تحریر: رخسار جاوید
’’مجھے رات کو نیند نہیں آتی، ہر وقت تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے، کسی کام کو کرنے کا دل نہیں کرتا، سر میں درد رہتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے زندگی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
یہ وہ جملے ہیں جو آج کل ہماری روزمرہ زندگی میں اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ کبھی کسی دوست کی گفتگو میں، کبھی دفتر میں کسی ساتھی کی زبان سے اور کبھی اپنے ہی گھر میں کسی ایسے فرد سے جو بظاہر بالکل معمول کے مطابق زندگی گزار رہا ہوتا ہے، لیکن اندر سے کسی ایسی کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
بعض اوقات ہم ایسے لوگوں کی بات سن کر کہہ دیتے ہیں کہ یہ محض وہم ہے، ضرورت سے زیادہ سوچنے کی عادت ہے یا زندگی کی مشکلات سے گھبرانے کا نتیجہ ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر تکلیف نظر نہیں آتی اور ہر پریشانی کا اظہار آنسوؤں سے نہیں ہوتا۔ بعض لوگ مسکراتے ہوئے بھی ذہنی دباؤ، بے چینی اور اندرونی تھکن کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
ذہنی صحت کا مسئلہ ہمیشہ چہرے پر دکھائی نہیں دیتا، لیکن اس کے اثرات انسان کی پوری زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔
ذہنی دباؤ کو وہم سمجھنا کب چھوڑیں گے؟
پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی صحت پر بات کرنا آج بھی آسان نہیں۔ جسمانی بیماری ہو تو انسان ڈاکٹر کے پاس جانے، ٹیسٹ کروانے اور علاج لینے کے بارے میں سوچتا ہے، لیکن جب مسئلہ ذہنی کیفیت سے متعلق ہو تو اکثر اسے خاموش رہنے، صبر کرنے یا خود کو مصروف رکھنے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔
بعض لوگ تو ذہنی پریشانی کا ذکر کرنے والے کو کمزور ارادے کا مالک سمجھنے لگتے ہیں۔ خصوصاً خواتین، نوجوانوں اور کام کرنے والے افراد کے لیے اپنی ذہنی کیفیت بیان کرنا مشکل ہوجاتا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کی بات کو بہانہ، سستی یا توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہ سمجھ لیا جائے۔
حالانکہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ذہنی دباؤ انسان کے جذبات ہی نہیں بلکہ جسم کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ اس کی علامات میں نیند کی خرابی، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، چڑچڑاپن، سر درد اور جسمانی تکالیف شامل ہوسکتی ہیں۔ تاہم یہ علامات صرف ذہنی دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوتیں؛ ان کے دیگر طبی اسباب بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے مناسب طبی معائنہ ضروری ہے۔
ذہنی صحت بہتر رکھنے کے لیے کیا کیا جائے؟
ماہرینِ صحت کے مطابق ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے روزمرہ زندگی میں چند بنیادی عادات اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور قابلِ اعتماد لوگوں سے رابطہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی معمولاتِ زندگی برقرار رکھنے، باقاعدگی سے ورزش کرنے اور اپنے احساسات کسی قابلِ اعتماد شخص کے ساتھ شیئر کرنے کی سفارش کرتا ہے۔
لیکن ان باتوں کو محض نصیحت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ جس شخص کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہو، اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مسئلے کا حل فوری طور پر تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کبھی چند لمحوں کا وقفہ، کسی اپنے سے بات کرنا یا روزمرہ ذمہ داریوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا بھی مدد دے سکتا ہے۔
اگر اداسی، بے چینی، نیند کی خرابی یا تھکاوٹ مسلسل برقرار رہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات، سائیکاٹرسٹ یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ علاج یا پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اپنی صحت کے بارے میں ذمہ دارانہ فیصلہ ہے۔
سننا بھی علاج کی طرف ایک قدم ہے
اس سال عالمی یومِ ذہنی صحت کا موضوع ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے: جن لوگوں نے ذہنی صحت کے مسائل کا خود سامنا کیا ہے، ان کے تجربات بھی علم اور رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی آواز صرف سننا کافی نہیں؛ انہیں ذہنی صحت سے متعلق پالیسیوں، خدمات اور فیصلوں میں بھی مؤثر کردار ملنا چاہیے۔
ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں کوئی شخص اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے خوف محسوس نہ کرے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے تو اسے فوراً یہ بتانے کے بجائے کہ اس کے پاس تو سب کچھ ہے، اس کی بات سننے کی کوشش کریں۔
ہوسکتا ہے کہ ہمیں اس کی پریشانی کی پوری نوعیت سمجھ نہ آئے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تکلیف حقیقی نہیں۔
عالمی یومِ ذہنی صحت صرف آگاہی کے پیغامات شائع کرنے کا دن نہیں۔ یہ اپنے رویوں پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کو واقعی سنتے ہیں یا صرف ان سے معمول کے مطابق کام کرتے رہنے کی توقع رکھتے ہیں؟
کیونکہ کبھی کبھی کسی انسان کو سب سے پہلے مشورے کی نہیں، بلکہ ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات بغیر کسی فیصلے اور الزام کے سن سکے۔
ذہنی صحت کی بہتری کا سفر اسی وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی تکلیف کو تسلیم کرنے سے نہ گھبرائے، معاشرہ اسے کمزور سمجھنے کے بجائے سہارا دے اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مدد تک رسائی ممکن ہو۔
آج کے دن ہمیں یہی عہد کرنا چاہیے کہ ہم ذہنی صحت کو شرمندگی یا مذاق کا موضوع نہیں بنائیں گے۔ ہم سنیں گے، سمجھنے کی کوشش کریں گے اور مدد کی ضرورت کو تسلیم کریں گے۔
کیونکہ ہر مسکراتا چہرہ مطمئن نہیں ہوتا، ہر خاموش انسان بے فکر نہیں ہوتا اور ہر وہ شخص جو روزمرہ کے کام انجام دے رہا ہو، ضروری نہیں کہ اندر سے بھی بالکل ٹھیک ہو۔
حقیقی تجربات کو سنیں، ان کی آواز کو اہمیت دیں اور ایسی تبدیلی لائیں جس سے ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والا کوئی بھی شخص خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔
