
تحریر : راشد خان سواتی
قوموں کی زندگی میں تعلیم بنیادی ستون ہے، لیکن صرف تعلیم کافی نہیں؛ تعلیم کے ساتھ تربیت، کردار، برداشت، نظم و ضبط اور عزم و عزیمت بھی ضروری ہیں۔ بالخصوص پاکستانی نوجوان نسل اگر صرف تن آسانی، کتابی علوم اور گھر بیٹھے حاصل ہونے والی تعلیم تک محدود ہو جائے اور عملی زندگی کی سختیوں، جسمانی مشقت اور مشکل حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے تو وہ عالمی مسابقت میں اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتی۔
آج سوال صرف یہ نہیں کہ ہمارے نوجوان کتنی کتابیں پڑھ سکتے ہیں؛ سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ مشکل وقت میں کھڑے رہ سکتے ہیں؟ کیا وہ کسی آفت میں اپنا خیمہ نصب کر سکتے ہیں؟ کسی زخمی کو ابتدائی طبی امداد دے سکتے ہیں؟ سیلاب، زلزلے یا کسی ہنگامی صورتِ حال میں نظم و ضبط کے ساتھ رضاکارانہ خدمت انجام دے سکتے ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف نصابی کتابیں نہیں دے سکتیں۔
درسگاہیں صرف امتحان پاس کرنے والے طلبہ پیدا کرنے کی فیکٹریاں نہیں، بلکہ باکردار، باہمت اور ذمہ دار شہریوں کی تربیت گاہ ہونی چاہئیں۔ سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت ہیں، مگر ان کے ساتھ جسمانی تربیت، شہری دفاع، فرسٹ ایڈ، نظم و ضبط، حب الوطنی اور اجتماعی خدمت بھی نوجوان کی شخصیت کا حصہ ہونی چاہیے۔
اسی سوچ کی ایک عملی مثال گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ ہے، جہاں ملٹی ڈرل اور ملٹری پلاٹون کے ساتھ طلبہ کو اپنی مدد آپ کے تحت سول ڈیفنس اور عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ مقصد صرف پریڈ نہیں بلکہ قیادت، برداشت، نظم و ضبط، خدمت اور وطن سے وفاداری پیدا کرنا ہے۔
اسی جذبۂ حب الوطنی کے تحت یومِ دفاع پر سکول کی ملٹری پلاٹون وطن کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ اس سال ڈپٹی کمشنر مانسہرہ جناب خالد اقبال خٹک صاحب کی جانب سے فخرِ مانسہرہ لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز تنولی شہید کی قبر پر سلامی پیش کرنا اس عہد کی تجدید تھی کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والے ہمارے نوجوانوں کے حقیقی ہیروز ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسے قومی محسنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نئی نسل کو یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں اپنے شہداء، سائنس دانوں، اساتذہ اور محسنوں کو یاد رکھ کر اپنی آنے والی نسلوں کو کردار اور خدمت کا راستہ دکھاتی ہیں۔
علامہ اقبالؒ کے تصورِ نوجوان میں بھی علم اور عمل، فکر اور کردار، خودی اور عزم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ان کا نوجوان آرام طلب نہیں بلکہ بلند نگاہ، خوددار اور مشکل راستوں کا مسافر ہے۔
یہی فکر ان کے ترانۂ ملی میں بھی جلوہ گر ہے:
«باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار لے چکا ہے تو امتحاں ہمارا»
اور آخر میں اقبالؒ کا یہ پیغام پوری تحریر کا حاصل بن جاتا ہے:
«سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا»
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو کتاب بھی پڑھ سکے، ٹیکنالوجی بھی جانتی ہو، میدانِ عمل میں ثابت قدم بھی رہے اور وقتِ ضرورت وطن و قوم کے کام بھی آئے۔
آئیے! اپنی درسگاہوں کو صرف ڈگری حاصل کرنے کی جگہ نہیں بلکہ کردار، خدمت، شجاعت، شہری ذمہ داری اور عزم و عزیمت کی تربیت گاہ بنائیں۔ اپنے بچوں کو صرف کامیاب زندگی گزارنے کا ہنر نہ سکھائیں؛ انہیں یہ بھی سکھائیں کہ مشکل وقت میں کسی دوسرے انسان کے لیے سہارا کیسے بننا ہے۔
آج کی تربیت یافتہ نسل ہی کل کے مضبوط پاکستان کی ضامن ہے