کیسے مل گیے؟
لیکن ٹائپنگ ٹیسٹ اور انٹرویو دو الگ مراحل ہیں
اگر ٹائپنگ ٹیسٹ کا مقصد صرف 30 WPM کی لازمی شرط پوری ہونے کی جانچ کرنا تھا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 43 WPM حاصل کرنے والے امیدوار کو انٹرویو میں 25 میں سے 25 نمبر دینے کے لیے کون سا تحریری معیار استعمال کیا گیا؟
اگر ٹائپنگ سپیڈ کے نمبرز انٹرویو کے نمبروں کا حصہ تھی تو اس کا ذکر اشتہار یا منظور شدہ recruitment criteria میں کہاں موجود تھا؟
اور اگر ٹائپنگ سپیڈ انٹرویو کا حصہ نہیں تھی تو پھر 43 WPM کو 25 میں سے 25 نمبر دینے کے جواز کے طور پر کیوں پیش کیا گیا؟
43 WPM اور 99 فیصد Accuracy کا معاملہ
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ منتخب امیدوار کا 43 WPM اور 99 فیصد Accuracy کا نتیجہ مشکوک ہے اور مبینہ طور پر متن copy paste کیا گیا
تاہم دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر صرف Accuracy اور keystrokes دیکھ کر copy paste ثابت نہیں کیا جاسکتا
اس دعوے کی حتمی جانچ کے لیے TypingQueen کا اصل session data، keystroke record، paste events، computer logs اور اگر موجود ہو تو test کی screen recording دیکھنے کے بعد ہی کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔
تحقیقی صحافت کے اصول کے تحت اس وقت اسے جعل سازی کا ثابت شدہ واقعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا
اصل سوالات جن کے جواب ضروری ہیں
اس بھرتی کے عمل کی شفافیت جانچنے کے لیے کالج انتظامیہ کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ
30 WPM لازمی شرط تھی تو 26، 28 اور 29 WPM والے امیدواروں کو کامیاب قرار دے کر انٹرویو کے لیے کیوں مدعو کیا گیا
کالج انتظامیہ کی وضاحت کے مطابق اگر صرف دو امیدوار ٹائپنگ ٹیسٹ میں کامیاب ہوئے تو پانچ امیدواروں کو ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد انٹرویو کے لیے اہل کیوں قرار دیا گیا؟
25 جولائی صبح 9 سے 12 بجے کے مقررہ ٹیسٹ کے نتائج پر 24 جولائی اور 25 جولائی رات کے اوقات کیوں موجود ہیں؟
حسن فیاض کے HSSC نمبر 602 سے 662 کیسے ہوئے
حتمی میرٹ لسٹ میں اکیڈمک اسکور کا زیادہ سے زیادہ 75 نمبر کیوں درج ہے جبکہ دکھائے گئے اجزا 60 اور 10 نمبروں پر مشتمل ہیں؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انٹرویو میں 25 میں سے 25 اور 15 نمبر دینے کے لیے کون سا منظور شدہ معیار استعمال کیا گیا؟
شفاف تحقیقات ہی حل ہے
دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر ابھی یہ کہنا درست نہیں کہ کسی امیدوار نے جعل سازی کی یا کسی سیاسی نمائندے یا افسر نے سفارش کی
لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بھرتی کے مختلف مراحل سے متعلق سرکاری دستاویزات میں متعدد سوالات پیدا کرنے والے تضادات موجود ہیں۔
ایک شفاف عمل کے لیے کالج کو تمام امیدواروں کے ٹائپنگ رزلٹس، ٹیسٹ اٹینڈنس شیٹ، کمپیوٹر لاگز، TypingQueen کے اصل سیشن ریکارڈ، انٹرویو کی انفرادی مارکنگ شیٹس، Selection Committee کے منٹس اور انٹرویو کے منظور شدہ معیار کو سامنے لانا چاہیے،جب تک یہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا، اس بھرتی کو مکمل طور پر شفاف میرٹ قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا اور اسے سفارش یا جعل سازی کا نتیجہ قرار دینا بھی۔
اصل سوال کسی ایک امیدوار کی کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا تمام امیدواروں کے لیے ایک ہی معیار، ایک ہی طریقہ کار اور ایک ہی وقت پر یکساں امتحانی عمل اختیار کیا گیا تھا؟
