Skip to content

رشوت کے بغیر تفتیشی ریکارڈ کی عدم فراہمی کا الزام،ڈی پی او آفس اہلکار کے خلاف انکوائری شروع

شیئر

شیئر

مانسہرہ: شہری کو کال پر دھمکیاں دینے کے کیس (FIR 975/2026) میں تفتیشی ریکارڈ کی فراہمی کے عوض ڈی پی او آفس کے اہلکار پر مبینہ رشوت کا سنگین الزام؛ آئی جی پی خیبر پختونخوا کے حکم پر باقاعدہ محکمانہ انکوائری شروع,دوسری طرف تھانوں میں درخواست دینے اور کاروائی کرنے کے لیے مختلف نرخ مقرر ہیں۔پیسے نہ دینے والے شہریوں کی درخواستوں پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی،تھانہ بٹل اورسٹی سمیت مختلف تھانوں سے متعدد شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او مانسہرہ ،ڈی آئی جی ہزارہ، آئی جی خیبر پختونخوا اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے نوٹس لینے اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے زمہ داروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔۔

بٹل (کرائم رپورٹر): مانسہرہ پولیس کے اندرونی نظام میں مبینہ کرپشن، تفتیش میں غیر قانونی رکاوٹ اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے سنگین معاملات سامنے آرہے ہیں۔ سٹی تھانہ مانسہرہ میں درج مقدمہ نمبر 975/2026 کے سائل نے ڈی پی او آفس مانسہرہ میں تعینات ایک اہلکار پر حساس تفتیشی مواد (CDR) روکنے اور اس کے عوض مبینہ طور پر رشوت مانگنے کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر ریجنل پولیس افسر (RPO) ہزارہ نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (DPO) مانسہرہ کو باقاعدہ محکمانہ انکوائری (Departmental Enquiry) کا حکم جاری کر دیا ہے۔مقدمے کا پس منظر اور قانونی دفعات:تفصیلات کے مطابق، سائل کو ایک نامعلوم موبائل نمبر (03445543266) سے کال پر جان سے مارنے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ شہری کی قانونی درخواست پر سٹی تھانہ مانسہرہ میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 506 پی پی سی (جان سے مارنے کی دھمکی) اور 25D ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت مقدمہ نمبر 975/2026 درج کیا گیا تھا۔ اس حساس مقدمے کی تفتیش کے دوران تفتیشی افسر (IO) نے دھمکی آمیز کالز کا سراغ لگانے کے لیے قانونی طریقے (Proper Channel) سے CDR (Call Detail Record) حاصل کرنے کی درخواست متعلقہ دفتر بھیجی تھی، جو کہ اب ڈی پی او آفس مانسہرہ کو موصول ہو چکی ہے۔ڈی پی او آفس کے اہلکار پر سنگین الزامات:متاثرہ شہری نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر باضابطہ شکایت (کوڈ نمبر: KP240826-92774361) درج کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی پی او آفس مانسہرہ میں تعینات "سفیر” نامی ایک پولیس اہلکار، اس حساس تفتیشی ریکارڈ (CDR) کو تفتیشی افسر کے حوالے کرنے کے بدلے مبینہ طور پر غیر قانونی رقم (رشوت) کا تقاضا کر رہا ہے۔ سائل کا الزام ہے کہ مذکورہ اہلکار کی جانب سے انہیں براہِ راست بھی رقم کے لیے ہراساں کیا جا رہا ہے اور رقم نہ دینے کی صورت میں معاملے کو لٹکانے اور دفتر آ کر ملاقات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ناقابلِ تردید آڈیو ثبوتوں کی موجودگی:متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی رقم کی طلبی اور متعلقہ اہلکار کی طرف سے کی جانے والی گفتگو کے تمام تر آڈیو ریکارڈنگز اور وائس نوٹس بطور ثبوت ان کے پاس محفوظ ہیں، جو وہ بوقتِ ضرورت اعلیٰ حکام اور مقرر کردہ انکوائری افسر کے سامنے پیش کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ سائل نے پریس ریلیز میں واضح کیا کہ حساس سرکاری تفتیشی ریکارڈ کو مالی مطالبات سے مشروط کرنا نہ صرف محکمانہ نظم و ضبط اور قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ خیبر پختونخوا پولیس کے وقار اور شفافیت کے دعووں کے بھی منافی ہے۔اعلیٰ حکام کا فوری ایکشن اور موجودہ صورتحال:شہری کی پورٹل پر درج شکایت پر آئی جی پی افسر خیبر پختونخوا کی جانب سے سخت نوٹس لیا گیا، جس کے بعد آر پی او ہزارہ نے گذشتہ روز (25 اگست 2026) اس کیس کو باقاعدہ طور پر ڈی پی او مانسہرہ کو فارورڈ کر کے تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ بٹل کے اہلکار طاہر اور تھامہ سٹی کے اے ایس آئی اجمل کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے درخواست دینے اور واپس لینے کے لیے رشوت طلب کی اور تھانہ بٹل میں تعینات طاہر نامی اہلکار نے بٹل کے رہائشی عثمان کو عوامی مقام پر سرے عام تشدد کا نشانہ بنایا ۔متاثرہ شہری عثمان کے مطابق اس کے دادا کی طرف سے تھانہ میں ایک درخواست دی گئی تھی ،اس درخواست کی بنا پر پہلے طاہر نامی اہلکار نے عوامی مقام پر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر جب دادا تھانہ میں اپنی درخواست لینے گیا تو مذکورہ اہلکار نے درخواست واپس کرنے کے پانچ ہزار رشوت طلب کی اوربدتمیزی بھی کی۔جب اس کو بتایا کہ اس کے پاس صرف دو ہزار روپے ہی ہیں تو طاہر نے کہا کہ پانچ ہزار کے نوٹ سے کم پیسے لینا اس کی توہین ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے آئی جی پی اور آر پی او ہزارہ کی طرف سے ڈی پی او آفس کے اہلکار کے خلاف فوری ایکشن کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے شہریوں کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے اور محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بننے اور وزیر اعلی کے گڈ گورننس پروگرام کو متاثر کرنے والے سرکاری اہلکاروںکے خلاف بلاامتیاز محکمانہ کاروائی کی امید ظاہر کی ہے کہ نی صرف اس انکوائری کو مکمل شفاف بنا کر ملوث اہلکار کے خلاف سخت عبرت ناک قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ تفتیش کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ باقی شکایات کا بھی سختی سے نوٹس لیا جائے گا

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں