Skip to content

زیشان پرویز : میں استادِ محترم پرویز صاحب کا سامنا کیسے کروں گا؟

شیئر

شیئر

تحریر : راشد خان سواتی

کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے انسان کے پاس آنسو تو ہوتے ہیں، مگر الفاظ نہیں ہوتے۔ کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد دل چاہتا ہے کہ انسان خاموش رہے، کیونکہ کوئی بھی لفظ اس دکھ کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

آج میں بھی اسی کیفیت سے گزر رہا ہوں۔

میرے دوست، میرے سینئر، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ کے میرے کولیگ، بھائیوں جیسا احساس رکھنے والے، معصوم صورت و سیرت کے حامل زیشان پرویز صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

میں اپنے سٹاف کو کیسے تسلی دوں؟
اپنے ساتھیوں کو کیا کہوں؟
اور سب سے بڑھ کر، میں اپنے استادِ محترم، زیشان کے والد پرویز صاحب کا سامنا کیسے کروں گا؟

وہ پرویز صاحب جن سے جب بھی ملاقات ہوئی، جن سے جب بھی گفتگو ہوئی، ان کی باتوں میں اپنے بیٹے زیشان کا ذکر ضرور آتا تھا۔ ان کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کے لیے محبت، فخر اور امید صاف دکھائی دیتی تھی۔

آج میں ان کے سامنے کیسے جاؤں گا؟

میرے پاس ان کے لیے تسلی کے الفاظ کہاں سے آئیں گے؟

میں دبئی پبلک سکول کے سامنے سے کیسے گزروں گا؟

وہ جگہ جہاں معصوم علی اپنے دادا، چچا اور گھر والوں کے درمیان، اپنے بابا زیشان اور اپنی ماں کی محبت کے سائے میں، ایک موذی بیماری کے ساتھ لڑتے ہوئے بھی زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کی کوشش کر رہا تھا۔

علی کی بیماری کے دنوں میں میں زیشان صاحب کو تسلی دیتا تھا۔ ان کے حوصلے کو سلام کرتا تھا کہ وہ اپنے بچے کے لیے کس استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آج وہی علی اپنے بابا اور اپنی مما دونوں سے محروم ہو گیا۔

میں علی کو کیسے تسلی دوں گا؟

جس بچے کے لیے میں کبھی اس کے بابا کو حوصلہ دیا کرتا تھا، آج اسی بچے کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔

اور عدنان پرویز کا سامنا کیسے کروں گا؟

وہ عدنان پرویز، جو زیشان صاحب کے حوالے سے مجھے جس عزت، محبت اور اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے تھے، آج ان کے سامنے بھی میرے پاس کہنے کو شاید کچھ نہیں۔

یہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں۔

یہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ کا نقصان ہے۔
یہ محکمہ تعلیم کا نقصان ہے۔
یہ ہزارہ کے علمی و تدریسی حلقے کا نقصان ہے۔

ہم نے ایک ایسے محنتی، قابل اور علم دوست پی ایچ ڈی اسکالر، ماہرِ مضمون انگریزی کو کھو دیا جس کے سامنے ایک روشن تدریسی اور انتظامی مستقبل موجود تھا۔ وہ مستقبل کے ایک قابل پرنسپل کی صلاحیت رکھنے والے استاد تھے۔

ان کی تدریسی خوبیاں محض کتابوں سے حاصل نہیں ہوئی تھیں؛ یہ ایک ایسے علمی ورثے کا تسلسل تھیں جو انہیں اپنے والد، ہمارے استادِ محترم پرویز صاحب سے ملا تھا۔

زیشان صرف ایک استاد نہیں تھے۔
وہ ایک شفیق ساتھی تھے۔
ایک محبت کرنے والے بیٹے تھے۔
ایک ذمہ دار بھائی تھے۔
ایک باپ تھے۔
اور ایک ایسے انسان تھے جن کی معصوم صورت کے ساتھ ان کی سیرت میں بھی ایک عجیب سی سادگی اور خلوص تھا۔

آج ان کی کرسی خالی ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ خالی پن ہمارے دلوں میں ہے۔

گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ نے ایک قابل استاد کھویا ہے، لیکن ہم نے اس سے کہیں بڑھ کر ایک بھائی جیسا دوست کھویا ہے۔

اور میں یہ سوچ کر بھی لرز جاتا ہوں کہ استادِ محترم پرویز صاحب، جنہوں نے اپنی زندگی علم اور شاگردوں کی تربیت میں گزاری، آج اپنے ہی بیٹے کے لیے تعزیتی کلمات سن رہے ہوں گے۔

ایک باپ کے لیے اس سے بڑا امتحان شاید کوئی نہیں۔

یا اللہ!

اس المناک حادثے میں دنیا سے رخصت ہونے والے زیشان پرویز صاحب، ان کی اہلیہ اور ان کے معصوم صاحبزادے کی کامل مغفرت فرما۔

ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔
ان کے درجات بلند فرما۔
انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔

یا رب العالمین!
ہمارے استادِ محترم پرویز صاحب، ان کے خاندان اور تمام سوگوار اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرما۔
علی کو اپنی خاص رحمت، حفاظت اور شفقت میں رکھ۔
اس ننھے بچے کے لیے آسانیاں پیدا فرما اور اسے اپنے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔

اور ہمیں توفیق دے کہ زیشان پرویز صاحب کی علمی، اخلاقی اور تدریسی میراث کو آگے بڑھا سکیں۔

زیشان! آپ چلے گئے، مگر آپ کے والد کی آنکھوں میں آپ کی یاد، آپ کے ساتھیوں کے دلوں میں آپ کی محبت، آپ کے شاگردوں کے ذہنوں میں آپ کی تعلیم اور علی کی زندگی میں آپ کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔

آج میرے پاس آپ کے لیے الوداع کے الفاظ بھی نہیں۔

بس دل میں ایک سوال ہے، جس کا جواب شاید عمر بھر نہ مل سکے:

"زیشان! میں آپ کے والد، اپنے استادِ محترم پرویز صاحب کا سامنا کیسے کروں گا؟”

اللہ تعالیٰ آپ تینوں کی کامل مغفرت فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں