تحریر: رخسار جاوید
زندگی میں ایسے مرحلے ضرور آتے ہیں جب انسان کو لگتا ہے کہ حالات اس کے خلاف ہیں۔ ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سامنے آجاتا ہے۔ کبھی روزگار کی پریشانی، کبھی رشتوں کی الجھن، کبھی مالی مشکلات اور کبھی ایسے حالات جن پر بظاہر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں انسان کے لیے سب سے آسان کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بیٹھ کر حالات کو برا بھلا کہتا رہے اور اس امید میں وقت گزارتا رہے کہ شاید کوئی آئے گا، اس کا ہاتھ تھامے گا اور اس کی زندگی بدل دے گا۔
لیکن شاید زندگی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہر انسان کو آخرکار اپنی مدد کے لیے خود ہی کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو دوسروں کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یقیناً خاندان، دوست، معاشرہ اور ادارے انسان کے مشکل وقت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر اپنی زندگی کی سمت بدلنے کا پہلا قدم انسان کو خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
اس کے لیے سب سے پہلے جراتِ اظہار ضروری ہے۔
جو بات انسان کو اندر ہی اندر پریشان کر رہی ہو، جس رویے سے اسے تکلیف پہنچ رہی ہو یا جس صورتحال نے اس کی زندگی مشکل بنا دی ہو، اسے ہمیشہ خاموشی کے پردے میں چھپا کر رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ بعض اوقات ہم اس خوف سے اپنی بات نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے، رشتے خراب ہوجائیں گے یا شاید ہماری بات کو کوئی اہمیت ہی نہ دے۔
مگر خاموشی ہمیشہ برداشت نہیں ہوتی، کبھی یہ انسان کو اندر سے توڑ بھی دیتی ہے۔
اپنی بات کہنا، اپنی مشکل کو تسلیم کرنا اور جہاں ضروری ہو وہاں مدد مانگنا کمزوری نہیں۔ یہ دراصل اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہونے کی علامت ہے۔ البتہ جراتِ اظہار کا مطلب ہر بات پر شور مچانا بھی نہیں۔ اصل سلیقہ یہ ہے کہ انسان اپنی تکلیف کو سمجھ کر، مناسب انداز میں اور درست جگہ پر بیان کرے۔
دوسری طرف، ہمیں اس غلط فہمی سے بھی باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ کوئی ایک دن اچانک آئے گا اور ہماری زندگی بدل دے گا۔
ہم اکثر اپنی زندگی کے بہتر ہونے کی ذمہ داری کسی دوسرے شخص، کسی موقع، کسی حکومت، کسی ادارے یا کسی خوش قسمتی کے انتظار میں ڈال دیتے ہیں۔ یقیناً حالات اور مواقع انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی انسان کو خود حرکت کرنا پڑتی ہے۔
قدرت راستے ضرور دکھاتی ہے، مگر ان راستوں پر چلنا انسان کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔
ایک شخص اگر مسلسل یہی سوچتا رہے کہ ’’میرے ساتھ ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے‘‘، ’’میری زندگی میں کچھ اچھا نہیں ہوسکتا‘‘ یا ’’کل آج سے بھی زیادہ برا ہوگا‘‘ تو وہ اپنے لیے امکانات کے دروازے خود بند کرنا شروع کردیتا ہے۔ ہر مشکل کو مستقبل کی تباہی کی علامت سمجھنا انسان کو عمل سے دور اور مایوسی کے قریب لے جاتا ہے۔
اس کے برعکس، جو شخص یہ مان لیتا ہے کہ حالات تبدیل ہوسکتے ہیں، وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا شروع کردیتا ہے۔
وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اپنی عادتیں بدلتا ہے۔ نئی چیز سیکھتا ہے۔ ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مدد لیتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی زندگی کی ذمہ داری دوسروں کے ہاتھ میں مکمل طور پر نہیں دیتا۔
تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے واقعے سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ایک چھوٹے فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ کسی غلط عادت کو چھوڑنے سے، کسی ضروری گفتگو کا آغاز کرنے سے، کسی خوف کا سامنا کرنے سے یا صرف یہ طے کرنے سے کہ اب شکایت سے زیادہ عمل پر توجہ دینی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مثبت سوچ کا مطلب حقیقت سے آنکھیں بند کرنا نہیں۔ مشکلات کو نظرانداز کرنا یا ہر برے واقعے میں اچھائی تلاش کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل مثبت سوچ یہ ہے کہ انسان مشکل کو مشکل تسلیم کرے، مگر یہ فیصلہ بھی کرے کہ وہ اس مشکل کے سامنے ہمیشہ بے بس نہیں رہے گا۔
آخرکار تبدیلی کا سب سے بڑا مرکز انسان کی اپنی ذات ہی ہے۔
ہم دنیا کو فوراً نہیں بدل سکتے، دوسروں کے فیصلوں کو ہمیشہ کنٹرول نہیں کرسکتے اور ہر مشکل کو اپنی مرضی کے مطابق ختم نہیں کرسکتے۔ لیکن اپنی سوچ، اپنے رویے اور اپنے اگلے قدم پر ہمارا کچھ نہ کچھ اختیار ضرور ہوتا ہے۔
اس لیے زندگی میں کچھ غلط ہورہا ہے تو اس کا اظہار کیجیے، مسئلے کو پہچانیے، جہاں ضرورت ہو مدد طلب کیجیے اور پھر خود بھی قدم اٹھائیے۔
ہر وقت یہ گنتے رہنا کہ آج کیا برا ہوا، کل کیا برا ہوگا اور پرسوں اس سے بھی برا کیا ہوسکتا ہے، زندگی کو بہتر نہیں بناتا۔
کبھی کبھی بہتر کل کے لیے صرف اتنا فیصلہ کافی ہوتا ہے کہ اب میں حالات کا تماشائی نہیں رہوں گا؛ میں اپنی زندگی میں تبدیلی کا آغاز خود سے کروں گا۔
