Skip to content

آیت نور قتل کیس میں پیش رفت، عدالت کا اہم فیصلہ

شیئر

شیئر

ہری پور: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-VI ہری پور شاہ فیصل کی عدالت نے کمسن بچی کے اغوا، مبینہ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان قاسم نثار، طلحہ فرید اور محمد عثمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ کمسن بچی سے زیادتی اور قتل جیسے جرائم ناقابلِ راضی نامہ ہیں اور ایسے جرائم کو محض مدعی کی رضامندی یا عدم اعتراض کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسے جرائم کی نوعیت معاشرے اور ریاست کے خلاف جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔

تھانہ ٹی آئی پی ہری پور میں درج مقدمہ نمبر 361، مورخہ 10 اگست 2026، میں ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 364-A، 302، 376 اور 34 سمیت چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 53 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران مدعی مقدمہ اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا اور ملزمان کی ضمانت پر عدم اعتراض کا بیان دیا، تاہم سرکاری وکیل ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر جاوید یوسف نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون اور دستیاب شواہد کے منافی ہوگی۔

عدالت نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمے کے ریکارڈ اور تفتیشی مواد کے مطابق کمسن بچی کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق میڈیکل شواہد اور دیگر تفتیشی مواد بادی النظر میں ملزمان کو وقوعے سے جوڑتے ہیں، جبکہ ملزم محمد عثمان کے مجسٹریٹ کے سامنے بیان اور نشاندہی کا بھی عدالت نے جائزہ لیا۔

عدالت کے مطابق مقدمے میں عائد دفعات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے ممنوعہ درجے میں آتی ہیں، اس لیے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر ملزمان ضمانت کے حقدار نہیں بنتے۔

دوسری جانب ملزمان کے اہلخانہ اور مقامی افراد کی جانب سے مقدمے کی تفتیش پر پہلے ہی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پولیس کی ایک دوسری رپورٹ میں گرفتار بچوں کو بے گناہ قرار دیے جانے کا ذکر موجود ہے، تاہم مذکورہ رپورٹ کا حوالہ عدالت کے موجودہ ضمانتی فیصلے میں شامل نہیں کیا گیا۔

ملزمان کے خاندان اور اہل علاقہ کی جانب سے بچوں پر مبینہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان الزامات اور پولیس کی دوسری رپورٹ کی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ تفتیشی اور عدالتی کارروائی میں ہونا باقی ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں