Skip to content

نیا نیوز انفارمیشن آرڈر: خبر کون بناتا ہے، سچ کون طے کرتا ہے؟

شیئر

شیئر

تحریر: شیر افضل گوجر

کبھی خبر ایک نسبتاً سادہ عمل کا نام تھی۔ ایک واقعہ پیش آتا، صحافی موقع پر پہنچتا، معلومات جمع کرتا، متعلقہ ذرائع سے تصدیق کرتا، خبر تحریر کی جاتی اور پھر کوئی اخبار، ریڈیو یا ٹیلی وژن اسے عوام تک پہنچا دیتا۔ خبر کے اس سفر میں دروازے محدود تھے اور ان دروازوں پر کھڑے لوگوں (Watch Dog)کی ذمہ داری واضح تھی۔ ایڈیٹر طے کرتا تھا کہ کون سی خبر اہم ہے، رپورٹر اس کی تصدیق کرتا تھا اور ادارہ اس کے عوام تک پہنچنے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔

ڈیجیٹل انقلاب نے اس پورے نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ آج خبر صرف نیوز روم میں پیدا نہیں ہوتی۔ ایک شہری اپنے موبائل فون سے کسی واقعے کی ویڈیو بناتا ہے، عینی شاہد اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے، کوئی influencer اس پر تبصرہ کرتا ہے، الگورتھم اسے ہزاروں یا لاکھوں صارفین تک پہنچاتا ہے، کوئی دوسرا صارف اسے نئی سرخی یا مختلف تناظر کے ساتھ دوبارہ شائع کرتا ہے اور مصنوعی ذہانت اس کی تصویر، آواز یا ویڈیو تک تبدیل کر سکتی ہے۔ چند گھنٹوں میں اصل واقعہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اس کے گرد پیدا ہونے والی تعبیر، جذبات اور سیاسی بیانیہ خود ایک بڑی خبر بن جاتے ہیں۔

یہ صرف میڈیا کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار کی کہانی نہیں۔ یہ ایک نئے News Information Order کی تشکیل ہے؛ ایسا معلوماتی نظم جس میں صرف یہ طے نہیں ہوتا کہ خبر کیا ہے، بلکہ یہ بھی طے ہوتا ہے کہ کون سی خبر سامنے آئے گی، کس کی آواز سنی جائے گی، کس دعوے کو اعتبار ملے گا، کس مواد کو زیادہ visibility حاصل ہوگی اور کون سی معلومات شور میں دب کر رہ جائیں گی۔

اس نئے نظام کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ معلومات کا بہاؤ اب محض صحافتی معاملہ نہیں رہا۔ معلومات جس رفتار سے گردش کرتی ہیں، جس انداز سے ان کی درجہ بندی ہوتی ہے اور جس پیمانے پر انہیں عوام تک پہنچایا جاتا ہے، وہ معاشرے کی ترجیحات، سیاسی رویوں، اجتماعی خوف، عوامی اعتماد اور بالآخر فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

روایتی میڈیا کے دور میں نیوز ایڈیٹر information gatekeeper تھا۔ اخبار کا صفحۂ اول، ٹیلی وژن کا بلیٹن اور ریڈیو کا نیوز بلیٹن اسی ادارتی اختیار کے ذریعے تشکیل پاتے تھے۔ یہ طاقت محدود ضرور تھی، مگر اس کی ذمہ داری بھی واضح تھی۔ ڈیجیٹل دور نے gatekeeping ختم نہیں کی؛ اس نے اسے مختلف مراکز میں تقسیم کر دیا ہے۔

اب editor کے ساتھ Google کا search algorithm، Facebook کا recommendation system، TikTok کا “For You” page، YouTube کا recommendation engine، influencer، social media administrator اور بڑی audience رکھنے والا عام صارف بھی information gatekeeper بن سکتا ہے۔ اس طرح معلوماتی نظام میں طاقت کے مراکز بڑھ گئے ہیں، مگر ان کی نوعیت اور جواب دہی یکساں نہیں۔

یہ تبدیلی اس لحاظ سے اہم ہے کہ اب کسی خبر کی اہمیت صرف اس کی صحافتی قدر سے طے نہیں ہوتی۔ اس کی visibility بھی ایک الگ نظام سے متاثر ہوتی ہے۔ ایک خبر انتہائی اہم، درست اور عوامی مفاد کی حامل ہو سکتی ہے، مگر اگر اسے کم visibility ملے تو اس کا سماجی اثر محدود رہ سکتا ہے۔ دوسری طرف کوئی جذباتی، سنسنی خیز یا گمراہ کن مواد لاکھوں views حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ وہ انسانی توجہ کو زیادہ مؤثر طریقے سے اپنی طرف کھینچتا ہے۔

یہیں صحافت اور attention economy کے درمیان بنیادی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔

آج معلومات کی کمی نہیں، توجہ کی کمی ہے۔ ایک عام شہری روزانہ سینکڑوں headlines، ویڈیوز، پوسٹس اور دعووں کے درمیان سے گزرتا ہے، مگر اس کے پاس ہر معلومات پر غور کرنے کے لیے محدود وقت ہے۔ چنانچہ جدید information order میں اصل مقابلہ صرف یہ نہیں کہ کس کے پاس معلومات زیادہ ہیں؛ اصل مقابلہ یہ ہے کہ کس کی معلومات انسانی توجہ حاصل کرتی ہیں۔

خوف، غصہ، تنازع، scandal اور sensationalism اکثر پیچیدہ تحقیق، اعداد و شمار اور محتاط صحافت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ صحافت کا بنیادی سوال ہوتا ہے، “کیا یہ درست ہے؟” جبکہ attention economy کا سوال اکثر یہ ہوتا ہے کہ “کیا لوگ اس پر رکیں گے، کلک کریں گے، تبصرہ کریں گے اور اسے آگے شیئر کریں گے؟” دونوں سوال ہمیشہ ایک دوسرے کے مطابق نہیں ہوتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں information order کی سمت بدل سکتی ہے۔ اگر engagement سچ پر غالب آ جائے تو زیادہ مقبول معلومات لازماً زیادہ اہم یا زیادہ درست معلومات نہیں رہتیں۔

یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے: حقیقت آخر بنتی کیسے ہے؟

ایک واقعہ اپنی جگہ حقیقت ہوتا ہے، لیکن معاشرہ اسے اپنی اجتماعی حقیقت کا حصہ اس وقت بناتا ہے جب اس کے بارے میں معلومات سامنے آتی ہیں، قابلِ اعتبار سمجھی جاتی ہیں اور اجتماعی گفتگو میں شامل ہوتی ہیں۔ کسی دور افتادہ گاؤں میں پینے کا پانی آلودہ ہو سکتا ہے۔ مسئلہ حقیقت میں موجود ہے، چاہے قومی سطح پر کسی کو اس کا علم نہ ہو۔ لیکن جب تک کوئی اسے دستاویزی شکل نہیں دیتا، متاثرہ لوگوں کی آواز سامنے نہیں آتی اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب نہیں کیا جاتا، اس حقیقت کا سیاسی اور سماجی اثر محدود رہتا ہے۔

یہی صحافت کی بنیادی طاقت ہے۔

صحافت صرف موجود حقیقت کو بیان نہیں کرتی، بعض اوقات وہ غیر مرئی حقیقتوں کو اجتماعی شعور میں داخل کرتی ہے۔

ایک مقامی رپورٹر کسی چھوٹے گاؤں کے مسئلے کو ضلعی بحث بنا سکتا ہے۔ ایک investigative journalist کسی مالی بے ضابطگی کو قومی مسئلہ بنا سکتا ہے۔ ایک climate journalist کسی پہاڑی علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلی کو پالیسی کے سوال میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے information order دراصل visibility کا نظام بھی ہے۔ جس کی آواز سنائی دیتی ہے، وہ اجتماعی گفتگو میں موجود رہتا ہے، جبکہ مسلسل نظر انداز ہونے والی آوازیں آہستہ آہستہ اجتماعی شعور سے بھی غائب ہو سکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ information disorder کی بحث کو صرف misinformation اور disinformation تک محدود کرنا کافی نہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جھوٹی خبر کتنی پھیل رہی ہے۔ ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ سچی خبر کتنی دکھائی دے رہی ہے۔

اگر ایک تحقیقی رپورٹ چند ہزار لوگوں تک پہنچتی ہے اور ایک گمراہ کن ویڈیو چند ملین افراد تک، تو اجتماعی information environment پر زیادہ اثر کس کا ہوگا؟ یہ سوال ہمیں information order کے ایک اہم پہلو، یعنی attention allocation کی طرف لے جاتا ہے۔

کون سا موضوع trend بنتا ہے؟ کون سا مسئلہ نظر انداز ہو جاتا ہے؟ کون سا سوال بار بار پوچھا جاتا ہے اور کون سا سوال کبھی عوامی گفتگو کا حصہ ہی نہیں بنتا؟ یہ سوال اب صرف صحافت کے نہیں رہے بلکہ information governance کے سوالات بن چکے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے اس صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی شخص جھوٹی خبر لکھ سکتا ہے۔ وہ ایسی تصویر بھی بنا سکتا ہے جو کبھی موجود ہی نہیں تھی، ایسی آواز پیدا کر سکتا ہے جو کسی حقیقی شخص کی معلوم ہو اور ایسی ویڈیو تیار کر سکتا ہے جس میں کوئی شخص وہ بات کرتا دکھائی دے جو اس نے کبھی کہی ہی نہ ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کام پہلے کے مقابلے میں کم وقت، کم لاگت اور زیادہ پیمانے پر کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ میں ایک اہم تضاد بھی موجود ہے۔ AI معلومات پیدا کرنے کی لاگت کم کر رہی ہے، لیکن اسی کے ساتھ قابلِ اعتماد معلومات کی قدر بڑھا رہی ہے۔

جب ہر شخص مصنوعی تصویر بنا سکتا ہے تو اصل تصویر کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جب ہر شخص خبر لکھ سکتا ہے تو verified reporting کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جب ہر آواز مصنوعی ہو سکتی ہے تو source verification پہلے سے زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔

اس لیے ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت صحافت کو ختم کرنے کے بجائے صحافت کے اس حصے کو زیادہ قیمتی بنا دے جو verification، context، accountability اور trust سے متعلق ہے۔

اس نئے information order میں صحافی کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ صحافی کو صرف information producer نہیں بلکہ information verifier، interpreter اور trust builder بننا ہوگا۔ عام صارف کے پاس شاید کسی واقعے سے متعلق دس مختلف دعوے موجود ہوں۔ صحافی کا کام گیارہواں دعویٰ شامل کرنا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ ان دس دعوؤں میں حقیقت کیا ہے۔

یہاں journalism اور content creation کے درمیان بنیادی فرق واضح ہوتا ہے۔ ایک content creator یہ پوچھ سکتا ہے کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ صحافی کو یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ لوگوں کے لیے کیا جاننا ضروری ہے۔ دونوں سوال کبھی ایک جیسے ہو سکتے ہیں، لیکن ہمیشہ نہیں۔

جمہوریت کو صرف مقبول معلومات نہیں چاہییں؛ اسے وہ معلومات بھی درکار ہیں جو عوامی فیصلوں کے لیے ضروری ہوں۔

اسی تناظر میں local journalism کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ کسی عالمی خبر کو لاکھوں لوگ دیکھ سکتے ہیں، مگر کسی مقامی گاؤں میں پینے کے پانی کا مسئلہ کسی عالمی algorithm کے لیے شاید کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو۔ دور افتادہ علاقے کی سڑک، سرکاری اسکول میں اساتذہ کی کمی، پہاڑی علاقے میں landslide کا خطرہ، جنگلات کی کٹائی، مقامی وسائل کا استحصال یا کسی ترقیاتی منصوبے میں بے قاعدگی اس وقت تک وسیع تر عوامی بحث کا حصہ نہیں بنتی جب تک کوئی انہیں دستاویزی شکل دے کر سامنے نہ لائے۔

یہاں مقامی صحافی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

وہ صرف خبر کا نمائندہ نہیں ہوتا، وہ اپنے معاشرے کی آنکھ، یادداشت اور سوال ہوتا ہے۔

اس کے پاس وہ contextual knowledge ہوتی ہے جو کسی عالمی platform کے algorithm کے پاس نہیں ہوتی۔ وہ جانتا ہے کہ کون سا مسئلہ برسوں سے موجود ہے، کون سا دعویٰ پہلے بھی غلط ثابت ہو چکا ہے، کون سا منصوبہ کئی بار کاغذ پر مکمل ہو چکا ہے اور کون سی شکایت مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہے۔

اسی لیے local journalism کو بڑے میڈیا کی چھوٹی شکل سمجھنا درست نہیں۔ یہ اپنے دائرے میں ایک مکمل public service ہے۔ یہ صرف آج کی خبر نہیں دیتا بلکہ معاشرے کی اجتماعی یادداشت بھی محفوظ کرتا ہے۔

آخرکار پورا information order ایک بنیادی عنصر پر آ کر ٹھہرتا ہے،اعتماد۔۔۔

لوگ کس پر یقین کریں؟ سرکاری بیان پر، سیاسی جماعت پر، influencer پر، viral video پر، anonymous account پر یا ایسے نیوز ادارے پر جس نے برسوں اپنی credibility بنائی ہو؟

یہ سوال مستقبل کے میڈیا کی بنیاد ہے۔

آزاد اور پیشہ ورانہ صحافت کا کردار صرف خبر پہنچانا نہیں۔ اس کا تعلق کرپشن کو بے نقاب کرنے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سامنے لانے، informed voting کو ممکن بنانے، موسمیاتی خطرات سے آگاہ کرنے اور شہریوں کو قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے سے بھی ہے۔ اسی لیے journalism کو محض commercial product سمجھنا ناکافی ہے۔ یہ ایک public good بھی ہے۔

تاہم نئے information order نے آزادی کے تصور کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بظاہر آج ہر شخص publisher ہے، ہر شخص اپنی بات کہہ سکتا ہے، ویڈیو بنا سکتا ہے اور audience پیدا کر سکتا ہے۔ یہ آزادی تاریخی اعتبار سے غیر معمولی ہے۔

لیکن آزادی اور اثر و رسوخ ایک چیز نہیں۔

کسی شخص کو اظہار کی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، مگر اگر اس کی آواز کسی تک نہ پہنچے تو اس کی communication power محدود رہتی ہے۔ دوسری طرف ایک بڑا platform یا influencer چند سیکنڈ میں کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے نئے information order میں طاقت صرف speech کی آزادی سے نہیں بلکہ distribution کی طاقت سے بھی بنتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں digital platforms، algorithms اور technology companies کا کردار بنیادی ہو جاتا ہے۔ معلومات کے بہاؤ پر اثرانداز ہونے والے نظام اگر شفاف اور جواب دہ نہ ہوں تو information order میں طاقت کا توازن چند بڑے مراکز کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔

اس لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ نیا information order آ چکا ہے یا نہیں۔ وہ آ چکا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح کا بنانا چاہتے ہیں؟

کیا ایسا نظام جہاں سب سے زیادہ جذباتی مواد سب سے زیادہ visibility حاصل کرے، یا ایسا نظام جہاں قابلِ اعتماد معلومات کو بھی مناسب attention ملے؟ کیا ایسا نظام جہاں algorithm صرف engagement کو کامیابی سمجھے، یا ایسا نظام جہاں public interest بھی ایک بنیادی قدر ہو؟ کیا ایسا نظام جہاں local journalism مسلسل کمزور ہوتی جائے، یا ایسا نظام جہاں مقامی معاشروں کی information needs کو بنیادی اہمیت حاصل ہو؟

یہ صرف technology کے سوالات نہیں۔ یہ اخلاقی، سیاسی اور جمہوری سوالات ہیں۔

اسی لیے نئے information order میں media investment کا تصور بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ مستقبل کے میڈیا اداروں کو صرف cameras، studios اور websites میں سرمایہ کاری کافی نہیں ہوگی۔ انہیں verification capacity، data journalism، local reporting، media literacy، نوجوان صحافیوں کی تربیت، digital security، newsroom ethics اور transparency systems میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

اور سب سے بڑھ کر trust میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

کیونکہ آنے والے دور میں information کی کمی نہیں ہوگی۔ کمی ہوگی تو قابلِ اعتماد information کی۔ اور جس چیز کی کمی ہو، اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔

مستقبل کا طاقتور میڈیا ادارہ لازماً وہ نہیں ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ followers ہوں گے۔ زیادہ اہم وہ ادارہ ہوگا جس کے پاس بحران کے وقت بھی لوگ واپس آئیں اور کہیں:”ہمیں معلوم ہے کہ یہاں خبر پہلے verify کی جائے گی، پھر publish کی جائے گی۔”

یہ اعتماد کوئی algorithm پیدا نہیں کر سکتا، کوئی marketing campaign خرید نہیں سکتی اور کوئی viral video مستقل طور پر قائم نہیں رکھ سکتی۔ یہ وقت، اصول، مستقل مزاجی اور سچائی سے بنتا ہے۔

اسی لیے نئے information order میں صحافت کی قدر شاید کم نہیں ہو رہی؛ اس کی نوعیت بدل رہی ہے۔

ماضی میں صحافت کا بنیادی سوال تھا ،کیا ہوا؟

اب اس کے ساتھ ایک اور سوال جڑ گیا ہے۔
ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ واقعی ہوا؟

اور پھر ایک تیسرا سوال کہ ہمیں اس پر یقین کیوں کرنا چاہیے؟

یہ تینوں سوال مستقبل کی صحافت کی بنیاد بن سکتے ہیں، کیونکہ خبر صرف ایک واقعہ نہیں ہوتی۔ خبر ایک دعویٰ ہے۔ صحافت اس دعوے کی تحقیق ہے، اور اعتماد اس تحقیق کا سماجی نتیجہ ہوتا ہے۔

اگر یہ سلسلہ ٹوٹ جائے تو ہمارے پاس information تو رہ جائے گی، مگر knowledge نہیں۔ Knowledge کے بغیر informed citizenship نہیں، informed citizenship کے بغیر جمہوری مکالمہ نہیں اور جمہوری مکالمے کے بغیر اجتماعی مسائل کا اجتماعی حل ممکن نہیں۔

اسی لیے نیا News Information Order محض نیوز انڈسٹری کا مستقبل نہیں۔ یہ اس بات کا فیصلہ بھی ہے کہ آنے والی دنیا میں حقیقت کیسے نمایاں ہوگی، سچ کیسے پہچانا جائے گا اور معاشرہ کس بنیاد پر اپنے اجتماعی فیصلے کرے گا۔

جس دور میں ہر شخص خبر بنا سکتا ہے، اس دور میں اصل طاقت خبر بنانے میں نہیں بلکہ قابلِ اعتماد حقیقت قائم کرنے میں ہوگی۔
یہی مستقبل کی صحافت کا امتحان ہے، اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں