Skip to content

آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ، کتنے وقت میں جاری ہونی چاہیے؟

شیئر

شیئر

کسی شخص کی موت کے معاملے میں بعض اوقات معمول کی آٹوپسی کے ساتھ ڈی این اے رپورٹ کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ایسے کیسز میں آٹوپسی اور ڈی این اے سے متعلق شواہد طبی اور قانونی تحقیقات کا حصہ بن سکتے ہیں، اس لیے متعلقہ رپورٹ کی بروقت فراہمی اہم ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ کو باقاعدہ عوامی سروس کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور اس کے لیے مقررہ مدت بھی واضح کی گئی ہے۔

آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ کتنے وقت میں جاری ہونی چاہیے؟

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے مطابق آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ کے لیے 3 سے 6 ہفتے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

اس سروس کے ذمہ دار افسر چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ہیں، جبکہ سروس میں تاخیر یا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں اپیل کے لیے ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور متعلقہ اپیل اتھارٹی ہیں۔

مقررہ مدت کی اہمیت

آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ ایسی سروس ہے جس میں آٹوپسی کے ساتھ ڈی این اے سے متعلق فارنزک شواہد بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس سروس کے لیے سادہ آٹوپسی کے مقابلے میں زیادہ مدت مقرر کی گئی ہے۔

شہریوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ متعلقہ سروس کے لیے بروشر میں درج 3 سے 6 ہفتے کی مدت کو مدنظر رکھا جائے۔ درخواست یا متعلقہ کارروائی کے وقت رسید، درخواست نمبر اور جمع کرائی گئی دستاویزات کا ریکارڈ بھی محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر سروس میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا جا سکے۔

ذمہ دار افسر کون ہے؟

اس سروس کے لیے چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ذمہ دار افسر مقرر ہیں۔

اگر مقررہ مدت گزرنے کے باوجود رپورٹ فراہم نہ کی جائے تو شہری مقررہ اپیل اتھارٹی، یعنی ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور سے رجوع کر سکتا ہے۔

مقررہ وقت میں رپورٹ نہ ملے تو کیا کریں؟

اگر آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ 3 سے 6 ہفتے کی مقررہ مدت میں فراہم نہ کی جائے تو درخواست گزار کو اپنی درخواست، رسید، درخواست نمبر اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔

اس کے بعد شہری ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور سے بطور اپیل اتھارٹی رجوع کر سکتا ہے۔ اپیل کے وقت سروس کے لیے دی گئی درخواست اور دستیاب متعلقہ دستاویزات پیش کی جا سکتی ہیں تاکہ تاخیر کا معاملہ واضح ہو۔

اگر اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی رابطہ کر سکتا ہے اور سروس مقررہ مدت میں فراہم نہ ہونے کی شکایت درج کرا سکتا ہے۔

اپیل کا عملی طریقہ کیا ہے؟

سب سے پہلے سروس کے لیے جمع کرائی گئی درخواست یا متعلقہ رسید اور درخواست نمبر محفوظ رکھیں۔ جب بروشر میں درج 3 سے 6 ہفتے کی مدت گزر جائے اور رپورٹ فراہم نہ کی جائے تو متعلقہ اپیل اتھارٹی سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اپیل کے وقت یہ واضح کیا جائے کہ آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ کے لیے درخواست دی گئی تھی، مقررہ مدت گزر چکی ہے اور رپورٹ ابھی تک فراہم نہیں ہوئی۔ دستیاب رسید اور درخواست سے متعلق دیگر ریکارڈ بھی ساتھ رکھنا چاہیے۔

اگر متعلقہ سطح پر مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کر کے مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ ہونے کی شکایت درج کرا سکتا ہے۔

آٹوپسی کی مختلف خدمات کی الگ مدت

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں آٹوپسی سے متعلق مختلف خدمات کے لیے الگ الگ مدتیں مقرر کی گئی ہیں۔

سادہ آٹوپسی کے لیے مقررہ مدت 24 گھنٹے ہے، آٹوپسی بمعہ سسپکٹڈ پائزننگ کے لیے 2 سے 4 ہفتے جبکہ آٹوپسی بمعہ مشکوک مثبت ہسٹو پیتھالوجیکل شواہد کے لیے 1 سے 2 ہفتے مقرر ہیں۔ اسی طرح آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ کے لیے 3 سے 6 ہفتے کا وقت درج ہے۔

اس لیے آٹوپسی سے متعلق کسی بھی معاملے میں متعلقہ سروس کا درست نام دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر سروس کے لیے مقررہ مدت مختلف ہو سکتی ہے۔

کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ

اگر سرکاری سروس مقررہ مدت میں فراہم نہ کی جائے تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

شہریوں کے لیے اہم بات

آٹوپسی بمعہ ڈی این اے رپورٹ کے لیے مقررہ مدت 3 سے 6 ہفتے ہے۔ اس سروس کے ذمہ دار افسر چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور جبکہ اپیل اتھارٹی ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور ہیں۔

اگر مقررہ مدت میں رپورٹ فراہم نہ کی جائے تو شہری کو درخواست اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھتے ہوئے پہلے اپیل اتھارٹی سے رجوع کرنا چاہیے۔ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں