Skip to content

ہم ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہیں؟

شیئر

شیئر

تحریر: زعفران چیچی

ہم سب انسان ہیں، مگر ایک جیسے نہیں۔ ہماری سوچ، مزاج، پسند و ناپسند اور زندگی کو دیکھنے کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس فرق کی بڑی وجہ ہماری پرورش، تربیت، خاندانی ماحول، تعلیم، معاشرتی حالات اور زندگی کے تجربات ہیں۔ ہر انسان نے زندگی کو اپنے مخصوص حالات میں دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ کسی نے محبت اور اعتماد کے ماحول میں پرورش پائی، کسی نے سخت حالات میں زندگی سیکھی۔

کسی کے تجربات نے اسے محتاط بنایا تو کسی نے انہی حالات سے بے خوف ہونا سیکھا۔ یہی تجربات آہستہ آہستہ ہماری شخصیت، سوچ اور فیصلوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔اس کے علاوہ انسانوں میں فطری طور پر بھی مزاج اور شخصیت کا فرق ہوتا ہے۔ کوئی خاموش رہ کر سوچتا ہے، کوئی بات کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔

کوئی جذبات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اور کوئی منطق کو۔ کوئی خطرہ مول لینے والا ہے اور کوئی ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔ دو انسان ایک ہی واقعے سے گزریں تو ضروری نہیں کہ دونوں اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کریں۔ اس لیے دو اچھے اور مخلص انسان بھی ایک دوسرے سے مختلف سوچ سکتے ہیں۔

اختلاف ہمیشہ غلطی کی علامت نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ صرف دو مختلف ذہنوں کا فطری اظہار ہوتا ہے۔ہم عموماً Like-minded لوگوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ جو لوگ ہماری طرح سوچتے ہیں، ہماری بات سمجھتے ہیں اور ہماری رائے سے اتفاق کرتے ہیں، ان کے ساتھ رہنا آسان محسوس ہوتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہمارے سامنے کوئی ایسا شخص آتا ہے جو ہم سے مختلف سوچتا یا مختلف انداز میں زندگی گزارتا ہے۔

ہم اس کے اختلاف کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح سوچے، ہماری ترجیحات کو اپنائے اور ہماری توقعات کے مطابق زندگی گزارے۔شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم دوسرے انسان کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنے جیسا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان اپنی ذات میں ایک مکمل کہانی ہے۔ اس کے خیالات کے پیچھے اس کا ماضی، اس کے تجربات، اس کے دکھ، اس کی خوشیاں اور اس کی اپنی زندگی ہے۔

ضروری نہیں کہ جو چیز ہمارے لیے درست ہے، وہ دوسرے کے لیے بھی اسی طرح درست ہو۔ رشتوں کی خوبصورتی اس میں نہیں کہ دو لوگ ہر بات پر متفق ہوں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمیں اپنے جیسے لوگوں کی قربت ضرور پسند ہو سکتی ہے، مگر ہم سے مختلف لوگوں کو قبول کرنا ہماری شخصیت کی پختگی ہے۔

اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، ہر مختلف رائے کو غلط نہ سمجھیں اور ہر انسان کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم دوسروں کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش میں اکثر انہیں کھو دیتے ہیں۔ انسانوں کو ایک جیسا ہونے کی ضرورت نہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سمجھنے، برداشت کرنے اور اپنی اپنی شخصیت کے ساتھ قبول کرنے کا ہنر سیکھیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں