Skip to content

بٹگرام کا وہ ہسپتال جہاں حاملہ خواتین کی رسائی ناممکن ہے!

شیئر

شیئر

تحریر: سید سلمان حیدر


‎ضلع بٹگرام گاؤں بلندکوٹ کا وہ واحد بنیادی طبی مرکز ہے جہاں صحت مند آدمی کی رسائی بھی مشکل ہے۔ اس گاؤں میں یہ واحد سرکاری ہسپتال ہے جو دو ہزار دس میں حکومت جاپان کے تعاون سے بنایا گیا لیکن اس کے لئے کوئی روڈ میپ نہیں بنایا گیا کہ اس تک مقامی لوگوں کی رسائی کیسے ہوگی اور یہاں مریض کیسے جائے گا۔ خصوصاً حاملہ خواتین کا اس ہسپتال تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔

‎آج سے اٹھارہ سال قبل دو ہزار دس میں اس ہسپتال کا کام مکمل ہوا۔ ضلع بٹگرام میں اور ہسپتال بھی حکومت جاپان کے تعاون سے بنائے گئے تاہم اس ہسپتال کو بنانے میں کافی تین کروڑ سے بھی ذیادہ بجٹ لگا کیونکہ یہ ایسی جگہ تعمیر کیا گیا جہاں کوئی روڈ نہیں اور نہ ہی قریب کوئی آبادی۔ مجبوراً ٹھیکیداروں کو خچروں اور پائپوں کے ذریعے میٹیریل کو اس جگہ پہنچانا پڑا۔ یہ تنگ درہ قسم کی جگہ ہے جہاں دن کو بھی اندھیرا اندھیرا لگتا ہے۔ عموماً یہاں سے لوگ گزرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کیونکہ پہاڑی علاقے ہونے کی وجہ سے یہاں اکثر سردیوں میں برف پڑی ہوتی ہے۔


‎حکومت کے فائلوں میں یہ ہسپتال تو فنکشنل ہے یہاں عملہ بھی ہے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی ہے تاہم یہاں کوئی مریض نہیں آتا اور نہ ہی آسکتا ہے۔ جب ہم نے یہاں تعینات ڈاکٹروں سے بات کی تو انہوں بتایا کہ وہ روز ڈیوٹی پر تو آتے ہیں لیکن یہاں کوئی مریض نہیں ہوتا۔ حاملہ خواتین کے سوال پر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہاں تمام سہولیات بھی ہے اور خواتین ڈاکٹر بھی لیکن مشکل راستوں کی وجہ سے کوئی مریض نہیں آسکتا۔ جبکہ اس علاقے کے لوگ دور دراز شہر کے ہسپتالوں میں تکلیف اور معاشی نقصان اٹھاتے ہیں۔


‎راشد (فرضی نام ) یہاں کے مقامی ہے وہ اس ہسپتال کے حوالے سے کہتا ہے "میں نے کبھی کسی مریض کو اس ہسپتال کی جانب جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ راشد سمجھتا ہے کہ اس ہسپتال تک عام صحت مند آدمی بھی نہیں جا سکتا تو مریض کیسے پہنچے گا اور حاملہ خواتین کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ میں جب بھی گھر والوں کو ہسپتال لے کر جاتا ہوں تو پندرہ سے بیس ہزار روپے ضرور لگتے ہیں اور آنے جانے کے اخراجات الگ لگتے ہیں۔ یہ اُس وقت چند لوگوں کے غلط فیصلے کی وجہ سے یہ ہسپتال ہماری پہنچ سے دور ہوگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی اگر حکومت کچھ اقدامات کرے یا تو اسے ابادی کے قریب شیلٹر میں منتقل کرے اور یا یہاں سڑک بنائے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک جگہ لوگ پہنچ نہیں سکتی اور ادارے وہاں ہسپتال بنا دیتے ہیں۔


‎راشد سے بات چیت کے بعد ہم نے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر سے بات کی وہ کہتا ہے میں نے بارہا کوشش کی ایک مرتبہ تو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے یقین دہانی کرائی کہ ہم اس ہسپتال کو ابادی کے قریب منتقل کرے گے اور ہم نے پھر وہاں ایک نان فنکشنل سکول بھی دیکھا، مالکان سکول دینے پر راضی بھی تھے لیکن یہ بات جب پبلک ہوئی تو سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہسپتال کی منتقلی نہ ہو سکی۔


‎ڈاکٹر غضنفر حال ہی میں ایم بی بی ایس کر چکے ہیں ۔ان کی پہلی تعیناتی اس سال جولائی میں  بی ایچ یو بلندکوٹ میں ہوئی لیکن وہ یہاں اپنی صلاحیتوں کو ضائع ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہاں مریض نہیں ہوتے اور لوگ خطرناک راستے کی وجہ سے  شہروں میں جاکر پرائیویٹ ڈاکٹروں کو ہزاروں روپے دے کر علاج کرتے ہیں۔
‎
‎ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ہسپتال کی طرف توجہ دے اور اس مسئلے کی ممکنہ حل کے لئے اقدامات کرے  تاکہ کم از کم یہاں عوام کی رسائی ممکن ہوسکے اور لوگ اس سے مستفید ہو۔
‎

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں