Skip to content

نئے صوبوں کاقیام۔۔۔۔ نظام کی بھی خبر لیں

شیئر

شیئر

عمر خان جوزوی

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔اہم حکومتی وزیر کے پھینکے گئے ایک دانے پرسب ٹوٹ پڑے ہیں۔ نئے صوبوں کے حوالے سے اس وقت مختلف سیاسی جماعتیں، علاقائی تنظیمیں اور سماجی حلقے اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ کہیں صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔کہیں پنجاب اور سندھ میں الگ صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے، توکہیں ملک کے دیگر علاقوں کے لئے بھی نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔

نئے صوبوں کے مطالبے اپنی جگہ مگراصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کے قیام سے واقعی ہمارے یہ مسائل حل اور بیٹھا ہوا سسٹم اٹھ جائے گا۔؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں آبادی، رقبے اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر وقتاً فوقتاً نئے صوبے، ریاستیں یا انتظامی اکائیاں قائم کی جاتی رہی ہیں۔ اس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، انتظامی معاملات کو مؤثر بنانا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

اس اعتبار سے اگر ملک میں صوبہ ہزارہ کی طرح دیگر کسی علاقے میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے لیکن یہاں ایک اہم اور بنیادی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ نئے صوبوں کی بنیاد لسانی، نسلی یا تعصبانہ سوچ نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔

اگر صوبوں کی تقسیم زبان، نسل یا علاقائی جذبات کی بنیاد پر ہوگی تو اس سے قومی یکجہتی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمارا یہ پیارا وطن مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا حسین گلدستہ ہے۔ اس لئے یہاں ہونے والا ہر فیصلہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانے والا ہونا چاہیے نہ کہ ملک وقوم کی تقسیم کو فروغ دینے والا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ نظام صرف اس لئے ناکام ہے کہ ملک میں چار صوبے ہیں اور جیسے ہی آٹھ یا دس صوبے بن جائیں گے تمام مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ یہ سوچ حقیقت سے تھوڑانہیں بلکہ بہت دور ہے۔

اگر موجودہ انتظامی ڈھانچے میں شفافیت، احتساب، میرٹ،قانون کی بالادستی اور اچھی حکمرانی موجود نہیں تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے عوام کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جو لوگ نئے صوبوں کو مسائل کا حل اورترقی کا زینہ قرار دے رہے ہیں ان کی خدمت میں بس اتنی سی گزارش ہے کہ اگر ہم موجودہ چار صوبوں کے اندر تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں نہیں چلا پا رہے تو کیا صرف مزید صوبے بنا دینے سے ہمارے یہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔؟

یقیناً نہیں۔ کیونکہ ہمارا مسئلہ صوبوں کی تعداد سے زیادہ نظام حکمرانی کا ہے۔ جب تک ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، کرپشن پر قابو نہیں پایا جائے گا،اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کئے جائیں گے اور فیصلے میرٹ پر نہیں ہوں گے تب تک عوام کو حقیقی ریلیف ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے لیکن اس کایہ مطلب بھی نہیں کہ نئے صوبے نہ بنائے جائیں یاان کی مخالفت کی جائے۔

ہمارے ہزارہ کی طرح جہاں آبادی، رقبہ، جغرافیہ اور انتظامی ضروریات اس بات کا تقاضا کریں کہ عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے نئے صوبے بنائے جائیں وہاں بلا جھجھک ایسا ہونا چاہیے۔صوبہ ہزارہ سمیت ملک کے ہر اس خطے میں جہاں عوام کو دور دراز دارالحکومتوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے وہاں نئے صوبوں کے قیام پر آئینی اور قومی اتفاق رائے کے ساتھ پیش رفت ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

اگر اختیارات اور وسائل ضلعی اور تحصیل سطح تک منتقل نہ کئے جائیں تو نئے صوبے بھی وہی مسائل لے کر چلیں گے جو آج موجود ہیں۔ مضبوط بلدیاتی نظام ہی عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر حکمرانی فراہم کر سکتا ہے۔آج ملک کو سب سے زیادہ ضرورت سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اصلاحات کی ہے۔

نئے صوبے اگر انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور متوازن ترقی کے لئے بنائے جائیں تو یقیناً یہ ایک مثبت قدم ہوگا لیکن اگر انہیں صرف سیاسی مفادات، انتخابی وعدوں یا لسانی جذبات کو ہوا دینے کے لئے استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج ملک کے لئے سودمند نہیں ہوں گے۔اس لئے ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ ملک میں نئے صوبے ضرور بننے چاہئیے مگر یہ صرف انتظامی و عوامی ضرورت کے مطابق۔ جس طرح صوبہ ہزارہ یہ انتظامی ضرورت بھی ہے اور عوامی ڈیمانڈ بھی۔

اس صوبے کے لئے مرحوم بابا سردار حیدر زمان سمیت ہزارہ کے عوام نے بڑی قربانیاں دیں۔ ہم نے اپنی ان گنہگار آنکھوں سے بابا حیدر زمان کو عمر کے آخری حصے میں بیماری و بزرگی کے باوجود صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے جدوجہدکرتے دیکھا۔بابا نسلی، لسانی اور تعصب سے بالاتر ہو کر خالص انتظامی و عوامی ضروریات کے پیش نظرصوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے جدوجہدکرتے رہے۔

صوبہ ہزارہ سمیت ملک میں دیگر نئے صوبوں کا قیام ہماری بھی خواہش اورچاہت ہے۔ صوبہ صوبہ کھیلنے اور صوبوں کی راگ الاپنے والوں کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں نئے صوبے بنیں لیکن ہم یہ بھی واضح کرناضروری سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی کا راز صرف نئے صوبوں میں نہیں بلکہ ایک مضبوط، شفاف، خودمختار، جوابدہ اور عوام دوست نظام میں پوشیدہ ہے۔ نئے صوبے ضرورت کے تحت ضرور بننے چاہییں مگر یہ سمجھنا کہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے یہ افسانہ حقیقت سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔

جب تک نظام درست نہیں ہوگا، حکمران اور سیاستدان فیصلوں میں آزاد، ادارے مضبوط اور قانون سب کے لئے برابر نہیں ہوگا اس وقت تک نہ چار پانچ صوبے عوام کو کوئی ریلیف دے سکتے ہیں اور نہ ہی آٹھ یا دس۔ اصل منزل نظام کی اصلاح ہے کیونکہ مضبوط نظام ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ا

س لئے آپ دس نہیں بیس صوبے بنالیں لیکن اس سے پہلے اس نظام کی بھی کچھ خیرخبرلیں تاکہ کم ازکم یہ اپنے پاؤں پر کھڑا تو ہو سکے۔ ہاتھی کی طرح بیٹھنے والے اس نظام میں ایک نہیں اگر سو صوبے بھی بن جائیں تو بھی اس کا حال یہی ہوگا۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں