تحریر : راشد خان سواتی
کچھ واقعات صرف خبریں نہیں ہوتے، وہ وقت کی دھول جھاڑ کر ماضی کی کسی بھولی بسری داستان کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔
آئرش سیاح الیگزینڈر کا کوہِ موسیٰ مصلی کی کوہ پیمائی کے دوران اپنے ساتھی سے بچھڑ جانا، دو دن تک اس کی تلاش، اور پھر اس کا بے جان جسم ملنا بھی میرے لیے محض ایک المناک حادثہ نہیں تھا۔ اس واقعے نے میرے بچپن کی یادوں کے دریچے کھول دیے اور مجھے ماسