Skip to content

صوبہ ہزارہ کا دارالحکومت تناول کو بنانے کا مطالبہ

شیئر

شیئر

تحریر: قاضی طیب تنولی

عامر ہزاروی صاحب نے ایک ایسا مطالبہ سامنے رکھا ہے جو بظاہر چند الفاظ پر مشتمل ہے، مگر اس کے پیچھے تناول کی ایک طویل تاریخ، بے شمار قربانیاں اور اپنے حق کے حصول کی ایک پوری داستان موجود ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر صوبہ ہزارہ قائم ہوتا ہے تو اس کا صوبائی دارالحکومت تناول میں بنایا جائے اور یہاں ایک نیا، منصوبہ بند شہر آباد کیا جائے، جہاں صوبائی اسمبلی بھی قائم ہو۔
یہ مطالبہ محض کسی عمارت کے مقام کا تعین نہیں، بلکہ تناول کے تاریخی کردار کو تسلیم کرنے اور اسے مستقبل کی تعمیر میں ایک مرکزی مقام دینے کی تجویز ہے۔ جس طرح اسلام آباد کو ایک نئے منصوبہ بند شہر کی صورت میں آباد کرکے پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا، اسی طرح تناول میں بھی ایک جدید شہر آباد کرکے اسے صوبہ ہزارہ کا دارالحکومت بنایا جا سکتا ہے۔
میں عامر ہزاروی صاحب کے اس مطالبے کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ میرے دیرینہ دوست ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس مطالبے کے پیچھے تناول کی تاریخ، اس کی قربانیاں اور اس خطے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ایک مضبوط مقدمہ موجود ہے۔
عامر ہزاروی صاحب کے ساتھ عزت، محبت اور احترام کا تعلق ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس دوران اختلاف بھی ہوا، نوک جھونک بھی ہوئی، ایک دوسرے کے نقطۂ نظر پر بحث بھی ہوئی اور کئی مواقع پر ایک دوسرے سے اتفاق بھی۔ لیکن یہی تو ایک زندہ تعلق کی خوب صورتی ہے کہ اختلاف رشتوں کو کمزور کرنے کے بجائے فکری قربت کا سبب بنے۔ وقت گزرنے کے ساتھ میں ان کی دانش، مطالعے اور معاملہ فہمی کا قائل ہوتا چلا گیا۔
ہماری ملاقات ہو یا گفتگو، موضوع کوئی بھی ہو، بات آخرکار تناول تک ضرور پہنچتی ہے۔ آئندہ ملاقات کا کوئی مقصد ہو تو اس میں بھی تناول شامل ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں؛ یہ اس محبت کا اظہار ہے جو عامر ہزاروی صاحب کو تناول کی مٹی، اس کے لوگوں اور اس کی تاریخ سے ہے۔
اسی محبت نے شاید انہیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ اگر صوبہ ہزارہ ایک حقیقت بنتا ہے تو اس کے سیاسی اور انتظامی مرکز کے لیے تناول کو کیوں نہ سوچا جائے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے تناول کی تاریخ پر نظر ڈالنا ہوگی۔
تناول نے پاکستان کے لیے صرف اپنی زمینیں قربان نہیں کیں، بلکہ اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنی ریاست تک پاکستان کے نام کر دی۔
وہ ریاست جسے تاریخ ریاستِ امب کے نام سے جانتی ہے۔
یہ وہ ریاست تھی جسے سکھ اپنی پوری طاقت کے باوجود زیرِ تسلط نہ لا سکے اور انگریز بھی اس ریاست اور اس کے عوام کو مکمل طور پر اپنے تابع نہ کر سکے۔ مگر پاکستان کے قیام کے وقت تناول کے عوام نے اپنی ریاست پاکستان کو تحفے میں دے دی۔
یہ قربانی معمولی نہیں تھی۔
ریاست صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی؛ اس کے ساتھ ایک قوم کی شناخت، خود مختاری، تاریخ اور آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ تناول کے عوام نے پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے یہ سب کچھ قربان کیا۔
پھر تربیلہ ڈیم بنا۔
دریائے سندھ کے پانی پر بند باندھا گیا، بجلی پیدا ہوئی، پاکستان کے شہر روشن ہوئے، صنعتوں کے پہیے گھومے اور ملک کی معیشت کو توانائی ملی۔ مگر جس خطے نے اس ترقی کی قیمت اپنی زمینوں، بستیوں اور معاشی امکانات کی صورت میں ادا کی، وہ خود آج بھی غربت، پسماندگی اور بے روزگاری کے مسائل سے پوری طرح نجات نہیں پا سکا۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ جس سرزمین نے پاکستان کو روشنی دی، اس کے اپنے گھر روشنی کے منتظر رہے؟
تناول کی قربانی صرف زمین اور جائیداد تک محدود نہیں رہی۔ یہاں کے لوگوں نے اپنے کاروبار، اپنے معاشی امکانات اور اپنی زندگیاں متاثر ہوتے دیکھیں، اپنے عزیزوں کی قربانیاں دیں، مگر پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو کمزور نہیں ہونے دیا۔
اسی لیے جب عامر ہزاروی صاحب کہتے ہیں کہ صوبہ ہزارہ کا دارالحکومت تناول میں قائم کیا جائے تو مجھے اس مطالبے میں محض سیاست دکھائی نہیں دیتی؛ مجھے اس میں تناول کی تاریخ کا ایک سوال سنائی دیتا ہے۔
اگر نیا صوبہ محرومیوں کے ازالے کے لیے بننا ہے، اگر اس کا مقصد عوام کو فیصلہ سازی کے قریب لانا ہے، تو پھر تناول کو اس بحث کے مرکز میں لانا ایک سنجیدہ اور قابلِ غور تجویز ہے۔
اور اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ تناول میں دارالحکومت کہاں قائم ہوگا تو اس کا جواب بھی اسی مطالبے میں موجود ہے: تناول میں ایک نیا، جدید اور منصوبہ بند شہر آباد کیا جائے، جسے صوبہ ہزارہ کا دارالحکومت بنایا جائے۔ اسی دارالحکومت میں صوبائی اسمبلی اور دیگر اہم صوبائی ادارے قائم کیے جائیں۔
اسلام آباد اس کی ایک روشن مثال ہے۔ ایک نیا شہر آباد کیا گیا اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بنایا گیا۔ تو پھر تناول میں ایک نئے شہر کی تعمیر اور اسے صوبہ ہزارہ کا دارالحکومت بنانے کا تصور کیوں ناممکن سمجھا جائے؟
یہ صرف آج کی ضرورت پوری نہیں کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئے سیاسی، معاشی اور انتظامی مرکز کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
عامر بھائی!
تناول سے آپ کی محبت ہم نے برسوں سے دیکھی ہے۔ آپ نے تناول کو صرف اپنی تحریروں کا موضوع نہیں بنایا، اسے اپنے دل کا موضوع بنایا ہے۔ آپ نے اس کے ماضی کو یاد کیا، اس کی قربانیوں کو اجاگر کیا اور اب اس کے مستقبل کے لیے ایک ایسا سوال اٹھایا ہے جس پر اہلِ ہزارہ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
اس کے لیے آپ کا شکریہ۔
آپ نے صرف تناول کے لوگوں کے دل نہیں جیتے، بلکہ اپنی اس محبت سے ہمیں بھی اپنے عشق میں شریک کر لیا ہے۔
میری نظر میں یہ مطالبہ کسی کے خلاف نہیں، تناول کے حق میں ہے۔
اور اگر کبھی صوبہ ہزارہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے سیاسی نقشے میں تناول کو محض ایک پسماندہ خطے کے طور پر نہیں بلکہ اس خطے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس نے پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی ریاست تک قربان کر دی، اپنی زمینیں دیں اور اپنے لوگوں کی قربانیاں پیش کیں۔
تناول نے پاکستان کو بہت کچھ دیا ہے۔
اب وقت ہے کہ پاکستان کے مستقبل میں تناول کو بھی اس کا جائز مقام دیا جائے۔
صوبہ ہزارہ بنے، اس کا دارالحکومت تناول میں قائم ہو، اور تناول کی سرزمین پر ایک نیا شہر آباد کرکے اسے صوبہ ہزارہ کا سیاسی و انتظامی مرکز بنایا جائے۔
یہ صرف ایک مطالبہ نہیں؛
یہ تاریخ کے قرض کا اعتراف ہے،
قربانیوں کو خراجِ تحسین ہے،
اور تناول کے مستقبل کے لیے ایک باوقار خواب ہے۔
جس تناول نے پاکستان کو روشنی دی، اب اس کے مستقبل میں بھی روشنی کا ایک نیا شہر آباد ہونا چاہیے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں