مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے دنیا کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو جاری رکھتے ہوئے اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اصول کیسے بنائے جائیں؟
مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کے مطابق مختلف ممالک کو اے آئی سے متعلق کسی عالمی فریم ورک پر متفق کرنا سرد جنگ کے دوران جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے مذاکرات سے بھی زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
گیٹس نے یہ بات 27 ستمبر کو ایک امریکی ٹی وی انٹرویو کے دوران کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اے آئی کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرکے بات کرنا چاہیں گے۔
اے آئی کی رفتار اور حکومتی نگرانی
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی کی ترقی کی رفتار اور اس پر حکومتی نگرانی کے معاملے پر بحث جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اے آئی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو سست کرنے کے خیال کی مخالفت کر چکے ہیں۔
گیٹس کا مؤقف اس سے مختلف پہلو اجاگر کرتا ہے۔ ان کے مطابق اے آئی کمپنیوں کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کرانے سے امریکا کو چین کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں لازماً رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ اور دیگر متعلقہ افراد یہ سمجھیں کہ حفاظتی اقدامات اے آئی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے تو اس معاملے پر فیصلے کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
اے آئی کے غلط استعمال کا خدشہ
اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق گیٹس کی تشویش بھی پہلے سامنے آ چکی ہے۔
حالیہ بیانات میں انہوں نے حکومتوں سے اے آئی کی نگرانی اور سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق کچھ افراد مصنوعی ذہانت کو ایسے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں جن کی مثال پہلے موجود نہیں۔
تازہ انٹرویو میں گیٹس نے اے آئی کو انتہائی طاقتور ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے غلط استعمال سے ایک ارب اموات تک کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
عالمی اتفاقِ رائے کا اصل مسئلہ
اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر بنیادی بحث صرف اس بات تک محدود نہیں کہ ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کیا جائے یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ضابطے بنائے جائیں تو ان کا دائرہ کار کیا ہو، ان پر عمل درآمد کیسے کیا جائے اور مختلف ممالک اپنے قومی مفادات کے ساتھ عالمی اصولوں میں کس طرح توازن پیدا کریں۔
اے آئی کی ترقی کے معاملے میں امریکا اور چین سمیت مختلف ممالک کے درمیان تکنیکی اور معاشی مسابقت بھی موجود ہے۔ ایسے ماحول میں مشترکہ عالمی اصول طے کرنا ایک پیچیدہ سفارتی معاملہ بن سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور ذمہ داری کے درمیان توازن
اے آئی کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ اس کے استعمال کے دائرے میں بھی وسعت آ رہی ہے۔ اسی لیے ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی مسابقت، سلامتی اور ممکنہ خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کا سوال عالمی پالیسی مباحث کا حصہ بن چکا ہے۔
بل گیٹس کی تازہ گفتگو اسی بحث میں ایک نمایاں آواز ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں، بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال کا حصہ ہونے چاہییں۔
البتہ کسی عالمی فریم ورک پر اتفاق کے لیے مختلف ممالک کو ایک ہی اصول پر لانا ایک الگ سفارتی اور پالیسی چیلنج ہے—اور یہی وہ پہلو ہے جسے گیٹس موجودہ دور کے بڑے عالمی مذاکراتی مسائل میں شمار کرتے ہیں۔
