سکندر خلیل ہمارے دوست ہیں اور بے چین سی روح لیے پھرتے ہیں ،جب یہ یونیورسٹی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہوتے تھے ، یونیورسٹی فراغت کے بعد بھی کسی نہ کسی عنوان سے اسکرین پر موجود رہتے ہیں ، سوسائٹی کے کار آمد انسان ہیں ، کل انہوں نے ایبٹ آباد میں فخر ہزارہ نے نام سے ایک پروگرام رکھا ، جس میں ہزارے کے کام والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جگہ دی اور انہیں سراہا ،
فخر ہزارہ ایوارڈ میں قابل اور قد آور لوگ شامل تھے ، ہمارے جاننے والوں میں کئی نام ایسے ہیں جن کی عظمت اور فن کا زمانہ گواہ ہے ، احمد حسین مجاہد ، بڑا نام ، کون اس نام سے واقف نہیں ، شاعری کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ، اس علاقے کا فخر ؟ کون ان کے فخر ہزارہ ہونے سے انکار کر سکتا ہے ؟
شکیل اعوان ، گلوکاری کی دنیا کا چاند ، ہمارے گرمیوں کی دوپہریں شکیل اعوان کے ماہیے سنتے ہوئے گزریں ، دیہات میں دوپہر کے وقت گھروں سے شکیل اعوان کی آواز سنائی دیتی تھی ، ہمارے ماضی کی خوبصورت یاد ، وہ ہزارے کی پہچان بنا ، دنیا بھر میں جہاں جہاں ہندکو بولی سنی جاتی ہے وہاں شکیل اعوان ضرور سنا جاتا ہے
صفی ربانی ، میری محبت ، کل شام ساتھ گزری ، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صفی میری حقیقی ماں کا بیٹا ہے ، دلوں پر راج کرنے والا شاعر ، اسٹوڈیو میں جب اسکی ریکارڈنگ کرنے لگے تو نوجوان دوستوں سے کہا ایک وقت آئے گا جب آپ کہیں گے ہم صفی ربانی کے دور میں جی رہے ہیں ، جسے دنیا کل مانے گی میں اسے آج مانتا ہوں ، یہ بڑا انسان ہے اسکی قدر کریں ،
صاحب زادہ جواد ، مختلف رنگ جس کے ہاں پائے جاتے ہیں ، شاعری ، میوزک ، تصوف ، سوشل سیکٹر کے کارنامے ، کیمرہ ورک ، سفر نامے ، ایک شخص کی پوٹلی میں کیا کچھ قدرت نے رکھ دیا ہے ؟ صاحب جواد پوری دنیا ہے جن پر لکھنا قرض ہے ، جس عمر میں لوگ سکون چاہتے ہیں یہ اس عمر میں یونیورسٹی داخلہ لے لیتے ہیں اور ہمیں حیران کر دیتے ہیں ، حیرت کا جہاں ، یہ شخص فخر ہزارہ نہیں تو پھر کون ہے ؟
سید مہتاب شاہ ، یہ لبوں پر کس کا نام آ گیا ، سادات کے روایتی بندھنوں سے آزاد شخص ، جس نے بالاکوٹ جیسے شہر سے اٹھ کر پہچان بنائی ، چاچی جل کراچی جیسے مووی بنائی ، ہندکو کا سفیر ، میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ کیسے لوگ ہیں ؟ انہوں نے روایتی تنگ نظری کے ماحول کو خود پر اثر انداز نہیں ہونے دیا ،
شیر افضل گوجر ،جس کے بڑے ہونے میں کیا شبہ باقی ہے ؟ جس نے اپنی محنت سے ہزارہ میں جگہ بنائی ، اسکا دور دور تک کوئی متبادل نہیں ، ہزارہ ایکسپریس نیوز کے نام سے پلیٹ فارم بنایا ، صحافتی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا ، ایک ایسا شخص جس نے بے سروسامانی کے عالم میں اپنے ادارے کی بنیاد رکھی آج اسکا نام دنیا بھر میں گونج رہا ہے ،
ہزارہ ایکسپریس نیوز پانچ سال پہلے DW کے "لوکل وائس گلوبل ایکسچینج پروگرام” میں انٹرینیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والے پاکستان بھر سے تین اداروں میں سے ایک تھا جب مقابلے میں ٹی سی ایم اور ٹی این این جیسے بڑے ادارے مقابلے کی دوڑ میں اس ایوارڈ سے محروم رہے۔
دو ہزار چوبیس میں ہزارہ ایکسپریس نیوز ایمپلیفائی ایشیا پروگرام کے تحت ایشیاء بھر سے منتخب ہونے والے کل چھ اداروں میں سے پاکستان سے ایک ہزارہ ایکسپریس نیوز تھا ، گزشتہ سال کوالالمپر ملائیشیا میں گلوبل انوسٹی گیٹیو جرنلزم کانفرنس میں منعقد ہوئی پاکستان سے شریک ہونے والے کل چار اداروں میں سے ایک ہزارہ ایکسپریس نیوز تھا جو پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا۔
آج ہزارہ ایکسپریس نیوز کی ٹیم ایک ٹریننگ کولمبو میں کرتی ہے تو دوسری بنکاک میں ہوتی ہے۔ کل اکیس مئی کو ہزارہ ایکسپریس نیوز ٹیم کا ایک ممبر رضا خان تنولی N3con بنکاک میں ہوگا اور دوسرا شیرافضل گوجر 28 مئی MPI کی رپورٹ لانچنگ سرمنی میں کھٹمنڈو نیپال میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے۔ آپ مجھے یہ بتائیں جنہیں دنیا آنکھوں پر بیٹھا رہی ہے ، ان پر عالمی ادارے آرٹیکل لکھ رہے ہیں ،یہ فخر ہزارہ نہیں ہیں تو پھر کون ہے ؟
ہم دھول اڑانے کے عادی ہیں ، ہمیں اپنے کامیاب لوگ برے لگتے ہیں ، حسد ہماری گھٹی میں ہے ، فیس بک پر طوفان مچا ہوا ہے کہ ظلم ہو گیا ، فخر ہزارہ سے ہم محروم رہ گئے ، اے میرے خدا ! کچھ تو کہنے لگے سکندر خلیل اٹک پار سے اٹھ کر یہاں فخر ہزارہ پروگرام کیوں کروا رہا ہے ؟
ایک شخص اٹک پار سے ہو کر میرے علاقے کے قد آور لوگوں کو عزت دے رہا ہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ یعنی ہمارے علاقے کے لوگوں کو عزت کیوں دی گئی اس سے مسئلہ ہے ؟
آخر شکایت کیا ہے ؟ منفی چیزوں سے نکلیں ، سوسائٹی میں کہیں کام ہو رہا ہو تو اسے سراہیں ہر وقت مخالفت مناسب نہیں ہوتی ـ
تحریر عامر ہزاروی ـ

