Skip to content

فیکٹ چیک: ہری پورکی تحصیل غازی کو پنجاب کے ضلع اٹک میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن اور روزنامہ آج کی خبر جعلی ہے

شیئر

شیئر

رپورٹ : شیرافضل گوجر

دعویٰ: روزنامہ آج ایبٹ آباد کی مین سرخی میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہری پور کی تحصیل غازی کو پنجاب میں شامل کر دیا گیا ہے اور ضلع اٹک میں شمولیت کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے۔
حقیقت:تحصیل غازی کو پنجاب میں شامل کرنے کے حوالے سے روزنامہ آج اخبار کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفیکیشن اور دیگر پلیٹ فارم پر پھیلائی گئی خبریں جعلی اور گمراہ کن ہیں۔۔

خیبر پختونخو،اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے مختلف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے 8 اگست 2026 کی تاریخ والا ایک مبینہ سرکاری نوٹیفکیشن بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلع ہری پور کی تحصیل غازی کو خیبرپختونخوا کی انتظامی حدود سے نکال کر پنجاب کے ضلع اٹک کے تحت شامل کر دیا گیا ہے۔

اس نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے اخبار روزنامہ آج ایبٹ آباد نے مین سرخی لگائی ہےاور پشاور ایڈیشن میں چار کالمی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے علاوہ صحافیوں کی بڑی تعداد نے بھی اس نوٹیفیکیشن کو شئیرکرکے اس پر کمنٹری کی ہے ۔اس کے علاوہ یہاں ،یہاں اور یہاں اس نوٹیفیکیشن کو شئیر کیا گیا ہے۔کافی لوگوں نے اس خبر پر رد عمل دیتے ہوئے احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے۔۔

مبینہ نوٹیفکیشن پر Government of Pakistan، Ministry of Interior اور Cabinet Division/Land Revenue Cell کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے متعلقہ صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد تحصیل غازی کو اس کی موجودہ انتظامی jurisdiction سے منتقل کرکے پنجاب کے ضلع اٹک کا مستقل انتظامی حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم ہزارہ ایکسپریس نیوز کی فیکٹ چیکنگ کے مطابق یہ دعویٰ غلط ہے اور گردش کرنے والا مبینہ نوٹیفکیشن جعلی ہے۔ دستیاب آئینی، قانونی اور سرکاری شواہد اس دستاویز کے مندرجات کی تصدیق نہیں کرتے۔

اس مبینہ نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے اس کے متن کا آئین پاکستان کے متعلقہ تقاضوں سے موازنہ بھی کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئین اور applicable land revenue laws کے تحت تحصیل غازی کو خیبرپختونخوا سے منتقل کرکے پنجاب کے ضلع اٹک میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہاں بنیادی قانونی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا land revenue laws یا محض وفاقی حکومت کا ایک انتظامی نوٹیفکیشن کسی صوبے کی حدود تبدیل کرسکتا ہے؟

آئین پاکستان کے آرٹیکل 1 کے تحت خیبرپختونخوا اور پنجاب پاکستان کے الگ صوبے ہیں، جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری وفاقی دارالحکومت کے طور پر الگ آئینی حیثیت رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ پاکستان بھی واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری صوبائی علاقوں سے الگ آئینی territory ہے۔

مزید اہم آئینی شرط آرٹیکل 239(4) میں موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے اور کوئی آئینی ترمیم جو کسی صوبے کی حدود تبدیل کرتی ہو تو ایسی ترمیم کو صدر کی منظوری کے لیے اس وقت تک پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری سے منظور نہ کرے۔

اس لیے خیبرپختونخوا کی تحصیل غازی کو پنجاب کے ضلع اٹک میں شامل کرنا محض تحصیل، ضلع یا land revenue administration کی معمول کی تبدیلی نہیں ہے۔ اس سے ایک صوبے کی territorial limits متاثر ہوتی ہیں اور ایسا اقدام آئینی طریقۂ کار کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔

مبینہ نوٹیفکیشن کے متن میں اس آئینی عمل کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ اس میں نہ کسی آئینی ترمیم کا نمبر موجود ہے، نہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کا حوالہ دیا گیا ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا اسمبلی کی دو تہائی منظوری کا کوئی ذکر موجود ہے۔

دستاویز کی ظاہری ساخت بھی سوالات پیدا کرتی ہے۔ نوٹیفکیشن کے سرِورق پر "Ministry of Interior” کے نیچے "(Cabinet Division / Land Revenue Cell)” لکھا گیا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی سرکاری Cabinet Division directory اور سالانہ دستاویزات میں Cabinet Division کو الگ وفاقی Division کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے باقاعدہ wings اور offices بھی درج ہیں۔

اس کے علاوہ دستیاب سرکاری آن لائن ریکارڈ میں "E. 412)-Reg/2026” کے نمبر سے تحصیل غازی کو ضلع اٹک میں منتقل کرنے والے اس مبینہ نوٹیفکیشن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور متعلقہ ڈیپارٹممنٹ نے بھی ایسے کسی نوٹیفیکیشن سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔۔

اس فیک نوٹیفکیشن میں اس کے فوری نفاذ کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے اور وفاقی و صوبائی حکام، چیف سیکرٹری پنجاب، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، Senior Member Board of Revenue Punjab، Commissioner Rawalpindi، Deputy Commissioner Attock اور Assistant Commissioner Ghazi سمیت متعدد افسران کو نقل بھی بھیجی گئی ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 8 اگست 2026 کی تاریخ والے اس مبینہ نوٹیفکیشن میں غازی کو نہ صرف خیبرپختونخوا سے نکالنے بلکہ اسے پنجاب کے ضلع اٹک کا "permanent administrative constituent” بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی تبدیلی عام administrative notification سے کہیں زیادہ سنگین آئینی نوعیت رکھتی ہے۔

ہزارہ ایکسپریس نیوز فیکٹ چیک کے لیے دستیاب شواہد میں اس دعوے کی حمایت میں کوئی آئینی ترمیم، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری، معتبر وفاقی گزٹ یا ایسا مستند سرکاری ریکارڈ سامنے نہیں آیا جو غازی کو ضلع اٹک، پنجاب کا حصہ قرار دیتا ہو۔

میڈیا کے اداروں کے لیے یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کسی حساس آئینی اور جغرافیائی تبدیلی سے متعلق خبر صرف ایک تصویر یا مبینہ سرکاری دستاویز کی بنیاد پر شائع نہیں کی جانی چاہیے۔ ایسی دستاویز کی تصدیق کے لیے اصل issuing authority، notification number، قانونی اختیار، متعلقہ قانون، official gazette، صوبائی حکومتوں کے ریکارڈ اور متعلقہ اسمبلی کی کارروائی کو cross-check کرنا ضروری ہوتا ہے۔

جعلی نوٹیفکیشن کی بنیاد پر روزنامہ آج اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع کی جانب سے خبر شائع کیے جانے کے باوجود دستیاب سرکاری شواہد اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ کسی اخبار یا سوشل میڈیا پیج پر خبر شائع ہونا خود اس دستاویز کے مستند ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

ہزارہ ایکسپریس نیوز فیکٹ چیک کے مطابق تحصیل غازی کو خیبرپختونخوا سے نکال کر پنجاب کے ضلع اٹک میں شامل کیے جانے کا دعویٰ غلط ہے۔ گردش کرنے والا مبینہ نوٹیفکیشن دستیاب آئینی اور سرکاری شواہد سے ثابت نہیں ہوتا اور اس میں جعلسازی یا fabricated document ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحصیل غازی بدستور ضلع ہری پور، خیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔
کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے آئین پاکستان کے تحت مقررہ آئینی طریقۂ کار ضروری ہے؛ محض land revenue laws کے تحت ایک انتظامی نوٹیفکیشن سے خیبرپختونخوا کی تحصیل کو پنجاب میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں