Skip to content

ڈی ایم سی کا اجراء کتنے دن میں ہونا چاہیے؟ امتحان کے نتائج کے بعد طلبہ کے لیے اہم رہنمائی

شیئر

شیئر

امتحان کا نتیجہ آنے کے بعد طلبہ کے لیے ڈی ایم سی (Detailed Marks Certificate) محض نمبروں کی ایک فہرست نہیں ہوتی بلکہ داخلے، اسکالرشپ، ملازمت یا کسی دوسرے تعلیمی مرحلے کے لیے ایک اہم دستاویز ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ڈی ایم سی کے حصول میں غیر ضروری تاخیر ہو تو طالب علم کے لیے اگلا مرحلہ متاثر ہوسکتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے حقِ عوامی خدمات کے قانون کے تحت ڈی ایم سی کا اجراء بھی مقررہ مدت کے اندر فراہم کی جانے والی عوامی خدمت میں شامل ہے۔ طلبہ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ نتیجہ جاری ہونے کے بعد ڈی ایم سی کتنے وقت میں ملنی چاہیے اور تاخیر کی صورت میں کیا کیا جاسکتا ہے۔

ڈی ایم سی کتنے دن میں جاری ہونی چاہیے؟

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی نوٹیفائیڈ سروس کے مطابق نتیجہ جاری ہونے کے بعد ڈی ایم سی کا اجراء 3 دن کے اندر ہونا چاہیے۔اس سروس کے لیے ذمہ دار افسر کنٹرولر امتحانات (Controller of Examination) جبکہ اپیل کی صورت میں متعلقہ چیئرمین بورڈ اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔یعنی نتیجہ جاری ہونے کے بعد طالب علم کو ڈی ایم سی کے لیے غیرمعینہ مدت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اس سروس کے لیے مقررہ مدت تین دن ہے۔

ڈی ایم سی میں کیا معلومات ہوتی ہیں؟

ڈی ایم سی میں عموماً طالب علم کے امتحان میں حاصل کردہ نمبروں اور متعلقہ مضامین کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم، ملازمت، اسکالرشپ یا دیگر تعلیمی و پیشہ ورانہ مراحل میں اکثر طالب علم سے ڈی ایم سی طلب کی جاتی ہے۔

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ڈی ایم سی کا اجراء بھی ان عوامی خدمات میں شامل ہے جنہیں شہریوں کو مقررہ مدت کے اندر فراہم کیا جانا چاہیے۔ یہ سروس 2022 میں نوٹیفائیڈ سروسز میں شامل کی گئی۔

تین دن کی مدت کا مطلب کیا ہے؟

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تین دن کی مدت نتیجہ جاری ہونے کے بعد ڈی ایم سی کے اجراء کے لیے ہے۔ اسے پورے امتحانی عمل یا نتیجہ تیار کرنے کی مدت نہیں سمجھا جائے گا۔یعنی پہلے امتحان کا نتیجہ جاری ہوگا، اس کے بعد ڈی ایم سی کے اجراء کے لیے مقررہ تین روزہ سروس ٹائم لاگو ہوگا۔ا

گر ڈی ایم سی مقررہ وقت میں نہ ملے تو کیا کریں؟

اگر طالب علم مقررہ تین دن گزرنے کے باوجود ڈی ایم سی حاصل نہ کرسکے تو معاملہ متعلقہ بورڈ کے ذمہ دار افسر کے سامنے اٹھایا جاسکتا ہے۔کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز قانون کے تحت اگر کسی شخص کو مقررہ مدت میں عوامی خدمت فراہم نہ کی جائے، درخواست مسترد کردی جائے یا فراہم کی گئی سروس ناقص ہو تو وہ 30 دن کے اندر اپیلیٹ اتھارٹی سے اپیل کرسکتا ہے۔

ڈی ایم سی کے معاملے میں متعلقہ چیئرمین بورڈ اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ طالب علم کو چاہیے کہ درخواست یا فیس کی رسید، درخواست نمبر اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اپیل کے ساتھ ثبوت پیش کیے جاسکیں۔

ڈی ایم سی کا اجراء اور تصدیق ایک ہی سروس نہیں

طلبہ کے لیے یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ڈی ایم سی کا اجراء اور ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق دو الگ خدمات ہیں۔

ڈی ایم سی کا اجراء: نتیجہ جاری ہونے کے بعد 3 دن

ڈی ایم سی/سند کی تصدیق: 3 دن

ڈی ایم سی کے اجراء کے لیے ذمہ دار افسر: کنٹرولر امتحانات

اپیلیٹ اتھارٹی: چیئرمین بورڈ

اس لیے اگر طالب علم کو نئی ڈی ایم سی درکار ہے تو وہ ’’ڈی ایم سی کا اجراء‘‘ والی سروس کے تحت آئے گا، جبکہ پہلے سے جاری شدہ ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق ایک الگ سروس ہے۔

ایک نظر میں سروس:

ڈی ایم سی کا اجراءمقررہ مدت: نتیجہ جاری ہونے کے بعد 3 دن

ذمہ دار افسر: کنٹرولر امتحانات

اپیلیٹ اتھارٹی: چیئرمین بورڈ

محکمہ: ابتدائی و ثانوی تعلیم

2023 میں کتنے ڈی ایم سی کیسز نمٹائے گئے؟

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق چھ اضلاع میں 1 لاکھ 26 ہزار 800 ڈی ایم سی کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 1 لاکھ 26 ہزار 717 درخواست گزاروں کو مقررہ تین دن کے اندر سروس فراہم کی گئی جبکہ 83 کیسز میں تاخیر رپورٹ ہوئی۔

رپورٹ میں ڈی ایم سی کے اجراء کو اہم سروس قرار دیا گیا ہے کیونکہ طلبہ کو اکثر مخصوص مضامین میں حاصل کردہ نمبروں کی تفصیل فوری طور پر داخلے، ملازمت یا دیگر تعلیمی مقاصد کے لیے درکار ہوتی ہے۔

طلبہ کے لیے اہم بات

نتیجہ جاری ہونے کے بعد ڈی ایم سی کے حصول کے لیے مقررہ مدت تین دن ہے۔ طالب علم کو درخواست یا سروس سے متعلق رسید اور دیگر ضروری ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ مقررہ وقت گزرنے کی صورت میں اپنی درخواست کی پیروی اور ضرورت پڑنے پر اپیل کرسکے۔

اگر مقررہ مدت میں ڈی ایم سی جاری نہ ہو تو طالب علم متعلقہ چیئرمین بورڈ سے اپیل کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی رہنمائی یا شکایت کے لیے رابطہ کرسکتا ہے۔

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز سے رابطہ

اگر مقررہ مدت میں ڈی ایم سی جاری نہ ہو یا سروس کے حوالے سے مسئلہ درپیش ہو تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

فون: 091-9216375

ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk

ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں