تحریر : قاضی طیب تنولی
جس پختون سیاست کو خیبرپختونخوا کے غیور پختونوں نے ووٹ کی طاقت سے مسترد کردیا، اسی سیاست کے سربراہ کو سینیٹ تک پہنچنے کے لیے پختون ڈومیسائل چھوڑ کر بلوچستان کا ڈومیسائل اختیار کرنا پڑا۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے پختونوں سے مسترد ہونے کے بعد اے این پی کے سربراہ کس اخلاقی جواز کے ساتھ ہزارہ اور پختونوں کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی یہ بھونڈی کوشش کررہے ہیں؟
کیا ہزارہ صوبے کا مطالبہ پختونوں کے خلاف ہے؟ نہیں۔ کیا ہزارہ کے پختون قبائل صوبہ ہزارہ کے مخالف ہیں؟ ہرگز نہیں۔ حقیقت تو اس کے بالکل برعکس ہے۔ صوبہ ہزارہ کی سب سے مؤثر آواز خود ہزارہ میں بسنے والے پختون قبائل ہیں۔
ہزارہ کے پختون کسی کے سیاسی مہرے نہیں، اس دھرتی کے برابر کے وارث اور اس خطے کی سیاست کے مؤثر فریق ہیں۔ انہیں یہ مقام کسی سیاسی جماعت نے عطا نہیں کیا۔ وہ اپنی تاریخ، اپنی آبادی، اپنی قربانیوں اور اپنی سیاسی قوت کے بل پر اس خطے کا حصہ ہیں۔ اس لیے ہزارہ صوبے کے مطالبے کو پختونوں کے خلاف کھڑا کرنا دراصل خود پختونوں کی سیاسی بصیرت کی توہین ہے۔
میں خود ایک پختون قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں، اس لیے یہ بات کسی بیرونی زاویے سے نہیں بلکہ اپنے لوگوں اور اپنی دھرتی کے تعلق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہزارہ میں آباد پختون قبائل صوبہ ہزارہ کے مطالبے کے مخالف نہیں بلکہ اس جدوجہد کے اہم فریق ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صوبہ ہزارہ ان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے بہتر مستقبل، بہتر انتظام اور اپنے خطے میں زیادہ مؤثر سیاسی کردار کے لیے ہے۔
اے این پی کو شاید ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ پختونوں کے نام کا سیاسی ٹھیکہ اب بھی اسی کے پاس ہے۔ مگر وقت نے یہ ٹھیکہ واپس لے لیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے پختون ووٹر نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، اور ہزارہ کے پختونوں نے بھی واضح کردیا ہے کہ پختون ہونا اور اے این پی کا حامی ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
پختون قوم اور اے این پی ایک نام نہیں۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اے این پی جتنا ہزارہ صوبے کو پختونوں کے خلاف پیش کرے گی، اتنا ہی یہ سوال مضبوط ہوگا کہ آخر پختونوں نے کب اے این پی کو یہ اختیار دیا کہ وہ ان کی طرف سے ہزارہ کے مستقبل کا فیصلہ کرے؟
جو پختون خود صوبہ ہزارہ کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی آواز کو ایک سیاسی جماعت اپنے مفاد کے لیے کیسے نظرانداز کرسکتی ہے؟ کیا پختونوں کی ترجمانی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نام پر دوسرے خطے کے آئینی حق کو دبایا جائے؟ کیا پختونوں کی عزت اس میں ہے کہ انہیں ہزارہ کے مقابل لا کھڑا کیا جائے؟
نہیں۔
پختونوں کا مقام کسی دوسرے قوم یا خطے کے حق کو چھیننے میں نہیں، بلکہ اپنے ساتھ بسنے والی قوموں کے حقوق کا احترام کرنے میں ہے۔
ہزارہ کے پختون اور غیر پختون ایک دوسرے کے حریف نہیں۔ وہ ایک ہی خطے کے باشندے، ایک ہی معاشرتی زندگی کے شریک اور ایک ہی مستقبل کے مسافر ہیں۔ ہزارہ کے پختونوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صوبہ ہزارہ بنے گا تو پختونوں کا مقام کم ہوجائے گا۔ پھر یہ خوف کس کے دل میں ہے؟ پختونوں کے دل میں یا اے این پی کی سیاست میں؟
