Skip to content

ہزارہ صوبہ: شناخت، وسائل اور انتظامی انصاف کا آئینی تقاضا

شیئر

شیئر


تحریر: محمد حنیف

ہزارہ ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینا محض سیاسی نعرہ نہیں، بہتر گورننس، نمائندگی اور معاشی خودمختاری کی منطقی ضرورت ہے

1۔ مسئلہ کیا ہے؟

پاکستان میں انتظامی اکائیوں کی تشکیل نو کا مسلہ بحث ہمیشہ سے متنازع رہا ہے، لیکن ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ محض سیاسی نعرہ نہیں۔ یہ جغرافیائی حقیقت، ثقافتی شناخت، انتظامی ضرورت اور معاشی منطق پر مبنی ایک سنجیدہ عوامی مطالبہ ہے۔قیام پاکستان سے اب تک ہزارہ کی عوام کو اپنی شناخت، وسائل اور نمائندگی کا حق اس درجہ نہیں مل سکا جو اس کا حق بنتا تھا۔

2۔ بڑے صوبے کیوں بنائے گئے؟

پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ برطانوی نوآبادیاتی نظام کی باقیات ہے۔ 1947 میں آزادی کے وقت پاکستان کو جو صوبائی ڈھانچہ ورثے میں ملا، وہ دراصل برطانوی راج کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا نہ کہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے۔ برطانوی حکمرانوں کا بنیادی مقصد دور دراز کالونیوں پر مؤثر کنٹرول، وسائل کی زیادہ سے زیادہ نکاسی اور بغاوت کو روکنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے انتظامی اکائیاں اس طرح بنائیں کہ اختیارات مرکز میں سمٹ جائیں اور فیصلہ سازی ایک مضبوط بیوروکریٹک درجہ بندی کے ذریعے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے بڑے اور وسیع رکھے گئے، اور انتظامی اختیارات صوبائی دارالحکومتوں کے افسران کے پاس مرکوز رہے۔

برطانوی دور میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر جیسے افسران کے پاس انتظامی، مالی اور عدالتی اختیارات ایک ہی شخص میں جمع تھے۔ یہ عہدیدار صوبائی دارالحکومت سے منسلک تھے اور دور دراز علاقوں کو انہی کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اس مرکزی نظام کا ایک اور پہلو "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی تھی، جس کے تحت صوبائی حدود نسلی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اس طرح کھینچی گئیں کہ مقامی آبادیاں منظم ہو کر برطانوی حکومت کو چیلنج نہ کر سکیں۔

ہزارہ خود اس نظام کا حصہ رہا۔ 1901 میں لارڈ کرزن نے برطانوی راج کی "فارورڈ پالیسی” کے تحت شمال مغربی سرحدی صوبہ (NWFP) قائم کیا، جس کا مقصد روسی پیش قدمی کے خطرے کے پیش نظر سرحدی علاقوں پر براہ راست کنٹرول تھا۔ اس صوبے میں ہزارہ، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل تھے، اور اسے چیف کمشنر کے زیرِ انتظام رکھا گیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہزارہ کو اس وقت بھی پنجاب سے الگ کر کے ایک بڑے سرحدی صوبے میں شامل کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد عسکری اور تزویراتی کنٹرول تھا، نہ کہ مقامی ترقی۔

آزادی کے بعد پاکستان نے بڑی حد تک یہی نوآبادیاتی ڈھانچہ برقرار رکھا۔ 1935 کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ، جو تقسیم کے وقت ملک کا ناظم القانون تھا، مرکزی حکومت کو صوبائی حکومتوں کو برطرف کرنے کے وسیع اختیارات دیتا تھا۔ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز 1901 جیسے نوآبادیاتی قوانین بھی کئی دہائیوں تک برقرار رہے۔ یوں جو انتظامی ڈھانچہ برطانوی راج نے اپنے کنٹرول اور وسائل کی نکاسی کے لیے بنایا تھا، وہی ڈھانچہ آزاد پاکستان میں بھی جاری رہا۔

3۔ تاریخی و ثقافتی بنیاد

ہزارہ کی ثقافتی شناخت خیبر پختونخوا کے باقی حصوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ میں ہندکو، پشتو، گوجری اور کوہستانی بولنے والے لسانی تنوع ہزارہ کو ایک منفرد شناخت دیتا ہے۔

