کسی طالب علم یا شہری کے تعلیمی ریکارڈ میں نام یا تاریخِ پیدائش غلط درج ہو جائے تو یہ معمولی غلطی نہیں رہتی۔ یہی اندراج آگے چل کر شناختی دستاویزات، ملازمت، بیرونِ ملک تعلیم یا دیگر سرکاری معاملات میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ بعض معاملات میں درستگی کے لیے عدالت سے فیصلہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ عدالت کا فیصلہ ملنے کے بعد تعلیمی بورڈ اس فیصلے پر عمل درآمد کتنے عرصے میں کرنے کا پابند ہے؟
کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی بروشر میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت اس سروس کو باقاعدہ شامل کیا گیا ہے۔ اس کا سروس نمبر 6 جبکہ مجموعی فہرست میں نمبر 15 ہے۔
سروس کا نام کیا ہے؟
عدالتی فیصلے کی تعمیل میں تاریخ پیدائش و نام کی تبدیلی
یعنی اگر کسی شہری کے حق میں عدالت کا فیصلہ موجود ہو اور اس فیصلے کی روشنی میں تعلیمی بورڈ کے ریکارڈ میں نام یا تاریخِ پیدائش تبدیل کرنا مطلوب ہو تو یہ ایک باقاعدہ عوامی سروس کے طور پر درج ہے۔
کتنے دن میں کام ہونا چاہیے؟
اس سروس کے لیے مقررہ مدت 7 دن ہے۔ یعنی متعلقہ بورڈ کو عدالتی فیصلے کی بنیاد پر نام یا تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کی کارروائی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنی چاہیے۔ بروشر میں اس سروس کے لیے 7 دن کی مدت درج ہے۔
ذمہ دار افسر کون ہے؟
اس سروس کے لیے سیکریٹری کو ذمہ دار افسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اپیل کے لیے چیئرمین متعلقہ اپیل اتھارٹی ہے۔
تفصیل معلومات
محکمہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
سروس عدالتی فیصلے کی تعمیل میں تاریخ پیدائش و نام کی تبدیلی
سروس نمبر 6
مقررہ مدت 7 دن
ذمہ دار افسر سیکریٹری
اپیل اتھارٹی چیئرمین
اگر 7 دن میں تبدیلی نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر شہری نے عدالتی فیصلے کی بنیاد پر متعلقہ سروس کے لیے درخواست دی ہے لیکن مقررہ 7 دن گزرنے کے باوجود کارروائی مکمل نہیں ہوتی تو معاملے کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنا ضروری نہیں۔
ایسی صورت میں شہری اپنے حقِ اپیل کو استعمال کر سکتا ہے اور متعلقہ اپیل اتھارٹی سے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر سروس کے حصول میں تاخیر یا رکاوٹ برقرار رہے تو کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی رہنمائی یا شکایت کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
شہری کے لیے اہم بات
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ 7 دن کی مدت اسی مخصوص سروس کے لیے ہے جس کا نام بروشر میں درج ہے۔ اس لیے عدالتی مقدمہ دائر کرنے، عدالتی فیصلہ حاصل کرنے یا کسی دوسرے ادارے میں ریکارڈ تبدیل کرانے میں لگنے والا وقت اس سات روزہ مدت کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا۔
یعنی جب معاملہ اس مخصوص سروس کے مرحلے میں پہنچ جائے تو مقررہ مدت 7 دن ہے۔
معلومات یا شکایت کے لیے رابطہ
کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی بروشر میں مرکزی رابطہ نمبر 091-9216375، ویب سائٹ www.kprts.gov.pk اور ای میل pschief.rts@kp.gov.pk درج ہیں۔
مختصر بات:
اگر عدالت نے نام یا تاریخِ پیدائش کی تبدیلی کا فیصلہ دے دیا ہے تو متعلقہ بورڈ کی اس مخصوص سروس کے تحت کارروائی کے لیے 7 دن مقرر ہیں۔ شہری کو غیر ضروری تاخیر کی صورت میں اپنے اپیل کے حق سے آگاہ ہونا چاہیے۔