حقیقت یہ ہے کہ صوبہ ہزارہ بننے سے پختونوں کا مقام کم نہیں ہوگا؛ بلکہ ہزارہ کے پختونوں کا سیاسی کردار مزید مضبوط ہوگا۔ وہ اپنے خطے کے فیصلوں میں زیادہ مؤثر ہوں گے، اپنے وسائل، ترقی، روزگار، تعلیم اور انتظامی حقوق کے لیے زیادہ طاقتور آواز بن سکیں گے۔ ایک نیا صوبہ کسی قوم کو مٹاتا نہیں، اسے اپنے سیاسی اور انتظامی مستقبل میں زیادہ بااختیار بناتا ہے۔
اس لیے ہزارہ کے پختونوں کو اے این پی کی سیاسی عینک سے دیکھنا بند کرنا ہوگا۔ ہزارہ کا پختون، پختون بھی ہے اور ہزارہ کا باشندہ بھی؛ اسے کسی ایک شناخت کے انتخاب پر مجبور کرنا خود اس کی شناخت کی توہین ہے۔
اور اے این پی کے لیے سب سے تلخ حقیقت شاید یہی ہے کہ ہزارہ کے پختون اس کی سیاست کے تابع نہیں۔ وہ اپنے فیصلے خود کرسکتے ہیں، اپنی ترجیحات خود طے کرسکتے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بھی خود کرسکتے ہیں۔
پھر سوال دوبارہ وہیں آکر کھڑا ہوتا ہے:
ہزارہ صوبے کی مخالفت پختون کررہے ہیں یا اے این پی؟
اگر پختونخوا کے پختون ووٹر نے اے این پی کو مسترد کردیا، اگر ہزارہ کے پختون قبائل صوبہ ہزارہ کی مؤثر آواز بن چکے ہیں، اور اگر ہزارہ صوبے کا مطالبہ پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے ایک انتظامی حق کی بات ہے، تو پھر اے این پی کس کے نام پر اس مطالبے کی مخالفت کررہی ہے؟
شاید اس سوال کا جواب ہزارہ کے مطالبے سے زیادہ اے این پی کی اپنی سیاسی ضرورت میں چھپا ہوا ہے۔
کیونکہ جب عوام ساتھ چھوڑ دیں، جب سیاست کا دائرہ سکڑ جائے، جب پرانے نعروں کی کشش باقی نہ رہے تو سیاست دان اکثر ایک نیا خوف تلاش کرتے ہیں۔ کبھی قوم کے نام پر، کبھی زبان کے نام پر اور کبھی شناخت کے نام پر۔
ہزارہ کے لوگوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کسی جماعت کے سیاسی خوف کا حصہ بنیں گے یا اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔
ہزارہ پختونوں سے نفرت نہیں کرتا، اور نہ کرے گا۔ ایک سیاسی جماعت کی مخالفت کو پوری پختون قوم سے جوڑنا ہزارہ کی سیاست نہیں۔ ہزارہ کے پختون ہمارے بھائی ہیں، اس دھرتی کے برابر کے وارث ہیں اور صوبہ ہزارہ کی جدوجہد میں ہماری سب سے مؤثر آواز ہیں۔
اس لیے اے این پی کو پختونوں کے نام پر ہزارہ سے لڑانے کی کوشش ترک کرنی چاہیے۔
پختونوں کا مقام بلند ہے، ہزارہ کا حق آئینی ہے، اور دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا صرف ایک ایسی سیاست کو زندہ کرسکتا ہے جسے عوام پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ پختونوں کے نام پر سیاست کرنے کے بجائے پختونوں کی رائے سنی جائے۔
اور پختونوں کی آواز اگر واقعی سنی جائے تو شاید جواب بہت واضح ہو:
ہزارہ صوبہ پختونوں کے خلاف نہیں، ہزارہ کے پختونوں سمیت پورے ہزارہ کا حق ہے۔
ہزارہ صوبہ کسی قوم کے خلاف نہیں ہوگا۔ یہ نفرت، تعصب یا لسانی تقسیم کی بنیاد پر نہیں بنے گا۔ یہ ایک انتظامی یونٹ ہوگا، جس کا مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا، وسائل کی بہتر تقسیم، ترقیاتی منصوبہ بندی، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہوگا۔
صوبہ ہزارہ بننے سے نہ پختونوں کا مقام کم ہوگا، نہ کسی قوم کی شناخت ختم ہوگی۔ بلکہ ہزارہ میں آباد پختون قبائل سمیت تمام اقوام اپنے خطے کے سیاسی اور انتظامی مستقبل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکیں گی۔
اس لیے صوبہ ہزارہ کو پختونوں کے خلاف نفرت کا عنوان بنانے کے بجائے اسے ایک جائز انتظامی مطالبے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
ہزارہ کے پختون اور دیگر اقوام مل کر یہ مطالبہ کررہے ہیں۔
صوبہ ہزارہ کسی کے خلاف نہیں، ہزارہ کے حق میں ہے۔
اور یہ حق کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایک بہتر انتظامی مستقبل کے لیے ہے۔
صوبہ ہزارہ بنے گا، پختونوں کا مقام بلند رہے گا۔