سن 1901 میں برطانوی دور میں بھی ہزارہ کو ضلع کا درجہ حاصل تھا۔ 1976 میں اسے ڈویژن کا درجہ دیا گیا، لیکن انتظامی ترقی کے باوجود سیاسی نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں ہزارہ کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ 2010 میں صوبے کا نام خیبر پختونخوا رکھے جانے پر ہزارہ کے عوام نے شدید احتجاج کیا۔

4۔ جغرافیائی اور آبادیاتی حقائق

ہزارہ ڈویژن 17,064 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 61 لاکھ 88 ہزار 736 ہے۔ آبادی کا 89.74 فیصد دیہی جبکہ صرف 10.26 فیصد شہری ہے۔ خواندگی کی شرح 60.95 فیصد ہے، جس میں مردوں کی شرح 71.42 فیصد جبکہ خواتین کی 50.33 فیصد ہے۔

یہ خطہ مغرب میں مالاکنڈ اور مردان ڈویژن، مشرق میں آزاد کشمیر اور شمال میں گلگت بلتستان سے ملحق ہے۔ پشاور سے دوری اور پہاڑی جغرافیہ کی وجہ سے سرکاری کاموں کے لیے پشاور کا سفر عوام کے لیے ایک مستقل مشکل ہے۔

5۔ بڑے صوبے کا بحران

ہر تنظیم میں ایک عہدیدار کے زیرِ انتظام دائرہ محدود ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا ایک وسیع اور متنوع صوبہ ہے۔ ایک وزیراعلیٰ، ایک سیکرٹریٹ اور ایک بیوروکریسی تمام دور دراز علاقوں کی مؤثر نگرانی نہیں کر سکتی۔ چھوٹی انتظامی اکائی سے فیصلے تیز، مانیٹرنگ مضبوط اور جوابدہی بہتر ہوتی ہے۔

انتظامی فیصلے جتنے قریب عوام ہوں، اتنے مؤثر ہوتے ہیں۔ نئی انتظامی اکائی کا مطلب ہے کہ پالیسی سازی، بجٹ اور عمل درآمد مقامی ضروریات کے مطابق ہو، نہ کہ صوبائی دارالحکومت کے دور دراز بیٹھے افسران کے اندازے پر۔

یہ صورتحال نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے، جب فیصلے بھی دور دراز بیٹھے افسران کرتے تھے اور مقامی آبادی صرف پالیسیوں کا پابند تھی۔ یہی نوآبادیاتی ذہنیت آج بھی بڑے صوبوں کے مرکزی ڈھانچے میں جھلکتی ہے، جہاں اختیارات صوبائی دارالحکومت میں مرکوز ہیں اور دور دراز اضلاع کی آواز وفاق اور صوبے تک نہیں پہنچ پاتی۔ پاکستان 240 ملین سے زائد آبادی کے باوجود صرف چار بڑے صوبوں کے ذریعے چل رہا ہے، جو دنیا کے سب سے کم انتظامی طور پر غیر مرکزی وفاقوں میں سے ایک ہے۔

6۔ نمائندگی اور وفاقی توازن

وفاق میں صرف چار صوبے ہوں تو سب سے بڑا صوبہ آبادی کی بنیاد پر غالب آ جاتا ہے۔ مزید صوبے بننے سے وفاقی اکائیوں کی تعداد بڑھتی ہے، سینیٹ میں برابر نمائندگی کا اثر بڑھتا ہے اور چھوٹے علاقوں کی آواز وفاق تک پہنچتی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ، ترقیاتی بجٹ اور ٹیکسوں کی واپسی موجودہ صوبوں کے اندر بھی عدم توازن کا شکار ہے۔ ہزارہ اپنے صوبائی دارالحکومت سے محرومی کا گلہ کرتا ہے۔ نئی انتظامی اکائی سے ہدف شدہ ترقی اور وسائل کی شفاف تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔

7۔ وسائل کی خودمختاری

معدنیات: ہزارہ معدنیات سے مالا مال ہے۔ مانسہرہ اور بٹگرام سیاہ گرینائٹ کے بڑے ذخائر رکھتے ہیں، جبکہ بارائٹ، ڈولومائٹ، جپسم، چونے کا پتھر اور ماربل بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان کے ماربل کے تقریباً 99 فیصد ذخائر موجود ہیں، اور ہزارہ ان کا اہم مرکز ہے۔

جنگلات: ہزارہ کے جنگلات نہ صرف ماحولیاتی تحفظ بلکہ معاشی پیداوار کا بھی ذریعہ ہیں۔ گزارہ جنگلات کا 80 فیصد رائلٹی شیئر ہزارہ ڈویژن کو ملتا ہے۔ ایک الگ صوبہ ہی ان جنگلات کا پائیدار تحفظ اور منافع یقینی بنا سکتا ہے۔

پن بجلی: سکی کناری ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ (884 میگاواٹ) مانسہرہ میں کام کر رہا ہے، جبکہ بالاکوٹ ہائیڈرو پلانٹ (300 میگاواٹ) زیرِ تعمیر ہے۔ ایک الگ صوبہ ان منصوبوں سے براہ راست رائلٹی اور منافع حاصل کر سکتا ہے۔

سیاحت: ناران، کاغان، گلیات، تھنڈیانی، ایوبیہ اور بابوسر ٹاپ یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات ہیں۔ سیاحت سے ٹول پلازے اور سیاحتی ٹیکس کی مد میں مقامی ترقی کے لیے براہ راست فنڈز حاصل ہو سکتے ہیں۔

تجارت: حویلیاں ریلوے اسٹیشن سے ماہانہ 80 کروڑ سے ایک ارب روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ حویلیاں ڈرائی پورٹ سی پیک کا 6.5 کروڑ ڈالر کا منصوبہ ہے جو ہزارہ کو تجارتی مرکز بنا سکتا ہے۔

8۔ بجٹ: اخراجات بڑھیں گے یا کم ہوں گے؟

ہر نیا صوبہ ایک مکمل انتظامی ڈھانچہ مانگتا ہے وزیراعلیٰ، کابینہ، سیکرٹریٹ، محکمے، سرکاری رہائشیں، گاڑیاں، پروٹوکول اور عملہ۔ ایک نئے صوبے کے قیام اور اسے چلانے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 50 سے 150 ارب روپے لگایا جاتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں کے بوجھ سے گزر رہا ہے

نئے صوبوں کا مالی اثر اس بات پر منحصر ہے کہ انہیں کیسے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اگر ہر نیا صوبہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کی نقل ہو گا تو اخراجات یقینی طور پر بڑھیں گے۔ لیکن اگر "کم لاگت والا ماڈل” اپنایا جائے تو یہ مالی طور پر پائیدار ہو سکتا ہے۔
چھوٹے صوبوں میں نگرانی آسان ہوتی ہے، جس سے کرپشن کم اور حکومتوں پر انتظامی بوجھ ہلکا ہو سکتا ہے

9۔ کم لاگت والا ماڈل

اس ماڈل کا بنیادی تصور یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو ہی بنیاد بنا کر نیا صوبہ بنایا جائے، نہ کہ بالکل نئے سرے سے مہنگے ڈھانچے کھڑے کیے جائے۔ ایبٹ آباد میں پہلے سے سول سیکرٹریٹ، ہائی کورٹ بینچ اور پولیس ہیڈکوارٹر موجود ہیں۔ انہیں نئے صوبے کا دارالحکومت بنا دیا جائے تو نئے دفاتر کی تعمیر پر اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

· محکموں کی منتقلی: تعلیم، صحت اور مالیات جیسے 40 سے زائد محکموں کو مکمل طور پر صوبوں کو منتقل کر دیا جائے گا، جس سے وفاقی سطح پر بوجھ کم ہوگا۔

· چھوٹی اسمبلی اور محدود کابینہ: بھاری وزارتی ڈھانچے کے بجائے پیشہ ورانہ محکمے اور مضبوط لوکل گورنمنٹ۔

10۔ اعتراضات کا جواب

کہا جاتا ہے کہ نئے صوبے مہنگے بیوروکریسی، سیاسی تنازع، نسلی تقسیم اور وسائل کی کشمکش کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اقدام آئینی طریقے سے، مقامی عوامی رضامندی، مالی طور پر قابلِ عمل حدود اور مضبوط لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ورنہ محض سیاسی فائدے کے لیے نیا صوبہ مسئلہ حل کرنے کے بجائے نیا بحران پیدا کر سکتا ہے۔

11۔ نوآبادیاتی نظام کی باقیات کو بدلنا: نئے صوبے وقت کا تقاضا

ڈھانچے تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ نوآبادیاتی نظام کی باقیات کو بدل کر قومی ضروریات کے مطابق نئے صوبے بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ برطانوی راج نے جو انتظامی ڈھانچہ بنایا، اس کا بنیادی مقصد مقامی عوام کی فلاح نہیں بلکہ مؤثر کنٹرول، وسائل کی نکاسی اور بغاوت کی روک تھام تھا۔ بدقسمتی سے، آزادی کے بعد بھی یہی ڈھانچہ برقرار رکھا گیا، اور حکمران اشرافیہ نے اسے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جس سے جاگیردارانہ، بیوروکریٹک اور سیاسی اجارہ داریاں مضبوط ہوئی

اس نوآبادیاتی ڈھانچے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اختیارات صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز ہیں، جبکہ دور دراز اضلاع کے عوام کو بنیادی سہولیات کے لیے صوبائی دارالحکومت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے ریاست کا سب سے اہم ادارہ وہ ہے جو اس کے گھر کے قریب ہو اور صاف پانی، سڑک، اسپتال، اسکول اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے

پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ اب 240 ملین سے زائد آبادی کے لیے ناکافی ثابت ہو چکا ہے۔ جبکہ صوبائی ڈھانچہ 1970 کی دہائی میں تشکیل دیا گیا تھا اور آج تک اس کی بنیادی ساخت نہیں بدلی۔ دنیا کے دیگر ممالک نے اپنی انتظامی اکائیاں اپنی آبادی اور ضروریات کے مطابق بنائی ہیں ترکی میں 86 ملین آبادی کے لیے 81 صوبے، ایران میں 89 ملین کے لیے 31 صوبے، اور بھارت میں 1.4 بلین کے لیے 28 ریاستیں ہیں۔ پاکستان میں اوسط صوبائی آبادی 60 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جو عالمی انتظامی معیار کے مطابق ناقابلِ انتظام ہے۔

نوآبادیاتی دور میں جو انتظامی حدود "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت کھینچی گئی تھیں، وہ آج بھی برقرار ہیں۔ ان حدود کی بنیاد پر چلنے والا نظام عوام کو اختیارات کی منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر نمائندگی فراہم نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوآبادیاتی دور کے اس مرکزی، غیر جمہوری اور نکاسیِ وسائل پر مبنی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے اور قومی ضروریات کے مطابق نئے صوبے بنائے جائیں۔

ہزارہ صوبے کا مطالبہ اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک نئی انتظامی اکائی کا قیام نہیں، بلکہ نوآبادیاتی دور کے اس ڈھانچے کو توڑنے کا عمل ہے جس نے ہزارہ جیسے علاقوں کو دہائیوں تک نظرانداز کیا۔ ہزارہ کے پاس معدنیات، جنگلات، پن بجلی، سیاحت اور تجارت کے وسیع وسائل موجود ہیں لیکن یہ وسائل آج تک مقامی عوام کی ترقی کے لیے بروئے کار نہیں آئے، کیونکہ فیصلہ سازی کا مرکز پشاور میں ہے، ہزارہ میں نہیں۔

12۔ سیاسی و آئینی راستہ

خیبر پختونخوا اسمبلی نے دسمبر 2025 میں متفقہ قرارداد منظور کر کے وفاقی حکومت سے آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت ہزارہ صوبے کی تشکیل کی درخواست کی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی تین مرتبہ اس ضمن میں قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس مطالبے کی حمایت کرتی ہیں۔

ہزارہ ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا قدم ہے جو ثقافتی شناخت، معاشی انصاف اور جمہوری نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔ پن بجلی، معدنیات، سیاحت اور جنگلات جیسے وسائل کے ساتھ ہزارہ نہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ قومی خزانے میں اپنا منصفانہ حصہ بھی دے سکتا ہے۔

وقت آن پہنچا ہے کہ ہزارہ کے عوام کی دہائیوں پرانی جائز مانگ کو سنجیدگی سے لیا جائے، ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، کم لاگت والا مالی ماڈل تیار کیا جائے اور آئینی طریقے سے ہزارہ کو صوبے کا درجہ دیا جائے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں