Skip to content

بلدیاتی نمائندوں اور اداروں پر ڈھائے گئے ظلم کی داستان

شیئر

شیئر

آج خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نمائندوں کی Tenure کا آخری دن ہے۔ اکثر منتخب نمائندے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لا رہے ہیں کہ بالآخر اس بے اختیار اور بے بس نظام سے باعزت طور پر نجات نصیب ہوئی۔ یہ کیفیت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بلدیاتی نمائندوں کو کس قدر مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان کی فسطائی طرزِ فکر کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی حکومت نے ابتدا ہی سے بلدیاتی انتخابات سے گریز کی ہر ممکن کوشش کی۔ مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے انتخابات کو مؤخر کرنے کی تدبیریں کی گئیں، لیکن جب پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کے تمام حربوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر ہدایت دی کہ 19 دسمبر 2021 کو ہر صورت بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جائیں، تو حکومت کو ناچار اس فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔

19 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کو مسترد کر دیا، جو عمران خان کے لیے ایک شدید سیاسی دھچکے سے کم نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن کے بعد سے عمران احمد نیازی اور ان کی جماعت نے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دل سے تسلیم کرنے سے گریز کیا۔ اس رویے کا واضح ثبوت یہ تھا کہ انتخابات کے بعد حکومت منتخب نمائندوں سے حلف لینے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔ بالآخر مجبور ہو کر منتخب نمائندوں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا، جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے واضح احکامات جاری کیے کہ منتخب نمائندوں سے فوری طور پر حلف لیا جائے۔ چنانچہ صوبائی حکومت 16 مارچ 2022 کو ان نمائندوں سے حلف لینے پر مجبور ہوئی۔

یہ بھی یاد رہے کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تھی تو عمران احمد نیازی بڑے فخر سے یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ ایسا مثالی بلدیاتی نظام متعارف کرائیں گے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی سے اختیارات لے کر نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں گے۔ اسی دعوے کے تحت صوبائی اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2019 منظور کیا گیا اور بڑے زور و شور سے یہ تاثر دیا گیا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

لیکن جب بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آئے اور حکومت کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تو حالات یکسر بدل گئے۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات کے بعد حکومت کے حوصلے جواب دے گئے اور بالآخر لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2022 کے ذریعے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات پر کاری ضرب لگائی گئی۔ یوں عملی طور پر ان اداروں کو بے اختیار کر کے قوم کو ایک بار پھر بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 23 اور 23-A میں میئرز اور تحصیل چیئرمینوں کو دیے گئے اختیارات مکمل طور پر واپس لے لیے گئے۔ اسی طرح سیکشن 25 اور 25-A کے تحت مقامی حکومتوں کو حاصل اختیارات بھی ختم کر دیے گئے۔ پہلے یہ اختیار موجود تھا کہ میئر یا چیئرمین اجلاس کی صدارت کے لیے کسی بھی رکن کو نامزد کر سکتے تھے، مگر اس اختیار کو ختم کر کے یہ لازمی قرار دیا گیا کہ اس عہدے کے لیے ایوان میں باقاعدہ انتخاب ہوگا۔ مزید برآں، یہ وضاحت بھی ساتھ کی گئی کہ مذکورہ رکن اجلاس کی صدارت کے ساتھ ساتھ میئر یا چیئرمین کی غیر موجودگی میں قائم مقام سربراہ بھی ہوگا۔

اسی طرح سیکشن 53 میں ایک ایسی شق شامل کی گئی جس کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ لوکل باڈیز کے علاقوں میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے سکتی ہے، مگر اس منصوبے کے لیے درکار فنڈ لوکل باڈیز کے فنڈز سے کاٹے جائیں گے۔ یہ درحقیقت منتخب نمائندوں اور ان کے حلقوں کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف تھا۔جو یہ کر گزرے،

صوبائی حکومت کی اس آمرانہ اور ظالمانہ پالیسی کے خلاف 8 جون 2022 سے پشاور کے منتخب نمائندوں نے بھرپور مزاحمت کا آغاز کیا۔اس مقصد کے لیے سینئر اور ماہر وکلاء پر مشتمل ایک قانونی پینل تشکیل دیا گیا۔ایک طرف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور دوسری طرف آئینی و قانونی جنگ لڑنے کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔

بالآخر طویل قانونی جدوجہد کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کو بحال کر دیا اور صوبائی حکومت کی تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلدیاتی اداروں اور منتخب نمائندوں کو ان کے آئینی اختیارات واپس تفویض کر دیے۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ بلدیاتی نمائندوں سے اس انداز میں اختیارات چھیننا آئینِ پاکستان کے منافی ہے۔ تاہم اس عدالتی فیصلے کے باوجود مختلف حیلوں بہانوں اور تاخیری حربوں کے ذریعے منتخب نمائندوں کو عملی طور پر ان کے اختیارات واپس نہ دیے گئے۔

اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان بلند بانگ دعوے کرتے رہے کہ وہ ایک مثالی بلدیاتی نظام قائم کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو عملاً مفلوج کر کے رکھ دیا۔ یہ طرزِ عمل ان کی آمرانہ اور فسطائی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔اس مسلسل کشمکش کے دوران عوامی مفاد یکسر پسِ پشت چلا گیا اور بلدیاتی ادارے عملاً غیر فعال ہو کر رہ گئے۔ آج بھی پشاور میٹروپولیٹن کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث سراپا احتجاج ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا بلدیاتی نظام دیکھنے میں آیا جس کی مدت کے دوران پانچ مختلف وزرائے اعلیٰ آئے اور ہر ایک نے اپنی سوچ اور ترجیحات کے مطابق ان اداروں کو تجربہ گاہ بنا کر رکھ دیا۔ یہ انتخابات محمود خان کے دور میں ہوئے، پھر نگران دور میں اعظم خان مرحوم وزیر اعلیٰ بنے، ان کی وفات کے بعد جسٹس (ر) ارشاد حسین نے منصب سنبھالا، اس کے بعد علی امین گنڈاپور اور پھر سہیل آفریدی کے ادوار آئے۔ یوں بلدیاتی نمائندے اور ادارے مسلسل انتظامی تجربات اور سیاسی کشمکش کا شکار رہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ چار سال کے اس طویل عرصے میں کسی بھی بلدیاتی نمائندے کو ایک روپیہ فنڈ تک فراہم نہیں کیا گیا،حالانکہ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو فنڈز ملتے ہیں ان میں LFC کی مد میں بلدیاتی اداروں کا باقاعدہ حصہ مقرر ہوتا ہے اور قانوناً یہ فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہونا چاہیے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ این سی اور وی سی چیئرمینوں کو فنڈز دیے گئے، نہ تحصیل چیئرمینوں کو، اور نہ ہی میٹروپولیٹن میئر کو۔

این سی اور وی سی چیئرمینوں کو دفاتر اور بنیادی سہولیات تک سے محروم رکھا گیا۔ اسی طرح خواتین، یوتھ، کسان اور اقلیتی کونسلرز—جنہوں نے عوام سے وعدے کر کے ڈائریکٹ ووٹ حاصل کیے تھے—انہیں بھی کسی قسم کے فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ مزید برآں، تحصیل کونسلوں اور میٹروپولیٹن کونسلوں کو چار سال تک اپنے بجٹ منظور کرنے کے اختیار سے محروم رکھا گیا اور انہیں اپنا بجٹ بھی لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے منظور کرانا پڑتا تھا۔

یہ تمام حقائق اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ گزشتہ چار برسوں میں بلدیاتی نظام کو دانستہ طور پر کمزور کیا گیا اور منتخب نمائندوں کو بے اختیار بنا کر عوامی خدمت کے راستے مسدود کر دیے گئے۔اور عوامی ووٹ اور رائے کو درخور اعتناء نہ سمجھتے ہوئے اس کی توہین کی گئی،لیکن ان سب کچھ کے باوجود بلدیاتی نمائندوں نے عوامی شکایات کا سامنا کرکے ناگفتہ بہ حالات کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کیا،

تحریر : مولانا امان اللہ حقانی

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں