ہری پور: پانچ سالہ آیت نور کے اغوا، مبینہ زیادتی اور موت کے مقدمے میں گرفتار کم عمر ملزمان عثمان، طلحہ اور قاسم کے لواحقین نے پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھاتے ہوئے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو براہِ راست شواہد کی بنیاد پر مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران ایک دوسرے کے نام سامنے آنے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔
قاسم نثار کے والد نثار احمد نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ پولیس نے پہلے قاسم سے اس کے دوستوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جس پر اس نے طلحہ کا نام لیا۔ ان کے مطابق طلحہ سے پوچھ گچھ کے بعد عثمان کا نام سامنے آیا اور یوں تینوں بچوں کو مقدمے میں شامل کر لیا گیا۔
نثار احمد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے خلاف براہِ راست شواہد موجود نہیں اور تفتیش میں بچوں کے باہمی تعلق کو بنیاد بنایا گیا۔
حراست میں مبینہ تشدد کے الزامات
لواحقین نے بچوں کے ساتھ دورانِ حراست مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ بچوں کو مبینہ طور پر برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی بھی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
تاہم ان الزامات کے حوالے سے پولیس کا کوئی واضح مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ آیت نور کے لیے انصاف چاہتے ہیں، لیکن ان کے مطابق انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کے بچوں کے خلاف بھی صرف قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔
پولیس کا مؤقف کیا ہے؟
پولیس نے مقدمے کی ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج، جیو فینسنگ اور دیگر تفتیشی ذرائع کی مدد سے کی گئی۔
پولیس کے مطابق عثمان، طلحہ اور قاسم سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور کیس میں مزید تفتیش جاری رہی۔
13 ستمبر کو عدالت نے طلحہ، عثمان اور قاسم کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا تھا۔
کیس کی تفتیش پر سامنے آنے والے سوالات کے بعد ڈی آئی جی ہزارہ کی جانب سے ایس پی انویسٹی گیشن ایبٹ آباد کی سربراہی میں پانچ رکنی نئی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔
اس ٹیم کو کیس کے شواہد اور پہلے سے ہونے والی تفتیش کا دوبارہ جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا جائزہ
آیت نور کیس پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بھی 11 ستمبر کو بریفنگ حاصل کی تھی۔
کمیٹی کو کیس کی تفتیش کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جس کے بعد نئی تفتیشی ٹیم کو مقدمے کا ازسرنو جائزہ لے کر 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت سے متعلق اعلان کیا گیا۔
آیت نور کی موت کیسے ہوئی؟
پانچ سالہ آیت نور کی لاش 24 اگست کو ہری پور میں ایک کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔
بعد ازاں سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کی گئی جبکہ موت کی وجہ شدید صدمے اور خون بہنے کو قرار دیا گیا۔
مقدمے میں گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔
اسی طرح کم عمر ملزمان کے لواحقین کی جانب سے پولیس پر عائد کیے گئے مبینہ تشدد کے الزامات کی بھی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
