Skip to content

ایران کی جنگ امریکہ کے مخالفین کو کیا سکھاتی ہے؟

شیئر

شیئر

تیسری خلیجی جنگ ایک ایسی دنیا کا اشارہ دے رہی ہے جو پہلے سے زیادہ بے ترتیب ہے — اور جہاں امریکہ کم قابلِ اعتماد ہونے کے باوجود بھی مرکزی کردار رکھتا ہے۔

1991 کی پہلی خلیجی جنگ ایک ایسے دور کی شروعات تھی جس میں امریکہ واحد عالمی طاقت کے طور پر اُبھرا۔ چین اور سوویت یونین امریکہ کی جدید فوجی کارروائیوں سے حیران رہ گئے تھے، اور دنیا نے تیل کے بحران کو نظرانداز کرکے گلوبلائزیشن کو اپنا لیا۔ 2003 میں عراق میں شروع ہونے والی دوسری خلیجی جنگ غیرضروری طاقت کے استعمال کی مثال بنی۔

تیسری خلیجی جنگ کو ٹوٹ پھوٹ کے دور کا آغاز کہنا آسان ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ جنگ امریکہ کی کچھ کمزوریاں سامنے لاتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دکھاتی ہے کہ دنیا کس حد تک اس کی طاقت کے سائے میں ہے—اور یہ کہ اگر امریکہ عالمی نظم کو برقرار نہ رکھے تو دنیا کتنی جلدی انتشار کا شکار ہوسکتی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کے مخالفین کے لیے بھی یہ صورتحال پریشان کن ہے۔

امریکہ کی کمزوریاں سب کے سامنے ہیں۔ یہ جنگ نہ تو واضح مقاصد رکھتی ہے اور نہ اسے کانگریس یا عوام کی حمایت حاصل ہے۔ اس نے نیٹو کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو دھچکا پہنچایا ہے۔ اگر جنگ جاری رہی تو تیل کی بلند قیمتیں روس کی آمدنی میں سالانہ 80 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کریں گی—جو کریملن کے پورے 2025 کے بجٹ خسارے سے زیادہ ہے۔ امریکہ کے فوجی وسائل ایشیا سے ہٹ گئے ہیں، حالانکہ وہ اس کی اولین ترجیح سمجھے جاتے تھے۔ ایسے ہتھیاروں کے ذخائر جو چین کے ساتھ ممکنہ جنگ میں ضروری ہوں گے، تیزی سے کم ہورہے ہیں—ٹام ہاک میزائلوں کا پانچواں حصہ اور تھاڈ انٹرسیپٹرز کا ایک تہائی پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے۔ سستے ڈرون جو متحدہ عرب امارات اور قطر میں تنصیبات پر حملہ کر رہے ہیں، انہیں روکنے کا خرچ حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ یہ جنگ امریکہ کو ہر ہفتے 9 ارب ڈالر میں پڑ رہی ہے۔

اس کے باوجود امریکہ کی طاقتیں بھی غیرمعمولی انداز میں سامنے آئی ہیں۔ صرف تین ہفتوں میں اس نے ایران کی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی صنعت کا بڑا حصہ تباہ کر دیا، اور اس سے پہلے وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنا چکا تھا۔ ایران کے کئی بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی نے 9,000 حملوں میں ہدف کی نشاندہی میں مدد کی ہے۔ اگرچہ فضائی طاقت حکومتیں نہیں بدل سکتی، لیکن اس کی کاری ضرب اور درستگی پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ اقوامِ متحدہ اور بہت سے اتحادیوں کو نظرانداز کرنے سے امریکہ کی فیصلہ سازی بھی تیز ہو گئی ہے۔

امریکہ ایک اور طرح کی طاقت کا بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کے اقدامات دنیا کی معیشت کو تو متاثر کر رہے ہیں، لیکن خود امریکہ پر ان کے اثرات کم ہیں۔ 1991 اور 2003 کے برعکس، آج امریکہ توانائی برآمد کرنے والا ملک ہے، اور اس کی معیشت تیل کے جھٹکے سے کم متاثر ہوتی ہے۔ اندرونِ ملک گیس کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ سرکاری بانڈز کی منڈی میں اتار چڑھاؤ محدود ہے۔ بڑی امریکی کمپنیوں کی آمدنی پر بھی اثرات معمولی ہیں۔ اور "سیف ہیون” کا رجحان واپس آگیا ہے: جتنا زیادہ امریکہ دنیا میں بے چینی پیدا کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ دوسرے ممالک اس کے محفوظ مالیاتی اثاثے خریدتے ہیں۔ ڈالر کی قدر بھی بڑھ گئی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ نہ حکومت بدلے گی اور نہ ایران مکمل طور پر پیچھے ہٹے گا۔ بہترین صورت یہ ہے کہ امریکہ بحری جہازوں کے لیے ہرمز سے گزرنے کا ایک مضبوط حفاظتی نظام قائم کرے۔ لیکن ایک معاہدے کا امکان بھی موجود ہے جس میں لڑائی تو رک جائے مگر ایران کے پاس ہرمز کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت باقی رہے۔ توانائی کی منڈیاں اسی دوسری صورت پر یقین رکھتی ہیں — اسی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود 1979-80 کے بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں۔

اگر ایسا معاہدہ ہوتا ہے تو کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کی ساکھ کے لیے شدید دھچکا ہوگا، بالکل 1956 کے سویز بحران کی طرح۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے ممالک کا انحصار امریکہ پر مزید بڑھ سکتا ہے۔

جنگ ختم ہونے کے بعد، خلیجی ممالک اور ممکنہ طور پر یورپ بھی، اپنے فضائی دفاع میں بڑی سرمایہ کاری کریں گے—امریکی نظام خریدیں گے، اور اسرائیلی و یوکرینی ٹیکنالوجی سے ان کی کارکردگی بڑھائیں گے۔ اگر خلیجی ممالک ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے نئی پائپ لائنیں بنا بھی لیں، تب بھی وہ ان کی حفاظت کے لیے امریکہ ہی پر بھروسہ کریں گے۔ ایشیا اور یورپ کے وہ ملک جو قطری گیس پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں، دیکھیں گے کہ امریکہ ہی ایک بڑا متبادل سپلائر ہے—جس نے 2020 کے بعد سے اپنی LNG برآمدات دوگنی کر دی ہیں۔

امریکی اتحادی ایک تلخ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں: امریکہ دنیا کو جتنا بھی غیر مستحکم کرے، وہ اکثر اس کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ خلیج کے پاس تو کوئی متبادل ہے ہی نہیں۔ یورپ کے لیے اس انحصار سے نکلنا بھی کئی سال لے گا۔

امریکہ کے مخالفین کے لیے تصویر بہت پیچیدہ ہے۔ چھوٹی اور درمیانی آمرانہ ریاستیں اس صورتِ حال سے خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کی حکومتوں کو کمزور کرنا یا ختم کرنا اب بہت آسان دکھائی دیتا ہے—جیسے وینیزویلا میں ہوا، اور ممکن ہے جلد ہی کیوبا میں بھی ہو۔ ان کے لیے سبق سیدھا ہے: یا تو کوئی اہم اسٹریٹجک مقام، جیسے ہرمز، اپنے ہاتھ میں رکھو، یا پھر ایسے ہتھیار حاصل کرو جو تمہیں محفوظ رکھ سکیں۔ جو آمرانہ حکومتیں پہلے سے جوہری صلاحیت رکھتی ہیں اور عالمی معیشت پر کم انحصار کرتی ہیں، وہ سمجھ رہی ہیں کہ ان کے لیے اثر و رسوخ کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ ایران کے معاملے میں دو ممکنہ ثالث پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ولادیمیر پوتن ہیں۔

چین حیران نہیں ہوگا کہ امریکہ کی توجہ ایشیا سے ہٹ گئی ہے اور اس کے اتحادی بٹ گئے ہیں۔ لیکن چین اس بات سے خوش نہیں ہوگا کہ امریکہ یکطرفہ طاقت کا استعمال بڑھا دے، یا ایسا اسلحہ پھیل جائے جس سے علاقائی عدمِ تحفظ میں اضافہ ہو، یا امریکہ آزاد بحری راستوں کی حفاظت کے بجائے ان پر سودے بازی شروع کر دے۔

چین دنیا کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے، اور اس کا بہت سا تیل ہرمز سے گزرتا ہے۔ اپنی تمام کوششوں کے باوجود اس کے پاس صرف 100 سے 150 دن کے تیل کے ذخائر ہیں۔ یورپ کے ساتھ تجارت کے لیے وہ سویز اور بحیرہ احمر پر انحصار کرتا ہے۔ اگر وہ تائیوان پر جنگ شروع کرتا ہے تو توانائی کی سپلائی روکنے اور مالیاتی بحران کا خطرہ اسے براہِ راست لاحق ہوگا — کیونکہ اس کے پاس وہ مالیاتی تحفظ نہیں جو امریکہ کو حاصل ہے۔

تیسری خلیجی جنگ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ 1991 کے بعد بننے والے عالمی نظام سے ہٹ چکا ہے، اور دنیا زیادہ غیرمستحکم دور میں داخل ہو رہی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی دنیا کے پاس امریکہ کا کوئی واضح متبادل نہیں — اور چین کو اس مقام تک پہنچنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

تحریر: پیٹرک فولِس
بشکریہ: فنانشل ٹائمز
مترجم : ذیشان ہاشم

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں