تحریر: چوہدری نورالحسن گجر
8 اکتوبر آتے ہی سانحۂ زلزلہ کی وہ قیامت خیز یادیں ایک بار پھر تازہ ہو جاتی ہیں۔ بچھڑنے والوں کی یاد میں دل اداس اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ وہ دن جب زمین نے اچانک کروٹ لی، بستیاں اجڑ گئیں، گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن گئے اور نہ جانے کتنے بچے اپنا بستہ اٹھائے منوں مٹی تلے دفن ہو گئے۔
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی 8 اکتوبر کو شہدائے زلزلہ اور اپنے پیاروں کی یاد میں دعائیہ تقریبات منعقد ہوں گی۔ ممکنہ طور پر بالاکوٹ کے بازار بھی بند ہوں گے، سرکاری افسران، سیاسی نمائندے اور دیگر شخصیات متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہوں گی، تصاویر بنیں گی، تقاریر ہوں گی اور زلزلہ متاثرین کے دکھوں پر ایک بار پھر ہمدردی کے الفاظ نچھاور کیے جائیں گے۔
بکریال سٹی کا ذکر بھی ہوگا، متاثرین کے مسائل حل کرنے کے وعدے بھی دہرائے جائیں گے اور یقیناً یہ دعوے بھی سامنے آئیں گے کہ متاثرین کے دیرینہ مسائل جلد حل کر دیے جائیں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا 8 اکتوبر کا دن صرف تقریبات، بیانات اور فوٹو سیشنز تک محدود رہ گیا ہے؟
جیسے ہی 8 اکتوبر کا سورج غروب ہوگا، تقریبات بھی ختم ہو جائیں گی، کیمرے بند ہو جائیں گے، سیاسی شخصیات واپس چلی جائیں گی اور متاثرین ایک بار پھر اپنے مسائل، اپنے دکھوں اور اپنے سوالات کے ساتھ تنہا رہ جائیں گے۔ پھر اگلے سال 8 اکتوبر تک شاید ہی کوئی ان کی آواز سننے والا ہو۔
سترہ برس گزرنے کو ہیں، مگر زلزلہ متاثرین کے بہت سے بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔
چھ سو سے زائد سکولوں کے حوالے سے یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ ان کی عمارتیں کب مکمل ہوں گی؟ اگر بچے آج بھی شدید سردی، گرمی اور نامساعد حالات میں کھلے آسمان تلے یا عارضی انتظامات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں تو پھر سترہ برس میں ہم نے کیا حاصل کیا؟
دیہی علاقوں میں درجنوں بنیادی مراکزِ صحت اور ڈسپنسریوں کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ علاقائی رابطہ سڑکوں کی حالت بھی متاثرین کے لیے ایک مستقل اذیت بنی ہوئی ہے۔ سول ہسپتال کی تعمیر کا مسئلہ ہو یا بکریال سٹی میں متاثرین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ، کئی معاملات برسوں سے وعدوں، دلاسوں اور اعلانات کی نذر ہیں۔
یہ صورتحال صرف انتظامی غفلت کا سوال نہیں بلکہ انسانی حقوق، عوامی نمائندگی اور حکومتی جواب دہی کا سوال ہے۔
سب سے بڑا سوال آج بھی وہی ہے:
زلزلہ متاثرین کے نام پر آنے والی اربوں روپے کی امداد کہاں خرچ ہوئی؟
اس امداد کا مکمل حساب عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟ متاثرین کے لیے آنے والے وسائل کہاں استعمال ہوئے؟ کون سے منصوبے مکمل ہوئے اور کون سے کاغذات تک محدود رہے؟ اگر اربوں روپے خرچ ہوئے تو پھر سترہ برس بعد بھی متاثرین کے بنیادی مسائل کیوں حل نہیں ہوئے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت سے نہیں بلکہ ہر اس ادارے اور شخصیت سے ہے جس نے زلزلہ متاثرین کے نام پر اختیار، سیاست یا وسائل حاصل کیے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ متاثرین کے دکھ آج بھی سیاست کا موضوع ہیں، حل کا نہیں۔
ہر سال 8 اکتوبر کو متاثرین کے زخم کریدے جاتے ہیں، ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، بکریال سٹی اور دیگر منصوبوں کے بارے میں بیانات دیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر متاثرین کو کب تک انتظار کی سولی پر لٹکایا جاتا رہے گا؟
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی اس معاملے کا نوٹس لے چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر متاثرین کے مسائل آج بھی موجود ہیں تو یہ پوری حکومتی مشینری اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
آخر زلزلہ متاثرین اپنی فریاد کس کے سامنے لے کر جائیں؟
صوبائی حکومت سے امید باندھیں یا وفاقی حکومت کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ منتخب نمائندوں سے سوال کریں یا متعلقہ اداروں سے جواب طلب کریں؟
اکیس برس کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی۔ ایک نسل جوان ہو جاتی ہے، مگر اگر کسی متاثرہ خاندان کا بنیادی مسئلہ سترہ برس بعد بھی حل نہ ہو تو اسے محض قسمت کا لکھا یا قدرتی آفت کا اثر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
8 اکتوبر صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری کا امتحان ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سال رسمی تقریبات اور تعزیتی بیانات کے بجائے زلزلہ متاثرین کے تمام زیرِ التوا مسائل کی باقاعدہ فہرست مرتب کی جائے، ان کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے اور عوام کے سامنے پیش رفت کی رپورٹ رکھی جائے۔
متاثرین کو اب وعدے نہیں، عمل چاہیے۔
انہیں فوٹو سیشن نہیں، اپنے حقوق چاہیے۔
انہیں تقریریں نہیں، سکول، ہسپتال، سڑکیں اور بنیادی سہولیات چاہیے۔
اور بکریال سٹی کے حوالے سے بھی برسوں سے جاری انتظار کو ختم کرتے ہوئے متاثرین کو واضح اور دوٹوک جواب دیا جانا چاہیے کہ پلاٹ کب ملیں گے؟
8 اکتوبر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف ایک دن سوگ منانا نہیں بلکہ ان کے پسماندگان اور متاثرین کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔
ورنہ ہر سال کی طرح اس سال بھی دعائیں ہوں گی، آنکھیں نم ہوں گی، تقریریں ہوں گی، تصاویر بنیں گی، وعدے ہوں گے۔۔۔
اور پھر 8 اکتوبر گزر جائے گا۔
مگر متاثرین کے مسائل وہیں کے وہیں رہ جائیں گے۔
آخر کب تک؟
