خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کے لیے شناختی کارڈ کا بحران اور گرو رجسٹریشن کی ضرورت
امتیاز — ہزارہ ایکسپریس نیوز، مانسہرہ
قومی شناختی کارڈ (CNIC) کیا ہے ؟
ایک 13 ہندسوں کا کارڈ ہے جو پاکستان کے تمام بالغ شہریوں کے لیے دستیاب ہے، جو رضاکارانہ طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔
اس میں بائیومیٹرک ڈیٹا جیسے 10 فنگر پرنٹس، 2 آئیرس پرنٹس اور چہرے کی تصویر شامل ہیں۔ سی این آئی سی میں قانونی نام، جنس (مرد، عورت یا خواجہ سرا) والد کا نام (یا شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر کا نام) شناختی نشان، تاریخ پیدائش، قومی شناختی کارڈ نمبر، خاندان نمبر، موجودہ اور مستقل پتے، جاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ، دستخط، تصویر اور انگوٹھے کے نشان (فنگر پرنٹ) جیسی تفصیلات شامل ہیں۔
شناختی کارڈ پاکستان میں متعدد لین دین کے لیے ضروری ہے، بشمول ووٹنگ، پاسپورٹ کی درخواستیں، زمین اور گاڑی کی خریداری، ڈرائیونگ لائسنس کا حصول، ٹکٹ کی بکنگ، موبائل سم کارڈ کا حصول، یوٹیلیٹی سروسز تک رسائی، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اور مالی لین دین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ 13 ہندسوں کا نمبر ہر پاکستانی کے لیے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ عدد تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ، جو پانچ ہندسوں پر مشتمل ہے یعنی ‘12101’، اس کا پہلا ہندسہ ‘1’ ہے جو آپ کے صوبے کی شناخت کرتا ہے۔ جن لوگوں کا سی این آئی سی نمبر 1 سے شروع ہوتا ہے، وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے رہائشی ہیں، اسی طرح 2 فاٹا کی نمائندگی کرتے ہیں، 3 پنجاب کے لیے، 4 سندھ کے لیے، 5 بلوچستان کی نمائندگی کرتے، 6 اسلام آباد کے لیے اور 7 گلگت بلتستان صوبے کی نمائندگی کرتے۔ شناختی کارڈ نمبر میں دوسرا ہندسہ آپ کی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر ایک ہندسہ صوبے میں ایک مختلف ڈویژن کی نشان دہی کرتا ہے، جبکہ باقی تین ہندسے آپ کے ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سی این آئی سی نمبر کا دوسرا اور درمیانی حصہ، جو سات ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے جسے ہائفن یعنی XXXXX-1234567-X سے الگ کیا جاتا ہے، بنیادی طور پر ایک شہری کے خاندانی نمبر کا کوڈ ہوتا ہے۔ یہ کوڈ شہری کا شجرہ نسب بناتا ہے۔ ہائفن کے بعد تیسرا حصہ (آخری ہندسہ) کسی شخص کی جنس کی نمائندگی کرتا ہے۔ مرد کے لیے 1، 3، 5، 7، 9 جیسے مخصوص ہندسے استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے 0، 2، 4، 6، 8 جیسے ہندسے استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح نادرا کے خودکار نظام کے ذریعے ریاست پاکستان کے ہر شہری کی قومی شناختی کارڈ یعنی سی این آئی سی نمبر تیار کیا جاتا ہے۔

شناخت صرف ایک کارڈ نہیں
پاکستان میں قومی شناختی کارڈ محض ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ شہریت، قانونی شناخت اور بنیادی حقوق تک رسائی کی بنیاد ہے۔ ووٹ ڈالنے سے لے کر پاسپورٹ کے حصول، سرکاری ملازمت، صحت کی سہولیات، بینک اکاؤنٹ، کاروبار، تعلیم اور سماجی تحفظ کے پروگراموں تک تقریباً ہر شعبے میں شناختی کارڈ بنیادی ضرورت ہے۔ اگر کسی شہری کے پاس شناختی کارڈ نہ ہو تو وہ عملاً ریاستی نظام سے باہر ہو جاتا ہے۔
اگر قومی شناختی کارڈ ووٹ، پاسپورٹ، تعلیم، صحت، بینکنگ، جائیداد، روزگار اور قانونی تحفظ سمیت تقریباً ہر بنیادی سہولت کی کنجی ہے، تو پھر ان شہریوں کا کیا بنے گا جن کی شناخت ہی ابھی تک تسلیم نہیں کی گئی؟
شناخت سے محرومی صرف ایک کارڈ سے محرومی نہیں، بلکہ شمار نہ کیے جانے، نظرانداز ہونے اور بنیادی حقوق سے محرومی کی ایک مسلسل زنجیر ہے۔
قانون موجود، لیکن مشکلات برقرار
2018 کے قانون کے تحت خواجہ سرا افراد کو اپنی صنفی شناخت کے مطابق شناختی کارڈ حاصل کرنے کا حق دیا گیا، لیکن خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں یہ حق آج بھی عملی طور پر مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ سرکاری مردم شماری 2023 کے مطابق خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کی تعداد 1,999 ہے، جبکہ مقامی تنظیموں اور کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق رجسٹریشن کے پیچیدہ عمل، خاندانی اخراج اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سے افراد سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن پاتے۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کا مطلب صرف ایک دستاویز سے محرومی نہیں، بلکہ شہریت، وقار اور بنیادی حقوق سے محرومی بھی ہے۔
یہ کہانی صرف ان دو افراد کی نہیں، بلکہ ان بے شمار خواجہ سرا پاکستانیوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کی شناخت، تحفظ اور بنیادی حقوق آج بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

مانو کی کہانی: جب ریاست نے شناخت تسلیم کی
34 سالہ مانو ان خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہیں "ایکس” شناخت کے ساتھ قومی شناختی کارڈ مل چکا ہے۔ مانو نے اپنا شناختی کارڈ اسلام آباد میں بنوایا، جہاں ان کے مطابق طریقہ کار نسبتاً آسان اور واضح تھا۔
مانو کہتی ہیں: "پہلے مجھے لگتا تھا کہ میں اس ملک میں موجود ہی نہیں ہوں۔ جب شناختی کارڈ ملا تو پہلی بار محسوس ہوا کہ ریاست نے مجھے تسلیم کیا ہے۔”
ان کے مطابق شناختی کارڈ ملنے کے بعد سفر، علاج، بینک اکاؤنٹ اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی نسبتاً آسان ہو گئی۔

شانو کی کہانی: شناخت کے لیے طویل انتظار
تقریباً 45 سالہ شانو کئی برسوں سے "ایکس” شناختی کارڈ کے حصول کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: "میں ہر دفتر کے چکر لگا چکی ہوں، لیکن آج تک میری شناخت ثابت نہیں ہو سکی۔” شانو کے مطابق ایک طرف نادرا سے بعض دستاویزات کا مطالبہ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف محکمہ سماجی بہبود سے درکار تصدیقات حاصل کرنا بھی آسان نہیں، جس کے باعث درخواست گزار ایک پیچیدہ انتظامی عمل میں پھنس جاتے ہیں۔
خاندان سے بے دخلی اور وراثتی تنازع
شانو کے مطابق سولہ سال کی عمر میں ان کو گھر سے نکال دیا، اور یوں! انکو ایک حواجہ سرا گورو (استاد) کی ڈیرے کی دہلیز پر قدم رکھنے سے زندگی جینے کا ایک دوسرا موقع ملتا ہے، لیکن یہ زندگی مشکلات سے بھری ہے، شانو کے مطابق "ایک دن بجلی کی شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ کی لپیٹ میں سب کچھ جل گیا تھا بشمول ان کے تعلیمی اسناد”۔
وہ کہتی ہیں "میں ایک انسان ہوں؛ باقی انسانوں کی طرح۔۔۔ اگر چہ میرا کوئی شناخت نہیں،،،، آور نہ کوئی مجھے انسان ماننے کو تیار ہے ۔ صرف قانون بنانے سے کیا ہوسکتا ہے؟ جب معاشرے کی ہر فرد اور ادارہ اپنی رویئے بدلنے کو تیار نہیں ۔
شانو کے مطابق والدہ کے انتقال کے بعد جائیداد کے تنازع کی وجہ سے ان کے بھائیوں نے انہیں خاندانی ریکارڈ سے خارج کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے حصے میں آنے والی قیمتی جائیداد پر قبضہ کر لیا گیا، جس کے باعث ان کے لیے خاندانی دستاویزات تک رسائی بھی مشکل ہو گئی۔
مقامی سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مدد سے انہوں نے اپنے تعلیمی ریکارڈ اور دیگر دستاویزات دوبارہ حاصل کیے، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود شناختی کارڈ جاری نہیں ہو سکا۔
شناختی کارڈ نہ ہونے کی قیمت
شانو کے مطابق شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے:
- تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوا۔
- سرکاری اور نجی ملازمتوں کے مواقع محدود ہو گئے۔
- بینک اکاؤنٹ اور کاروبار ممکن نہ رہا۔
- پاسپورٹ، بیرون ملک سفر، حج اور عمرہ کی خواہش ادھوری رہ گئی۔
- ووٹ ڈالنے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق استعمال نہیں کیا جا سکا۔
- صحت کارڈ اور دیگر سرکاری سہولیات سے فائدہ اٹھانا مشکل ہو گیا۔
- مکان کرائے پر حاصل کرنے میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے شانو نہ ووٹ ڈال سکتی ہیں، نہ انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں، نہ سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں، نہ کاروبار رجسٹر کروا سکتی ہیں اور نہ ہی صحت کارڈ جیسی فلاحی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق رہائش کے حصول میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "جہاں دوسرے افراد دس یا بیس ہزار روپے میں گھر کرائے پر لے لیتے ہیں، وہاں ہم سے کئی گنا زیادہ رقم طلب کی جاتی ہے۔”
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے شکایات
شانو کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرنا بھی ان کے لیے آسان نہیں۔ ان کے مطابق زخمی حالت میں بھی شکایت لے کر جانے کی صورت میں انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور بعض اوقات تضحیک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شانو ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ایک معاملے کے سلسلے میں پولیس دفتر گئیں تو وہاں موجود ایک اعلیٰ افسر نے ان کے ساتھ توہین آمیز لہجے میں گفتگو کی۔
شانوں کہتی ہے "اس اعلیٰ عہدے پر فائز افسر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہو؛ میں نے جواب دیا، پشاور سے، تو افسر فرمانے لگا کہ پھر یہاں اپنی ماں کی چہوت مروانے آئی ہو””
وہ کہتی ہیں: "اگر میرے پاس شناختی کارڈ ہوتا تو شاید مجھے بار بار اس قسم کی ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔” شانو کا مزید کہنا ہے کہ کئی مرتبہ رپورٹ درج ہونے کے باوجود متاثرین کو انصاف نہیں ملتا اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
نادرا دفاتر میں مایوسی
شانو کے مطابق اگر تمام دستاویزات مکمل بھی ہوں تو کئی مرتبہ درخواست گزاروں سے تصویر اور بائیومیٹرک معلومات لینے کے بعد ٹوکن دے دیا جاتا ہے، لیکن بعد میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی درخواست مطلوبہ شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسترد ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اکثر درخواست گزاروں کو مسترد ہونے کی وجوہات واضح طور پر نہیں بتائی جاتیں۔

ہسپتال میں مشکلات
چند دن قبل طبیعت خراب ہونے پر شانو کو ہسپتال میں داخلے کے دوران بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود نہیں تھا۔ اؤر علاج کی سہولیات تک رسائی قومی شناختی کارڈ کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ہوتا ۔
شانو کہتی ہیں: "میری زندگی کی آخری خواہش حج اور عمرہ ادا کرنا ہے، لیکن شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے بغیر شاید یہ خواب کبھی پورا نہ ہو سکے۔”
سات اضلاع میں ایک بھی رجسٹرڈ گرو موجود نہیں
کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق خیبر پختونخوا کے سات بڑے اضلاع میں ایک بھی رجسٹرڈ خواجہ سرا گرو موجود نہیں۔ قانون کے مطابق اگر کسی گرو کے پاس "ایکس” شناختی کارڈ موجود ہو تو وہ اپنے چیلا کے لیے سرپرست کے طور پر معاونت کر سکتے ہیں۔
شانو کے زیر سرپرستی 103 چیلا موجود ہیں، لیکن ان کی اپنی قانونی شناخت نہ ہونے کے باعث یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ شانو کی کہانی صرف ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں شناخت سے محرومی بنیادی حقوق سے محرومی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کمیونٹی کارکنوں کے مطابق گرو رجسٹریشن کا فقدان سینکڑوں افراد کو شناخت کے عمل سے محروم کر رہا ہے۔
اور اگر ایک بھی خواجہ سرا گرو رجسٹرڈ نہ ہو تو آنے والی نسلوں کے لیے شناخت کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوگا؟

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
سرکاری مردم شماری 2023 کے مطابق خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کی کل تعداد 1,999 ہے۔ اس سے قبل 2017 کی مردم شماری میں یہ تعداد 913 ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب خواجہ سرا حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیموں اور کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق بہت سے خواجہ سرا افراد خاندانی، سماجی اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے، جبکہ کئی افراد رجسٹریشن کے پیچیدہ عمل، آگاہی کی کمی اور دستاویزی مسائل کے باعث سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن پاتے۔ نادرا کے نظام میں "ایکس” شناخت کے اندراج کی سہولت موجود ہے، تاہم کمیونٹی کارکنوں کے مطابق تمام خواجہ سرا افراد کے پاس "ایکس” شناختی کارڈ موجود نہیں۔ بعض افراد مرد یا عورت کے طور پر رجسٹر ہیں، جبکہ بہت سے افراد اب بھی کسی بھی قسم کی سرکاری شناخت سے محروم ہیں۔
اگر ریاست کے پاس خواجہ سرا افراد کی درست تعداد ہی موجود نہ ہو، تو ان کی ضروریات، مسائل اور حقوق کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کیسے ممکن ہوگی؟
ماہرین کے مطابق درست اعداد و شمار کی عدم موجودگی نہ صرف خواجہ سرا برادری کی حقیقی آبادی کا تعین مشکل بناتی ہے بلکہ صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، رہائش اور روزگار سے متعلق حکومتی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک رجسٹریشن کے عمل کو آسان، شفاف اور قابل رسائی نہیں بنایا جاتا، تب تک ہزاروں خواجہ سرا افراد سرکاری ریکارڈ، فلاحی پروگراموں اور بنیادی شہری حقوق سے محروم رہیں گے۔ کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق خواجہ سرا گروؤں کی رجسٹریشن اور "ایکس” شناختی کارڈ کے حصول کے لیے واضح طریقہ کار نہ صرف درست اعداد و شمار کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ مستقبل میں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور قانونی حقوق سے متعلق بہتر پالیسی سازی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
مثبت اقدامات، مگر ایک بنیادی رکاوٹ
خیبر پختونخوا حکومت نے تمام سرکاری محکموں میں خواجہ سرا افراد کے لیے 0.5 فیصد ملازمت کا کوٹہ مختص کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت محکمہ جیل خانہ جات میں تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا افراد کو جیل وارڈن کے طور پر بھرتی کیا گیا۔ محکمہ تعلیم نے بھی دو فیصد کوٹہ مختص کیا ہے جبکہ محکمہ سماجی بہبود نئی رجسٹریشن کے عمل پر کام کر رہا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک شناختی کارڈ کے حصول کا طریقہ کار واضح، آسان اور قابل رسائی نہیں ہوگا، اس وقت تک یہ تمام سہولیات اور کوٹے ہزاروں افراد کے لیے محض اعلانات ہی رہیں گے۔

پنجاب اور اسلام آباد سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
دوسری جانب پنجاب اور اسلام آباد میں بعض مثبت اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان میں تحفظ مراکز، صحت کی سہولیات، سماجی معاونت، روزگار کے مواقع اور بعض معاملات میں نسبتاً آسان انتظامی طریقہ کار شامل ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی ایسے اقدامات خواجہ سرا افراد کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

حل کیا ہے؟
ماہرین اور سماجی کارکنوں کے مطابق:
- نادرا اور محکمہ سماجی بہبود کے درمیان واضح اور یکساں طریقہ کار وضع کیا جائے۔
- ضلعی سطح پر خصوصی سہولت مراکز قائم کیے جائیں۔
- خواجہ سرا گروؤں کی رجسٹریشن کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے۔
- پولیس، ہسپتالوں اور سرکاری اداروں کے عملے کو حساسیت اور انسانی حقوق سے متعلق تربیت دی جائے۔
- قانونی معاونت اور وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
- رجسٹریشن کے عمل سے متعلق آگاہی مہم شروع کی جائے۔
- شناختی دستاویزات سے محروم افراد کے لیے خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔
● وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
● صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے پروگراموں تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے۔
- شناختی کارڈ کے بغیر علاج اور ہنگامی طبی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
- وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
- پارلیمنٹ میں حواجہ سرا کے لیے خصوصی نشست دی جائیں تاکہ انکا بھی ریاست کے ساتھ ایک فعال سماجی رابطہ ہو۔
- حواجہ سرا کمیونٹی کے لیے خصوصی انتخابات اور انتخابی حلقوں کا نظام وضع کیا جائے۔
- خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ گروؤں کے ذریعے چیلا کی سرپرستی کے قانونی نظام کو فعال بنایا جائے۔
ایک بنیادی سوال
شانو آج بھی اپنے شناختی کارڈ کی منتظر ہیں۔
ان کی خواہش صرف ایک دستاویز حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک شہری کے طور پر تسلیم کیا جانا ہے۔
اور شاید ان کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:
اگر کسی شہری کی شناخت ہی تسلیم نہ کی جائے تو وہ اپنے آئینی، مذہبی اور انسانی حقوق کیسے حاصل کر سکتا ہے؟
اگر قومی شناختی کارڈ ووٹ، تعلیم، صحت، روزگار، بینکاری، پاسپورٹ اور قانونی تحفظ سمیت تقریباً ہر بنیادی حق کی کنجی ہے، تو ان شہریوں کا کیا بنے گا جن کی شناخت ہی ابھی تک تسلیم نہیں کی گئی؟؟؟

اداریہ نوٹ
اس رپورٹ کے لیے ابتدائی طور پر ایک مختصر ویڈیو دستاویزی فلم تیار کرنے کا ارادہ تھا۔ تاہم موجودہ حالات، پولیس کارروائیوں اور بعض اضلاع میں خواجہ سرا افراد کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر اس منصوبے کو مؤخر کر دیا گیا۔ اس رپورٹ میں شامل بعض نام اور شناختی تفصیلات تبدیل یا محدود رکھی گئی ہیں تاکہ متعلقہ افراد کی رازداری، سلامتی اور وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ رپورٹ کئی ماہ کے مشاہدے، غیر رسمی ملاقاتوں، کمیونٹی رہنماؤں سے گفتگو اور متعلقہ دستاویزات کے جائزے پر مبنی ہے۔ مصنف نے جان بوجھ کر ایسے بصری مواد، مقامات اور ذاتی تفصیلات شامل نہیں کیں جن سے رپورٹ میں شامل افراد کی شناخت ظاہر ہونے یا ان کی زندگی اور معاش کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہو۔
انسانی حقوق اور تحقیقی اخلاقیات کے اصولوں کے مطابق، اس رپورٹ میں حقائق کی فراہمی کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دی گئی ہے۔


