تاریخ کی قدیم کتب میں ہزارہ کا نام ابی ساریز ملتا ہے ۔ ابی ساریز پونچھ کشمیر کا حاکم تھا اور یہ ملک سکندر اعظم نے اس کو دیا تھا ۔
ڈاکٹر آٰئن سٹائن کے خیال میں ہزارہ اراسہ urasa ہے اور رش اس سے مشتق ہے میدان رش مابین ایبٹ آباد کاکول اور میر پور واقع ہے ۔
ٹولمی (یونانی جغرافیہ دان جو سنکدر اعظم کے ساتھ آیا ) نے اس علاقہ کو ارسا یا اراسا کا نام دیا ۔
لاسن نے اپنی کتاب انڈس آلٹر تھمس کنڈ میں لکھا ہے کہ اس علاقے کے راجہ کا نام ”ارس کس“ ہے ۔
بطلیموس نے دریاۓ سندھ اور دریاۓ سندھ کے درمیان اس علاقے کو اپوا یا اواپاؤ کہا ہے
چینی سیاح ہیون سانک جو اس ملک میں ساتویں صدی عیسوی میں آیا اس نے ہزارہ کے نام کا ذکر ملک ”دولاشی “کے کیا ہے اور اس کو کشمیر کے ماتحت اور اس کے شمال مغرب میں بیان کیا ہے ۔ اس علاقہ کا دارالسلطنت مانگل تھا ۔
ہندوستانی تاریخ ” مہابھارت “ میں اس علاقہ کا نام”ارگا یا اراگا “ درج ہے جس کے معنی جھیل کے ہیں اسی سے لفظ اورش بنا ہے ۔
326 قبل مسیح میں جب سکندر نے اس خطے پر حملہ کیا تو یہ علاقہ کشمیر کے ابھیسارا کے حوالے کر دیا ۔ اس علاقے کا نام ابھیسارا ہو گیا ۔
1049 سے 1063 تک یہ خطہ گلاشاہ بادشاہ کشمیر کے ماتحت رہا ۔
1112 میں مہاراجہ شسالا نے اورشہ پر حملہ کیا اور خراج مقرر کیا ۔
پنڈت کلہن کی کتاب راج ترنگنی (اشاعت 1149ء) میں ہزارہ کا نام ارشہ urasha ملتا ہے ۔
اورل سٹین کا موقف ہے کہ ایک قدیم سنسکرت محطوطے میں اس علاقے کا نام یوراسا یا یوراشا بمعنی جھیل کے آیا ہے ۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل کنگھم کا کہنا کہ زیریں ہزارہ میں ٹیکسلا کے قریب ہزار سروں والے اسٹوپا کے باعث علاقے کا نام چھچھ ہزارہ پڑا ہے ۔ مہتمم بندوبست ہزارہ 1872 کیپٹن ای جی ویس نے اپنی پیش کردہ بندوبست رپورٹ میں اس کو رد کیا ہے۔
جنرل کنگھم لکھتے ہیں اس ضلع کے باسی آریاؤں کے بعد تک Takkas تھے ۔ جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دوسری صدی قبل مسیح کے وسط میں یہاں آۓ تھے ۔اس وقت سندھ اور جہلم کے درمیان کا علاقہ Summa کہلاتا تھا ۔ پشاور اور سندھ کا مغربی علاقہ گندھاروں کے پاس تھا ۔
1390 میں جب امیر تیمور کی آمد ہوئ تو یہ علاقہ ہزارہ قارلق کے نام سے مشہور ہوا ۔
تزک جہانگیری میں بالائ ہزارہ کا نام ” پکھلی“ درج ہے
تزک بابری میں ہزارہ کا نام ہزارہ قارلق درج ہے ۔ بابر لکھتا ہے نیلاب اور ہزارہ قارلق ہمایوں کو جاگیر میں دیے ۔
آئین اکبری میں علامہ ابو الفضل العلامی نے اس خطے کو ہزارہ گوجراں کا نام دیا ہے ۔
انگریزوں کے ابتدائ عہد تک ہزارہ قارلق اور ہزارہ گوجراں کا نام تاریخی اور سرکاری دستاویزات میں استعمال ہوتا کیا جاتا رہا ۔ لیکن انگریزوں کے پہلے بندوبست کے زمانے میں یہ صرف لفظ ہزارہ مستعمل ہوا ۔
انسائکلوپیڈیا آف پاکستانیکا کے مطابق ہزارہ نام کی ابتدائی تاریخ غیر واضح ہے۔ اس کی شناخت ابھیسارا کے ملک کے طور پر کی گئی ہے، جو سکندر کے دور حکومت میں اس علاقے کا حکمران تھا، ڈاکٹر اسٹین اسے وراشا کے قدیم نام پہالی سے ماخوذ کرتے ہیں، جو اب بھی اورش یا رش کے میدان میں موجود ہے، اورش غالباً مہابھارت کا یوراگا ہے۔
1399ء عیسوی میں تیمور نے ہندوستان پر حملے کے بعد ضلع کو کارلغ ترکوں کے حوالے کر دیا اور ترکوں کی آبادی کے لیے ہزارہ نام رکھا گیا یہ ترک لفظ ہزاہ منگ کا ترجمہ ہے جس کا مطلب ہے ہزار آدمیوں کی فوج۔
رپورٹ مردم شماری 1961ء ضلع ہزارہ کے مطابق عہد مغلیہ میں ہزارہ کا بڑا حصہ ”پکھلی“کہلاتا تھا ۔
بعض لوگ کہتے ہیں یہاں ہزارہا قبائل یا ذاتوں کے لوگ رہتے تھے ۔جس کے باعث اس علاقے کا نام ہزارہ پڑ گیا ۔ بعض اسے ترکوں کے ہزار منگ سے جوڑتے ہیں ۔
بعض مؤرخین کی یہ راۓ ہے کہ ہزارہ میں جھاڑی نما پودا سنتھا یا بن سنتھا عام پایا جاتا ہے ۔ اسے میڈیکل زبان میں ہزارہ کہتے ہیں ۔ گلِ ہزارہ یا برگِ ہزارہ کی ڈکشنری بھی سنتھا نام واضح کرتی ہے ۔ کہتے ہیں سنتھے کی کثرت کی وجہ سے اس خطے کو ہزارہ کا نام دیا گیا ۔
ہزارہ ،ہزارگی ایک نسلی گروہ بھی ہے جو افغانستان کی آبادی کا ایک بنیادی جزو ہے۔ وہ افغانستان کے بڑے نسلی گروہوں میں سے ایک ہیں، جو بنیادی طور پر وسطی افغانستان میں ہزارستان (ہزارات) کے علاقے میں رہتے ہیں۔ ہزارہ پاکستان میں خاص طور پر کوئٹہ اور ایران میں بنیادی طور پر مشہد میں نمایاں اقلیتی برادریوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ وہ دری اور ہزارگی، فارسی کی بولیاں بولتے ہیں۔ دری، جسے دری فارسی بھی کہا جاتا ہے، پشتو کے ساتھ افغانستان کی ایک سرکاری زبان ہے۔
مہتمم بندوبست پشاور کپتان اے جی ہسٹنگز وجہ تسمیہ بااسم قوم ہزارہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سلاطین ماضیہ زابلستان اس قوم سے سال بہ سال ہزار سوار بعوض باج وخراج بطور قشون جیسا کہ اس ملک میں رسم تھی ۔بسبیل استعمرار واسطے خدمات شاہی کے لیے جاتے تھے ۔ اس سبب سے یہ قوم موسوم بہ ہزار اور منسوب بہ ہزارہ کے ہوئ ۔ اہل ایران ہزارہ کو بربری اور ملک ہزارہ کو تبر تر کہتے ہیں شاید کہ یہ اسم بنسبت بند بربر جسکو بند امیبر کہتے ہیں ۔ اور جو ہزارستان کے شمال میں ترکستان کی حد پر ہے ایرانیوں نے اسے منسوب کیا ہے ۔
مشہور افغان مؤرخ اور زبان شناس عبدالحئ حبیبی اپنے تحقیقی مقالہ ( کیا لفظ ہزارہ قدیم ہے ۔۔۔۔۔مطبوعہ آریانا کابل 1968ء ) میں لکھتے ہیں لفظ ہزارہ دراصل اراکوزی سوزولا ( Hosola) سے اخذ کیا گیا ہے اور لفظ ہزارہ کا مطلب ہے باسعادت ۔
ہزارہ لفظ کی تحقیق کے لیے ہم نے روسی محقق اور تاجکی لینن یونیورسٹی کے اکادمی شرق شناسی کے پروفیسر تیمور خانوف کی تصنیف ”تاریخ ہزارہ ملی “ کا مطالعہ کیا ۔ تمیور خانوف لکھتے ہیں کہ ہزارہ اورصدہ کے الفاظ فوجی اور انتظامی اصطلاحات کے طور پر پہلی مرتبہ تیرھویں صدی عیسوی میں فارسی اورترکی زبانوں سے رائج ہوۓ ۔
ہزارہ کی وجہ تسمیہ کو ہزارہ کے مؤرخین میں سب سے ذیادہ موؤخ محبوب کالس ایڈووکیٹ صاحب نے اپنی کتاب (سندھ ساگر کے شمال میں ہزارہ )میں مفصل، جامع اور مستند حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
آپ لکھتے ہیں”سنسکرت زبان میں اورش کے معنی سینہ، دل یا مرکز کے ہیں۔ ایبٹ آباد شہر کے قریب میدان رش کا علاقہ اب بھی اورش کہلاتا ہے اور علاقے کا یہ انتہائی مقبول عام نام ہے ۔ بلاشبہ مغلوں کی ہزارہ میں آمد تک ارشہ نام ہی مروج رہا ہے۔ ارشہ قدیم وقتوں سے کشمیر کی طاقتور حکومتوں کا باجگزار رہا ہے بوجہ ایں کلہن کی راج ترنگنی میں جابجا ہزارہ کا نام ارشہ Urasa ملتا ہے، واضح رہے کہ کلہن کی یہ کتاب 1149ء میں لکھی گئی تھی جو ہندوستان میں تاریخ کے موضوع پر لکھی گئی پہلی منظوم کتاب ھے۔
علاقے کے دو مشہور اور قدیم گاؤں نواں شہر اور دھمتوڑ اتنے پرانے ہیں جتنا علاقے کی تاریخ۔ ان ہر دو گاؤں کا ذکر اکبر بادشاہ اور پھر شہنشاہ جہانگیر کے کشمیر کے سفر کے حالات کے ضمن میں جہانگیر کی یادداشت میں تفصیل سے ملتا ہے۔
ہزارہ نام قبل اسکے ابوالفضل کی آئین اکبری میں ہزارہ قرلاغ اور ہزارہ گوجراں کے طور پر ملتا ہے۔
اب سوال یہ کہ ارشہ سے ہزارہ کیونکر ہو گیا؟ آیا ہزارہ ارشہ ہی کی کوئی شکل ھے یا ہزارہ مختلف کوئی نام ھے جو اپنے اندر کوئی الگ سے مطلب رکھتا ہے۔ اس تاریخی نکتے کے ضمن میں کوئی قابل قبول توجیح ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئی ہے۔“
ہزارہ کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے جو روایات بیان کی گئیں ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے ۔ کہ قدیم نام ارشہ تھا( ا پر واؤ )
ارشہ سنسکرت ذبان کا لفظ ہے جس کے معنی سینہ دل یا مرکز کے ہیں ۔ مہا بھارت کا ارگا رداصل ارشہ ہی تھا یہ نام 1399ء تک رائج رہا ۔ پھر اس کی جگہ ہزارہ رائج ہو گیا ۔
ارشہ نام ہندو گوجر راجہ ہرش کے دور میں رائج ہوا ۔606ء سے 647ء ہرش خاندان کی حکومت رہی ۔
چینی سیاح ہیون سانگ ہرش کے دور میں یہاں آیا تھا ۔ قدیم تاریخ ہند مصنفہ ونسنٹ ۔ اے ۔سمتھ لکھتے ہیں ۔ کہ ہیون سانگ کے بیانات سے ہرش کی سلطنت کے حدود کے باہر ساتویں صدی عیسوی میں ہندوستان کی سیاسی حالت پر بہت روشنی پڑتی ہے ۔ شمال میں کشمیر کی طاقت بہت بڑھ گئ تھی ۔ اور اس نے ٹکسلا ، سمہیور ( کوہستان نمک)، اور ارشا کو زیرنگین کر کے اپنا باجگذار بنا لیا تھا ۔
ہیون سانگ سے صدیوں بعد ارشہ کی سلطنت کشمیر کے ماتحت رہی ۔ اس کی تصدیق کلہانہ کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ بارشاہ شنکر ورمن جب 902ء میں اس ملک سے گزر رہا تھا تو فوجوں کے خیمہ زن ہونے کے متعلق باشندگان ارشہ کا اس سے جھگڑا ہو گیا ۔ ایک تیر جو پہاڑ کی چوٹی سے پھینکا گیا ۔ وہ اس کی گردن پر لگا یہ ضرب مہلک ثابت ہوئ اور وہ واپس کشمیر جاتے ہوۓ راستے میں ہی مر گیا ۔
1023ء میں زیریں ہزارہ جے پال کھٹانہ کی حکمرانی میں تھا ۔
کلہن کے شلوک میں ارشہ کی طرف سے خراج کی ادائیگی کا ذکر سوسل کے عہد میں آتا ہے
کلہن کے مطابق اگلی صدی میں کشمیر کے راجہ کلش (1063 تا 1089ء) کے جرنیل مل نے غیرملکی مہمات کے دوران ارشہ کے راجہ ابھے کی سلطنت فتح کر لی اور تمام گھوڑوں پر قبضہ کر لیا تو 1087ء میں ایک ہی وقت آٹھ راجے اس کے دارالسلطنت میں جمع ہوئے جن میں ارشہ کا فرمانروا راجہ سنگت بھی شامل تھا۔ ان راجاؤں کی یہ مجلس تاریخ گرجارا منڈل کے نام سے مشہور ہے۔ راج ترنگنی میں ایک بار پھر کشمیر کے راجہ جے سنگھ (1128 تا 1149ء) کے آخری زمانہ حکومت میں اتیاگرہ پورہ (موجودہ اگرور) اور ارشہ کے راجہ دوتیہ کے علاقے پر یلغار کا ذکر ملتا ہے۔زمانی ترتیب سے اگر دیکھاجاۓ تو
⏪ 558 ق م میں ہزارہ آریہ سلطنت کا حصہ تھا
⏪322 ق م میں موریہ سامراج قائم ہوا ۔
⏪297 ق م سے 321 ق م چندر گپت حاکم کشمیر و ہزارہ ہوا ۔
⏪326 ق م سکندر نے یہ علاقہ کشمیر کے راجہ ابھیسارا کے حوالے کیا
⏪273 ق م میں اشوک اعظم نے عنان حکومت سنبھالی
⏪185 ق م میں سنگ خاندان حکومت قائم ہوئ
⏪165 ق م میں کشن سامراج شروع ہوا
⏪25 ق م تک ستھین اور پارتھین قابض رہے ۔
⏪28 ق م میں آندھرا نامی دراوڑ نسل قابض ہوئ ۔
⏪75ء میں کشان بادشاہت قائم ہوئ
⏪200ء میں ہزارہ راجہ رسالو کے زیر تسلط رہا ۔اس کے بعد چند گپت خاندان کی حکومت رہی
⏪455ء میں سفید ہن نے کشان سلطنت پر قبضہ کر لیا ۔
⏪606 سے 647 تک ہرش خاندان کی حکومت رہی
⏪1021ء زیریں ہزارہ جے پال کھٹانہ کی حکمرانی میں تھا ۔
⏪1063 سے 1049 کلاہ شاہ والئ کشمیر اس حصے پر پر حکمران تھا اور بعد میں راجہ ابھیایا ہزارہ کا حاکم رہا ۔
⏪1112 میں شاہ سوسالا نے اورشہ پر حملہ کیا ۔
⏪1128 میں شا جیہا شمہ سہما نے والئ اورشہ کو شکشت دی
⏪1186 تک غزنوی خاندان کی حکومت رہی
⏪1206 تک غوری خاندان حکمران رہا ۔
⏪1398ء میں امیر تمور کے دور میں ہزارہ کابل کے زیراثر آ گیا ۔
⏪1525ء سے 1799 تک ہزارہ مغلیہ شہنشاہوں کے زیر تسلط رہا ۔
⏪1799 سے 1849 تک ہزارہ رنجت سنگھ ، ہری سنگھ اور مہاراجہ گلاب کی قلمرو میں رہا
⏪1849 سے 1947 ہزارہ پر انگریزوں کی حکومت رہی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جاتی کتب
1۔ ہزارہ گزیٹیر1907ء ایچ ڈی واٹسن
2۔ لینڈ سیٹلمنٹ رپورٹ 1872 آف ہزارہ ڈسٹرکٹ مرتبہ ای۔ جی ویس
3۔ تاریخ ہزارہ (ترکوں کا عہد )ارشاد خان
4.۔ تاریخ ہزارہ از ڈاکٹر شیر بہارد پنی
5۔ آئین اکبری از شیح ابوالفضل العلامی مترجم فدا علی طالب
6۔ ہزارہ گزیٹئیر 1883/84
7 ۔ ثقافت سرحد تاریخ کے آٰئینہ میں از قاری جاوید اقبال
8۔جھیلوں کی سرزمین وادی کاغان از فیاض عزیز
9۔ تواریخ ہزارہ از مرزا اعظم بیگ
10۔ صٖفحہ خاک از احمد حسین مجاہد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و تحقیق۔۔۔۔۔
محمد امجد چوہدری


