لاہور — پولیس حراست میں دو نوجوان خواتین آمنہ اور انمول کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس کی فراہم کردہ ٹائم لائن، خاندان کے بیانات، عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹس اور آزاد طبی ماہرین کی رائے میں ایسے متعدد سوالات سامنے آئے ہیں جن کے حتمی جوابات ابھی دستیاب نہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی اگست 2026 کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کو 4 اگست کو لاہور کے ٹاؤن شپ پولیس اسٹیشن میں چوری کے الزام میں حراست میں لیا گیا، جہاں پولیس کے مطابق چند گھنٹوں بعد دونوں کی حالت بگڑی اور انہیں جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مردہ حالت میں وصول کیا گیا۔
HRCP نے 11 سے 13 اگست کے دوران خاندان، شکایت کنندہ، پولیس حکام، جناح اسپتال اور ریسکیو 1122 سے معلومات حاصل کیں اور تین آزاد طبی ماہرین سے عبوری پوسٹ مارٹم نتائج کا جائزہ بھی لیا۔ رپورٹ نے اس مرحلے پر موت کی وجہ یا تشدد کے الزام کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا، تاہم واقعے کے مختلف مراحل میں موجود تضادات اور معلومات کے خلا کی مزید آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پولیس کی ٹائم لائن کیا کہتی ہے؟
پولیس کے مطابق 4 اگست کو دوپہر 2 بج کر 54 منٹ پر چوری کی شکایت کے لیے ایمرجنسی 15 پر کال موصول ہوئی۔ 3:11 پر ایک سب انسپکٹر موقع پر پہنچا اور دونوں خواتین کو حراست میں لے لیا۔
3:26 پر انہیں ٹاؤن شپ پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ 4:39 پر شکایت ای ٹیگ ہوئی اور 4:50 پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس کے مطابق 5:20 پر حراست تفتیشی عملے کو منتقل ہوئی اور 5:30 پر خواتین کو ڈیوٹی کلرک کے حوالے کیا گیا۔
پولیس کی فراہم کردہ ٹائم لائن کے مطابق 5:48 پر پہلی خاتون گری، اس کے فوراً بعد دوسری کی حالت بھی بگڑ گئی۔ 6:03 پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی، 6:09 پر امدادی ٹیم پولیس اسٹیشن پہنچی اور 7 بجے دونوں کو جناح اسپتال لایا گیا، جہاں انہیں مردہ حالت میں وصول کیا گیا۔
یہ ٹائم لائن واقعے کے اہم ترین وقفے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے: 5:20 پر تفتیشی عملے کو حراست کی منتقلی سے 5:48 پر پہلی خاتون کے گرنے تک کیا ہوا؟
HRCP کو پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ خواتین تفتیشی عملے کے حوالے کیے جانے کے تقریباً 15 سے 20 منٹ بعد بے ہوش ہوگئیں، اس لیے ان سے باقاعدہ تفتیش کا وقت نہیں ملا۔
CCTV ریکارڈ کیوں اہم ہے؟
اس سوال کا ممکنہ جواب پولیس اسٹیشن کی CCTV فوٹیج میں موجود ہوسکتا ہے۔
پولیس نے HRCP کو بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں تفتیش کی ریکارڈنگ CCTV پر ہوتی ہے، جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق خواتین کی پولیس اسٹیشن میں موجودگی کی کچھ فوٹیج بعد میں میڈیا تک بھی پہنچی۔
تاہم HRCP کو مکمل فوٹیج فراہم نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دستیاب فوٹیج نامکمل تھی اور اس سے خواتین کے حراست میں رہنے کے پورے عرصے میں پیش آنے والے واقعات کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں ایک اہم دستاویزی سوال موجود ہے: اگر خواتین کے تھانے میں داخلے سے لے کر ان کی حالت بگڑنے تک CCTV موجود ہے تو اس کا مکمل اور اصل ریکارڈ کس کے پاس ہے، اسے کس نے محفوظ کیا، اور میڈیا تک پہنچنے والی جزوی فوٹیج کس ذریعے سے جاری ہوئی؟
HRCP نے مکمل، غیر ترمیم شدہ CCTV محفوظ کرنے اور اسے آزاد تحقیقاتی فورم کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔
’’منشیات کے استعمال‘‘ کا دعویٰ اور طبی شواہد
واقعے کے بعد دونوں خواتین کے مبینہ منشیات استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم لاہور کے CCPO نے واضح کیا کہ ان کی موت کو ’’drug addiction‘‘ سے جوڑنا درست نہیں تھا؛ پولیس کے مطابق منشیات کے استعمال کو صرف ایک امکان کے طور پر زیرِغور لایا گیا تھا، جس کی بنیاد مبینہ طور پر دورانِ حراست بیانات اور ایک خاتون کے بازو پر سوئی کے نشانات تھے۔
HRCP سے بات کرنے والے ایک پولیس اہلکار نے تاہم دونوں خواتین کو منشیات استعمال کرنے والا قرار دیا، لیکن مشن کو اس دعوے کی تائید میں کوئی حتمی طبی یا دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
دوسری طرف چوری کے مقدمے کے شکایت کنندہ نے HRCP کو بتایا کہ اس نے خواتین میں نشے یا نشہ آور کیفیت کی کوئی علامت نہیں دیکھی اور ان میں سے ایک خاتون کو اس نے ہوش و حواس میں دیکھا تھا۔
عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹس میں دونوں خواتین کے دل میں خون کے لوتھڑے، پھیپھڑوں میں سیاہی یا دھبے دار کیفیت اور دماغ میں congestion درج کی گئی۔ آمنہ کے بازو پر متعدد سوئی کے نشانات بھی رپورٹ ہوئے، جبکہ انمول کی رپورٹ میں ایسے نشانات درج نہیں تھے۔
لیکن HRCP سے مشاورت کرنے والے تین آزاد طبی ماہرین کے مطابق یہ نتائج غیر مخصوص ہیں اور صرف ان کی بنیاد پر موت کی وجہ یا طریقۂ موت طے نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین نے histopathological اور toxicological تجزیوں سمیت مکمل فرانزک شواہد کی ضرورت پر زور دیا۔
اس لیے دستیاب عبوری طبی شواہد کی بنیاد پر نہ تشدد کو ثابت شدہ وجہ قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ منشیات کے استعمال کو موت کی حتمی وجہ۔
جسمانی چوٹوں سے متعلق متضاد بیانات
اس کیس میں ایک اہم تضاد خواتین کی لاشوں پر مبینہ جسمانی نشانات سے متعلق ہے۔
خاندان نے HRCP کو بتایا کہ جناح اسپتال میں لاشوں کی شناخت کے دوران انہوں نے آمنہ کے چہرے پر خشک خون، کلائی پر نشان اور انمول کے چہرے پر نیل دیکھے۔ خاندان نے کپڑوں کے پھٹے ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
اس کے برعکس HRCP کے مطابق عدالتی مجسٹریٹ کی ابتدائی انکوائری، عبوری پوسٹ مارٹم اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ میں جسم پر ظاہری چوٹ یا نیل کے نشانات درج نہیں کیے گئے۔
یہ تضاد فی الحال حل نہیں ہوا۔ اس کی وضاحت کے لیے اصل پوسٹ مارٹم دستاویزات، تصاویر، فرانزک ریکارڈ اور طبی عملے کے بیانات کی آزادانہ جانچ ضروری ہوگی۔
خواتین پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی
HRCP نے 4 اگست کو ٹاؤن شپ پولیس اسٹیشن میں خواتین پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی کو بھی اہم قانونی اور انتظامی سوال قرار دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اس روز اسٹیشن پر تعینات خواتین اہلکار عرس کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھیں۔ HRCP نے نشاندہی کی کہ خواتین ملزمان کی حراست اور تفتیش کے حوالے سے قانون میں مخصوص حفاظتی تقاضے موجود ہیں۔
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ خواتین اہلکاروں کی عدم موجودگی کے باوجود حراست، جسمانی نگرانی اور قانونی کارروائی کے لیے متبادل حفاظتی انتظامات کیا کیے گئے تھے۔
خاندان کو اطلاع دینے میں تاخیر
پولیس نے خاندان کو بروقت اطلاع نہ دینے کی وجہ خواتین کے پاس شناختی دستاویزات نہ ہونا قرار دی۔
تاہم HRCP نے سوال اٹھایا کہ خواتین تقریباً دو گھنٹے آپریشنز ونگ کے پاس موجود رہیں۔ اس دوران ان کے نام، پتے یا خاندان سے رابطے کی بنیادی معلومات حاصل کی گئی تھیں یا نہیں، یہ واضح نہیں۔
اگر معلومات حاصل کی گئی تھیں تو خاندان کو اطلاع دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اور اگر معلومات حاصل نہیں کی گئی تھیں تو زیرِحراست افراد کے بنیادی کوائف درج نہ کرنا کس نوعیت کی انتظامی ناکامی تھی؟
HRCP نے اس سوال کو بھی حل طلب قرار دیا ہے۔
ریسکیو 1122 کا ریکارڈ: ایک اہم آزاد ذریعہ
واقعے کی ٹائم لائن کی آزادانہ تصدیق کے لیے ریسکیو 1122 کا ریکارڈ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ریسکیو حکام نے HRCP کو بتایا کہ ادارہ ہر ایمرجنسی کال کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھتا ہے، جس میں کال لاگ، گاڑی کی روانگی اور جائے وقوعہ پر پہنچنے کا وقت شامل ہوتا ہے۔ HRCP نے متعلقہ ریکارڈ اور پہلے جواب دینے والے اہلکاروں کے مشاہدات طلب کیے، لیکن رپورٹ کے مطابق بار بار کوشش کے باوجود یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس ریکارڈ سے پولیس کی ٹائم لائن کی آزادانہ تصدیق کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے پولیس اسٹیشن پہنچنے پر خواتین کی جسمانی حالت کس طرح بیان کی تھی۔
جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کس نے کیا؟
HRCP کے مطابق جناح اسپتال کے شعبہ فرانزک میڈیسن کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے بتایا کہ چونکہ اموات پولیس حراست میں ہوئی تھیں، اس لیے ایک ضلعی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور پوسٹ مارٹم Mian Munshi Hospital کے عملے نے جناح اسپتال کے ڈیڈ ہاؤس میں کیا۔
جناح اسپتال کے متعلقہ عملے نے خود لاشوں کا معائنہ نہیں کیا تھا، اس لیے وہ لاشوں پر ممکنہ نشانات یا چوٹوں کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم نہیں کرسکے۔
یہ صورتحال فرانزک chain of custody اور پوسٹ مارٹم کے عمل سے متعلق مزید دستاویزات کی اہمیت بڑھا دیتی ہے۔
لاشوں کی منتقلی اور تدفین
خاندان کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد انہیں لاشوں کو غسل دینے کی اجازت نہیں دی گئی اور پولیس نے دونوں لاشیں پاکپتن منتقل کیں۔
HRCP کو دی گئی معلومات کے مطابق کم از کم 10 سے 12 پولیس گاڑیوں اور ایک ایمبولینس پر مشتمل قافلہ لاشوں کے ساتھ گیا۔ خاندان نے بتایا کہ پاکپتن پہنچنے کے بعد پولیس نے فوری تدفین پر زور دیا، جبکہ خاندان صبح کے وقت تدفین چاہتا تھا۔
HRCP نے تین ذرائع سے یہ بھی تصدیق کی کہ 7 اگست کے بعد کئی دن تک قبر کے مقام پر پولیس موجود رہی اور رسائی محدود رہی۔ پولیس نے بھاری نفری کی وجہ ممکنہ امن و امان کے خدشات کو قرار دیا۔
HRCP نے سفارش کی ہے کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ پولیس کی جانب سے لاشوں کی منتقلی، تدفین اور قبر پر مسلسل موجودگی کا یہ طریقہ پولیس حراست میں ہونے والی اموات کے دیگر مقدمات میں معمول ہے یا نہیں۔
عمروں اور شناخت کا سوال
رپورٹ میں دونوں خواتین کی عمروں کے حوالے سے بھی تضاد سامنے آیا ہے۔
ابتدائی میڈیا رپورٹس میں ان کی عمریں مختلف بتائی گئیں، جبکہ عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹس میں دونوں کی عمر 25 سال درج کی گئی۔ دوسری جانب HRCP کے مطابق حاصل کردہ شناختی دستاویز میں آمنہ کی پیدائش کا سال 2008 درج تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس تضاد کی وضاحت نہیں کی گئی اور دستیاب مواد سے یہ حتمی طور پر طے نہیں ہوتا کہ موت کے وقت دونوں خواتین بالغ تھیں یا نہیں۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ عمر کے تعین سے زیرِحراست خواتین پر لاگو قانونی حفاظتی تقاضے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
اب تک کیا ثابت ہے، اور کیا ثابت نہیں؟
دستیاب فیکٹ فائنڈنگ کی بنیاد پر چند حقائق نسبتاً واضح ہیں:
ثابت شدہ دستاویزی نکات:
دونوں خواتین 4 اگست کو پولیس حراست میں آئیں۔
پولیس کی اپنی ٹائم لائن کے مطابق دونوں کی حالت تھانے میں بگڑی۔
ریسکیو 1122 کو کال کی گئی اور ٹیم پولیس اسٹیشن پہنچی۔
دونوں کو جناح اسپتال مردہ حالت میں پہنچایا گیا۔
عدالتی انکوائری اور عبوری پوسٹ مارٹم میں ظاہری جسمانی تشدد کے نشانات درج نہیں ہوئے۔
عبوری پوسٹ مارٹم کی حتمی طبی تشریح ابھی مکمل نہیں تھی۔
histopathology اور toxicology کے نتائج حتمی نتیجے کے لیے اہم ہیں۔
مکمل CCTV اور Rescue 1122 کے متعلقہ ریکارڈ HRCP کو دستیاب نہیں ہوئے۔
جو ابھی ثابت نہیں:
خواتین کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
خواتین کی موت منشیات کے استعمال سے ہوئی۔
دونوں کی موت قدرتی طور پر ہوئی۔
خاندان کی جانب سے بیان کردہ چوٹیں غلط تھیں یا درست۔
پولیس کی مکمل ٹائم لائن درست یا غلط تھی۔
ان تمام سوالات کے جواب کے لیے مزید آزادانہ فرانزک اور دستاویزی تحقیقات درکار ہیں۔
اگلی تفتیش کے لیے ضروری شواہد
HRCP نے پنجاب حکومت سے لاہور ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں عدالتی ٹریبونل قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ لاشوں کی دوبارہ فرانزک جانچ، histopathology اور toxicology، مکمل CCTV کی حفاظت، پولیس کی ٹائم لائن کو کال لاگز، حراستی رجسٹر اور Rescue 1122 کے ریکارڈ سے ملانے اور خاندان کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
یہ سفارشات اس لیے اہم ہیں کہ اس مرحلے پر دستیاب مواد موت کی حتمی وجہ طے کرنے کے لیے کافی نہیں۔
دراصل آمنہ اور انمول کی پولیس حراست میں ہلاکت کا معاملہ اس وقت کسی ایک حتمی بیانیے میں فٹ نہیں ہوتا۔
پولیس کے مطابق دونوں خواتین اچانک بیمار ہوئیں، بے ہوش ہوئیں اور انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ خاندان نے جسمانی نشانات اور پولیس کے طرزِعمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ عبوری طبی رپورٹس میں کچھ غیر معمولی مشاہدات درج ہیں، لیکن آزاد طبی ماہرین کے مطابق یہ نتائج بذاتِ خود موت کی وجہ ثابت نہیں کرتے۔اس کے ساتھ ساتھ مکمل CCTV، ریسکیو ریکارڈ، حتمی فرانزک نتائج اور حراست کے اہم وقفے سے متعلق مکمل دستاویزات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
اس لیے اس مرحلے پر ذمہ دارانہ صحافتی نتیجہ یہی ہے کہ دونوں خواتین کی موت کی حتمی وجہ اور حراست کے دوران پیش آنے والے واقعات ابھی مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئے تاہم موجود تضادات اتنے اہم ہیں کہ مزید آزادانہ، شفاف اور فرانزک بنیادوں پر تحقیقات کے بغیر اس کیس کو مکمل طور پر بند کرنا مزید سوالات اور تحفظات کو جنم دے گا۔