
تحریر : عمرخان جوزوی
عالمی حالات پر اپنے اپنے جہازاڑانے کے بعدمحفل کارخ جب ملکی حالات کی طرف مڑاتوکپتان اورکھلاڑیوں کے ذکرپرقاری نواز افسوس سے سرہلاتے ہوئے کہنے لگے ہائے پی ٹی آئی کے ساتھ اچھانہیں ہورہا۔ہمارے دوستوں میں قاری نوازیہ نوازشریف کے دیوانے اورن لیگ کے پرانے پروانے ہیں،تحریک انصاف پرنقدکاکوئی موقع یہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اب یہ بات انہوں نے تعزیت کے طورپر کی یاطنزاور مذاق میں،اس کانہیں پتہ لیکن قاری نوازکی اس بات پرانجینئرلیاقت جمیل جوسیدھی جگہ پربھی ٹیڑھی عمارت بنانے کے ماہرہیں نے سگریٹ کاکش لگاتے ہوئے پہلی بارکوئی سیدھی بات کی کہ قاری صاحب معصوم اورنادان نہ بنیں،پی ٹی آئی کے ساتھ توجوہورہاہے اچھاہورہالیکن یہ خوداپنے ساتھ کچھ اچھانہیں کررہی،کپتان کے نام نہادکھلاڑیوں نے جوروش اورروٹ پکڑی ہے کیااسے آپ سیاست کہتے ہیں۔؟ایک کے بعدایک گڑھے میں چھلانگ لگانایہ نہ توکوئی دانشمندی ہے اورنہ کوئی سیاست۔اس محفل اورگپ شپ سے ہٹ کر آپس کی بات ہے یہ پی ٹی آئی جوکچھ کررہی ہے کیایہ آبیل مجھے ماروالی حرکت نہیں۔سیاست توکچھ لینے کچھ دینے،کچھ ماننے اورکچھ منوانے کانام ہے۔کپتان کی توبات ہی نہیں افسوس توکھلاڑیوں پرہوتاہے کہ ان میں بھی کوئی سیاست جاننے اورسمجھنے والانہیں۔پی ٹی آئی میں توسیاست دانوں کی پوری منڈی ہے لیکن اس میں ایک بھی کام کاسیاستدان نہیں۔کوئی ایک بھی ہوتاتوکپتان اورتحریک انصاف کے حالات آج ایسے ہرگزنہ ہوتے۔پی ٹی آئی والے توماردھاڑ،گالم گلوچ اوربدمعاشی کوسیاست سمجھتے ہیں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ ان حرکتوں کاسیاست سے دوردورتک بھی کوئی واسطہ نہیں۔سیاست میں بعض نہیں بلکہ اکثر اوقات سب سے بڑا فیصلہ میدان میں اترنے کا نہیں بلکہ ایک دو قدم پیچھے ہٹنے کابھی ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر کمزور دکھائی دیتاہے لیکن اگر اس کے پیچھے وسیع تر قومی مفاد، حالات کا درست ادراک اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی موجود ہو تو یہی قدم پھرسیاسی بصیرت کی علامت بن جایاکرتا ہے۔کھلاڑیوں کو چاہیے کہ یہ اپنے سیاسی طورطریقوں اورحال پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ہم مانتے ہیں کہ پرامن احتجاج ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی سیاسی حق ہے اور حکومتوں کو اختلاف رائے اور احتجاج کے حق کو برداشت کرنے کی روایت مضبوط کرنی چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سیاست وجمہوریت صرف احتجاج ولانگ مارچ کانام ہے اورسیاسی پارٹیوں اورسیاستدانوں کوہر وقت احتجاج پررہناچاہئیے۔؟ کیا ہر سیاسی مطالبے کے لئے سڑک پرنکلناہی واحد راستہ ہے۔؟ اور کیا موجودہ علاقائی اور داخلی حالات میں اسلام آباد کی طرف ایک بڑے سیاسی مارچ کا فیصلہ کوئی دانش مندی یاحب الوطنی ہے۔؟آج پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق نہیں۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور سرحدی سلامتی کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ ادھرمشرق وسطیٰ میں جاری بحران بھی کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہاہے۔ یمن، بحیرہ احمر، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے سلامتی کے معاملات ایسے عوامل ہیں جن کے اثرات پاکستان سے الگ نہیں رکھے جا سکتے۔ان حالات میں پاکستان کو داخلی سیاسی استحکام کی جتنی ضرورت آج ہے شائد حالیہ برسوں میں کم ہی رہی ہو۔ملک اورعالمی حالات میں تبدیلی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں سیاسی اختلاف کوہی ختم کر دیا جائے، حکومت سے سوال نہ پوچھے جائیں یا اپوزیشن خاموش ہو جائے۔ بات صرف یہ ہے کہ سیاسی انداز،طورطریقوں، احتجاج اورلانگ مارچ کی نوعیت، وقت اور طریقہ کار پر ٹھنڈے دل ودماغ سے نئے سرے سے غور کیا جائے۔اپناتومشورہ یہ ہے کہ اسلام آبادپرچڑھائی کے بجائے تحریک انصاف ملک کے مختلف شہروں میں اپنے سیاسی احتجاج کو پرامن اور منظم انداز میں جاری رکھے۔باقی شہروں میں بے شک جلسے ہوں، پریس کانفرنسیں ہوں اس کے ساتھ اپنے مطالبات کے لئے پارلیمانی فورمز استعمال کرنے کے ساتھ قانونی راستے اختیار کئے جائیں اور عوام کے سامنے اپنا مقدمہ مسلسل رکھا جائے۔ یوں سیاسی دباؤ بھی برقرار رہے گا اور دارالحکومت کو ایک ایسے بڑے تصادم سے بھی بچایا جا سکے گا جس کے نتائج پھرکسی کے قابو میں نہ ہوں گے۔تحریک انصاف اورکھلاڑیوں کااس وقت سب سے اہم مسئلہ عمران خان تک رسائی کا ہے۔اس معاملے میں بھی سڑک کے بجائے عدالت کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کو ایک بار پھر بھرپور قانونی اور آئینی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے قائد تک وکلا، اہل خانہ اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی رسائی کے معاملے کو عدالتوں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے بنیادی مطالبات کے لئے آئینی اور قانونی راستوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تو اس سے خود جمہوری نظام کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔یہ بات بھی تحریک انصاف کی قیادت کو سمجھنی ہوگی کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی طاقت صرف اس کے کارکنوں کی تعداد یا سڑکوں پر موجود ہجوم سے متعین نہیں ہوتی۔ اصل طاقت یہ بھی ہے کہ مشکل حالات میں قیادت اپنے کارکنوں کے جذبات کو کس طرح سمت دیتی ہے۔پی ٹی آئی کیلئے مسائل پرمسائل ہی اس لئے پیداہورہے ہیں کہ کارکنوں کوصحیح سمت دینے والاکوئی نہیں۔معاملات کارکن نہیں لیڈرٹھیک کرتے ہیں،کارکن توہروقت جذبات میں ہوتے ہیں انہیں حالات اورمعاملات کاکیاپتہ۔؟یہ توقیادت پرہے کہ کارکن اشتعال چاہتے ہوں تو قیادت انہیں تحمل کا راستہ دکھائے۔حالات کہیں تصادم کی طرف جا رہے ہوں تو قیادت مکالمے کی گنجائش پیدا کرکے آگ پرپانی ڈالنے کاکام کرے۔لانگ مارچ کوسیاست اورخدمت سمجھنے والوں کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ کس نے کتنے بڑے جلوس نکالے تھے۔ تاریخ یہ بھی دیکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کس قیادت نے اپنے جذبات پر عقل کو ترجیح دی اور تصادم کے امکان کے باوجود سیاسی راستہ کھلا رکھا۔پاکستان کو اس وقت ایک اور بڑے سیاسی معرکے سے زیادہ سیاسی تدبر کی ضرورت ہے۔سڑکیں بعد میں بھی لاؤلشکرکے ذریعے آباد کی جا سکتی ہیں مگر اگر حالات ایک باربگڑ جائیں تو پھرانہیں سنبھالناہرگزآسان نہیں ہوگا۔ حکومت کو بھی سیاسی دروازے بند رکھنے کے بجائے تحریک انصاف سمیت دیگرسیاسی جماعتوں اورپارٹیوں سے مذاکرات اور سیاسی تنازعات کے حل کے لئے سنجیدہ راستے تلاش کرنے چاہئیں لیکن حکومت کے ساتھ اپوزیشن کوبھی یہ سمجھناچاہئیے کہ یہ اگرریاست کودیوارکے ساتھ لگانے کے لئے باربارایڑی چوٹی کازورلگائیں گے توپھرحکومت بھی آخری قدم اٹھانے پرمجبورہوگی۔ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کو اپنی اداؤں پرخصوصی طورپرغورکرناچاہئیے کیونکہ حالات کے بدلتے تیوریہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اب کی بارمہلت کوئی نہیں۔کہیں ایسانہ ہوکہ احتجاج کے شوق میں تحریک انصاف بھی تحریک لبیک کی طرح کہیں گمنام نہ ہوجائے