Skip to content

آن لائن جنسی بلیک میلنگ: بچوں کو جال میں کیسے پھنسایا جاتا ہے اور والدین کیا کر سکتے ہیں؟

شیئر

شیئر

تحریر: رخسار جاوید

سوشل میڈیا پر ایک اجنبی پیغام، دوستی کی درخواست یا بظاہر معمولی گفتگو بعض اوقات ایسے سلسلے کا آغاز بن سکتی ہے جس میں ایک بچہ بتدریج دباؤ، دھمکی اور بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتا ہے۔

آن لائن جنسی بلیک میلنگ، جسے ’سیکسٹورشن‘ کہا جاتا ہے، میں کسی بچے یا نوجوان کی جنسی نوعیت کی چیٹس، تصاویر یا ویڈیوز کو عام کرنے کی دھمکی دے کر اس سے مزید مواد، رقم یا کوئی اور مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق یہ خطرہ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور موبائل ایپس پر بھی موجود ہے جنہیں بچے اور نوجوان روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن عمران ٹکر کے مطابق پاکستان میں بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق سامنے آنے والے معاملات کو تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

ان کے مطابق ایسے واقعات میں ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ بچے کی شناخت اور ذاتی معلومات حاصل کی جائیں یا بلیک میلر خود کو کسی اور شناخت کے ساتھ بچے کے سامنے پیش کرے۔

’’بچوں سے ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، ان کی تصاویر لی جاتی ہیں اور بات چیت کے ذریعے انہیں اپنے قابو میں کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے۔‘‘

عمران ٹکر کے مطابق اس مرحلے کے بعد متاثرہ بچے سے مختلف مطالبات کیے جا سکتے ہیں۔ اگر بچہ ان مطالبات کو پورا نہ کرے تو اسے دھمکایا یا بلیک میل کیا جاتا ہے۔ بعض بچے دباؤ میں آ کر بلیک میلر کی بات مان لیتے ہیں، جبکہ بعض شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خاموشی کے پیچھے خوف اور شرمندگی

یونیسیف کے مطابق سیکسٹورشن کا شکار ہونے والے بچے اور نوجوان اکثر خوف، شرمندگی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے کسی کو اس بارے میں نہیں بتاتے۔ بعض بچوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ایسی صورتحال میں مدد کے لیے کہاں رابطہ کیا جائے۔

عمران ٹکر کے مطابق والدین اور دیگر بڑوں کے لیے بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی ایک اہم علامت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو بچے باقاعدگی سے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان کے رویے میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے۔ وہ کسی کام میں دلچسپی لینا چھوڑ سکتے ہیں، گھبراہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں یا جسمانی طور پر بھی طبیعت خراب محسوس کر سکتے ہیں۔

’’اگر بچوں میں اس طرح کی علامات نظر آئیں تو والدین یا گھر میں موجود کسی بڑے کو چاہیے کہ وہ بچے کو سمجھیں اور اسے سائیکوسوشل سپورٹ فراہم کریں۔‘‘

تاہم ایسی علامات کی کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف رویے میں تبدیلی کو سیکسٹورشن کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ والدین بچے سے پرسکون انداز میں بات کریں اور اسے اپنی مشکل بیان کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔

’بچے کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں‘

عمران ٹکر کے مطابق ایسے معاملات میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاشرے میں بعض اوقات متاثرہ بچے ہی کو ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بچے کو بلیک میل کیا جا رہا ہو تو والدین کو اس پر غصہ کرنے یا اسے قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اس کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ وہ بلیک میلر کی دھمکیوں کے سامنے مزید دباؤ کا شکار نہ ہو۔

یونیسیف بھی والدین کو بچوں کے ساتھ آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے اور انہیں یہ یقین دلانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے کہ مشکل میں پھنسنے کی صورت میں انہیں سزا دینے کے بجائے مدد فراہم کی جائے گی۔

عمران ٹکر کہتے ہیں کہ بچے کو اکیلا چھوڑنا یا اسے ڈانٹنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس کی ذہنی کیفیت مزید متاثر کر سکتا ہے۔

’’بچوں کو ڈانٹنا، ان پر غصہ کرنا یا ان سے موبائل اور لیپ ٹاپ چھین لینا انہیں مزید ذہنی صدمے میں لے جا سکتا ہے۔‘‘

ان کے مطابق والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی ضرور رکھنی چاہیے، تاہم یہ نگرانی ایسی ہونی چاہیے جس میں بچے کو مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا سے کاٹ دینے کے بجائے محفوظ استعمال کی طرف لے جایا جائے۔

مصنوعی ذہانت سے نیا خطرہ

آن لائن جنسی بلیک میلنگ کا خطرہ صرف حقیقی تصاویر اور ویڈیوز تک محدود نہیں رہا۔ یونیسیف کے فراہم کردہ مواد کے مطابق مصنوعی ذہانت اور ’نیوڈیفائی‘ نوعیت کی ایپس کے ذریعے کسی بچے کی حقیقی برہنہ تصویر موجود نہ ہونے کے باوجود جعلی تصاویر تیار کی جا سکتی ہیں اور پھر انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ متاثرہ بچے کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ تصویر جعلی ہے، جبکہ ایسی تصویر کی موجودگی ہی اس کے لیے خوف اور سماجی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

یونیسیف کے مطابق سیکسٹنگ، یعنی برہنہ یا نیم برہنہ تصاویر اور ویڈیوز کا آن لائن تبادلہ، بھی بعض حالات میں بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ بلیک میلر ضروری نہیں کہ کوئی اجنبی ہو؛ وہ دوست، سابق پارٹنر یا کوئی جاننے والا شخص بھی ہو سکتا ہے۔

اگر بچہ بلیک میلنگ کا شکار ہو جائے تو کیا کیا جائے؟

ماہرین کی فراہم کردہ رہنمائی کے مطابق ایسے موقع پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو اکیلا نہ چھوڑا جائے اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

عمران ٹکر کے مطابق والدین کو بچے کی بات سننی چاہیے، اسے بلیک میلر کے مطالبات پورے نہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے اور معاملے کو متعلقہ اداروں تک پہنچانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اور متعلقہ چائلڈ پروٹیکشن سروسز کو بھی ایسے واقعات سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور معاملے کی پیروی جاری رکھی جانی چاہیے۔

ان کے مطابق اگر کسی شخص پر بچے کو بلیک میل کرنے کا شبہ ہو تو معاملے کو مناسب قانونی ذرائع سے آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ متعلقہ ادارے بلیک میلر کی شناخت اور کارروائی کر سکیں۔

یونیسیف کے مطابق ایسے واقعات میں والدین پولیس، متعلقہ اسکول یا چائلڈ ہیلپ لائن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آن لائن موجود تصاویر یا ویڈیوز کو ہٹانے کے لیے ’Take It Down‘ جیسی مفت سروس بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

’صرف موبائل چھین لینا حل نہیں‘

عمران ٹکر کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے صرف موبائل فون یا انٹرنیٹ تک رسائی ختم کر دینا کافی نہیں۔ ان کے خیال میں بچوں کو محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل استعمال سکھانا بھی ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر بچوں کے موبائل اور انٹرنیٹ استعمال کو محدود اور والدین کی نگرانی میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن مکمل طور پر رابطہ منقطع کرنے کے بجائے بچے کی مدد، نگرانی اور بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔

’’بچوں کو اتنی سہولت دینی چاہیے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل میڈیا کو، جو سہولت کے لیے بنایا گیا ہے، اچھے طریقے سے استعمال کر سکیں اور اس سے متاثر نہ ہوں۔‘‘

ان کے مطابق حکومت کی سطح پر بھی ایسا منظم نظام ضروری ہے جس کے ذریعے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کے معاملات کی رپورٹنگ، نگرانی، قانونی کارروائی اور متاثرہ بچوں کی بحالی کے مراحل واضح ہوں۔

مسئلے کا حل صرف ٹیکنالوجی میں نہیں

سیکسٹورشن سے نمٹنے کا چیلنج صرف یہ نہیں کہ بچوں کو مشتبہ لنکس یا اجنبی اکاؤنٹس سے کیسے بچایا جائے۔ اس میں بچے اور والدین کے درمیان اعتماد، بروقت رپورٹنگ، قانونی مدد، چائلڈ پروٹیکشن نظام اور آن لائن پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔

یونیسیف کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بنیادی آگاہی، والدین اور بچوں کے درمیان کھلی گفتگو اور بروقت مدد حاصل کرنا اہم ہے۔

عمران ٹکر بھی اس مسئلے سے نمٹنے میں بچوں کو الزام دینے کے بجائے انہیں تحفظ اور معاونت فراہم کرنے پر زور دیتے ہیں۔

ان کے مطابق مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی بچہ آن لائن خطرے میں پھنس جائے تو وہ خوف یا شرمندگی کی وجہ سے خاموش نہ رہے بلکہ کسی قابلِ اعتماد بالغ سے بات کر سکے، اور اس کے بعد خاندان اور متعلقہ ادارے اسے مزید نقصان سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات کریں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں