Skip to content

پاکستان میں موجود جرائم کی دنیا اور پِنکی کی کہانی

شیئر

شیئر

تحریر : اشراق سید

پاکستان میں جرائم کی دنیا ہمیشہ پردوں کے پیچھے چلتی ہے۔ یہاں اصل چہرے کم ہی سامنے آتے ہیں۔ مگر کبھی کبھار کوئی ایک نام اتنا مشہور ہو جاتا ہے کہ وہ صرف انسان نہیں رہتا، ایک داستان بن جاتا ہے۔ “پِنکی” بھی ایسا ہی ایک نام بن چکی ہے۔

پِنکی عام عورت نہیں تھی۔ وہ اُن چہروں میں سے تھی جن کے گرد ہمیشہ طاقت، پیسہ، خوف اور پراسرار خاموشی گھومتی رہتی ہے۔ وہ پاکستان کے اُن حلقوں کا حصہ تھی جہاں منشیات صرف بیچی نہیں جاتیں بلکہ ایک پورا نیٹ ورک چلایا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی پوش سوسائٹیز، لاہور کی late night پارٹیز اور کراچی کے بند کمروں میں ہونے والی محفلوں تک اُس کے نام کی سرگوشیاں تھیں۔ اُس کے رابطے صرف street dealers تک محدود نہیں تھے بلکہ بااثر لوگوں، پارٹی سرکلز اور ایسے ناموں تک جاتے تھے جنہیں عوام شاید کبھی جان بھی نہ سکیں۔ وہ نوجوانوں کو نشے کی دنیا میں دھکیلنے والے اُس سسٹم کا حصہ تھی جہاں “آئس”، pills اور دوسرے نشے صرف drugs نہیں رہے بلکہ status symbol بنا دیے گئے۔

پھر ایک دن خبر آئی کہ پِنکی گرفتار ہو گئی ہے۔ لوگ حیران تھے، کچھ خوش تھے اور کچھ خوفزدہ۔ مگر سب سے عجیب منظر وہ تھا جب اُسے پہلی بار میڈیا کے سامنے لایا گیا۔ عام مجرموں کی طرح نہ اُس کے چہرے پر ڈر تھا نہ گھبراہٹ۔ وہ بے خوف کھڑی تھی۔ لوگ بار بار ایک ہی بات کر رہے تھے، “یہ اتنی پُرسکون کیوں ہے؟”

اُس وقت اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تک نہیں تھیں۔ وہ ایسے چل رہی تھی جیسے اُسے یقین ہو کہ یہ سب زیادہ دیر نہیں چلے گا، جیسے اُسے معلوم ہو کہ اُس کے پیچھے کوئی بہت طاقتور سسٹم کھڑا ہے۔ سوشل میڈیا پر اُس کی ویڈیوز پھیل گئیں اور لوگ اُس کے انداز کو دیکھ کر حیران تھے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عام انسان تھانے کے نام سے کانپ جاتا ہے، وہاں ایک عورت کا اتنا بے خوف ہونا خود ایک سوال بن گیا تھا۔

پھر چند دن بعد وہ دوبارہ منظرِ عام پر آئی مگر اس بار وہ پہلی والی پِنکی نہیں تھی۔ اس بار اُس کی آواز بلند تھی۔ وہ چیخ رہی تھی اور بار بار ایک ہی بات دہرا رہی تھی، “مجھ سے جھوٹے بیان دلوائے گئے ہیں، مجھے مجبور کیا گیا۔”

یہ الفاظ سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گئے اور پھر سوالات شروع ہوئے۔ اگر سب سچ تھا تو پھر وہ پہلی بار اتنی بے خوف کیوں تھی؟ اور اگر وہ اب سچ بول رہی تھی تو پہلے اُس سے کیا بلوایا گیا تھا؟

آج پِنکی کا نام صرف ایک کیس نہیں سمجھا جاتا۔ وہ پاکستان کے اُس اندھیرے سسٹم کی علامت بن چکی ہے جہاں جرم، طاقت، خوف، پیسہ اور خاموشی ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اور جہاں سچ اکثر سب سے آخر میں سامنے آتا ہے

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں