Skip to content

آج کے بچوں کی تربیت: ہمیں والدین سے دوست بننا ہوگا

شیئر

شیئر

تحریر: زعفران چیچی

ہم جس دور میں بچے تھے، اس وقت معلومات تک رسائی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ گھر، اسکول، محلہ اور چند کتابیں ہی ہماری دنیا تھیں۔ والدین کا حکم ہمارے لیے تقریباً حرفِ آخر ہوتا تھا اور ہماری بیشتر سرگرمیاں ان کی نظروں کے سامنے رہتی تھیں۔ والدین کو عموماً معلوم ہوتا تھا کہ بچہ کہاں جا رہا ہے، کس کے ساتھ کھیل رہا ہے اور اپنا وقت کیسے گزار رہا ہے۔

آج صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ ہمارے بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسا آلہ ہے جو انہیں چند لمحوں میں پوری دنیا سے جوڑ دیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے وہ ایسی معلومات تک پہنچ سکتے ہیں جن کا تصور ہماری عمر میں بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس معلومات میں درست بھی ہے اور غلط بھی، مفید بھی ہے اور نقصان دہ بھی۔ ایک کم عمر بچہ ابھی اس قابل نہیں ہوتا کہ ہر معلومات کی صحت، مقصد اور اثرات کو خود پرکھ سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

بدقسمتی سے بہت سے والدین ابھی تک اس تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ بچوں کے موبائل یا انٹرنیٹ پر Parent Controls کے ذریعے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ بچہ کیا دیکھے، کس عمر کے مطابق مواد تک رسائی رکھے اور کن چیزوں سے اسے محفوظ رکھا جائے۔ صرف موبائل بچے کے ہاتھ میں دے دینا اور یہ سمجھ لینا کہ وہ صرف تعلیمی مواد دیکھ رہا ہے، کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، کس سے رابطے میں ہے اور مسلسل دیکھنے والی چیزیں اس کی سوچ، پسند اور رویے کو کس سمت لے جا رہی ہیں۔

بچوں کی ذہنی تشکیل صرف گھر اور اسکول نہیں کرتے۔ آج سوشل میڈیا، یوٹیوب، گیمز، شارٹ ویڈیوز اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز بھی بچوں کی سوچ اور ترجیحات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایک بچہ جس چیز کو بار بار دیکھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اسے صرف تفریح سمجھ کر دیکھ رہا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ اسی زبان، رویے، طرزِ زندگی اور اقدار کو معمول سمجھنا شروع کر سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ بچہ موبائل پر کتنا وقت گزار رہا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ اس وقت میں کیا حاصل کر رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور تبدیلی بھی واضح ہے۔ عموماً بارہ سال کی عمر تک لڑکے اپنی ماں کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ اپنی چھوٹی بڑی باتیں بتاتے ہیں، سرگوشیاں کرتے ہیں اور ہر مسئلہ ماں کے ساتھ شیئر کر لیتے ہیں۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ بہت سے بچے والدین سے باتیں چھپانا شروع کر دیتے ہیں۔ گھر سے باہر زیادہ وقت گزارنا انہیں پسند آنے لگتا ہے اور دوستوں کی دنیا والدین کی دنیا سے زیادہ اہم محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ تبدیلی بذاتِ خود غیر فطری نہیں۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں اپنی شناخت، آزادی اور دوستوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں والدین اور بچے کے درمیان اعتماد کا رشتہ پہلے ہی کمزور ہو چکا ہو۔ پھر بچہ اپنی الجھنیں، سوالات اور تجربات والدین کے بجائے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ محلے، اسکول یا آن لائن دنیا میں ملنے والا ہر شخص برا نہیں ہوتا، لیکن ہر دوست بچے کے لیے درست رہنما بھی نہیں ہوتا۔

خاص طور پر عمر میں بڑے ایسے بچے یا نوجوان جو پہلے ہی سگریٹ نوشی، گالی گلوچ یا دوسری نامناسب عادات میں مبتلا ہوں، وہ کم عمر بچوں کو بھی ان چیزوں کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف "چسکے” یا تجسس کے طور پر شروع ہو سکتا ہے، لیکن بعض اوقات یہی تجربات آگے چل کر عادت بن جاتے ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے دوستوں اور ان کے سماجی ماحول سے مکمل بے خبر نہ رہیں۔

لیکن اس کا حل بچوں کو ہر وقت ڈانٹنا، ڈرانا یا گھر میں قید رکھنا بھی نہیں ہے۔ اگر ہم ہر سوال کا جواب غصے سے دیں گے، ہر غلطی پر تذلیل کریں گے اور ہر بات پر حکم چلائیں گے تو بچہ اپنی باتیں ہم سے چھپانا سیکھ جائے گا۔ پھر ہمیں بظاہر ایک فرمانبردار بچہ نظر آئے گا، لیکن اس کی اصل دنیا ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکی ہوگی۔

اس لیے آج کے والدین کو صرف والدین نہیں، بچوں کے قابلِ اعتماد دوست بھی بننا ہوگا۔ ایسا دوست جس سے بچہ اپنی غلطی بھی بیان کر سکے، اپنا سوال بھی پوچھ سکے، اپنی پسند بھی بتا سکے اور کسی خطرناک صورتحال میں مدد بھی مانگ سکے۔ بچے کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر اس سے کوئی غلطی ہو بھی گئی ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے والدین کے پاس جا سکتا ہے۔

اس دوستی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین بچوں کو مکمل آزادی دے دیں یا ہر غلط کام کو نظرانداز کریں۔ والدین کو حدود بھی مقرر کرنی ہیں، لیکن ان حدود کے پیچھے منطق اور محبت ہونی چاہیے۔ بچے کو بتایا جائے کہ فلاں کام کیوں مناسب نہیں، فلاں شخص سے احتیاط کیوں ضروری ہے اور انٹرنیٹ پر کسی اجنبی سے رابطہ خطرناک کیوں ہو سکتا ہے۔

والدین کو بچوں کے ساتھ وقت بھی گزارنا ہوگا۔ ان کے دوستوں کو جاننا ہوگا، ان کی آن لائن دنیا کو سمجھنا ہوگا، عمر کے مطابق Parent Controls استعمال کرنا ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ بچے کے اندر سوال کرنے اور بات کرنے کی ہمت باقی ہے یا نہیں۔ بچے کی نگرانی ضروری ہے، مگر ایسی نگرانی جو اسے محسوس نہ ہو کہ وہ کسی جیل میں رہ رہا ہے۔

آج کے دور میں بچوں کو صرف معلومات سے بچانا ممکن نہیں۔ ہمیں انہیں معلومات کو پرکھنا سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ ہر وائرل ویڈیو سچ نہیں ہوتی، ہر خوبصورت زندگی حقیقی نہیں ہوتی، ہر آن لائن دوست مخلص نہیں ہوتا اور ہر مقبول رویہ قابلِ تقلید نہیں ہوتا۔

ہم اپنے بچپن کی دنیا واپس نہیں لا سکتے۔ نہ انٹرنیٹ ختم ہوگا، نہ بچوں کی دنیا کو ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں بدلتے ہوئے دور کے ساتھ اپنی تربیت کا طریقہ بھی بدلنا ہوگا۔

آج بچوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کسی کام کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کیسے کرنا ہے۔ اور اس سفر میں سب سے مضبوط سہارا وہ والدین ہیں جن سے بچہ ڈرنے کے بجائے بات کرنا چاہتا ہو۔

شاید آج کی بہترین تربیت یہی ہے کہ ہم بچوں کے ہاتھ سے موبائل چھیننے سے پہلے ان کے دل سے اپنا فاصلہ کم کریں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں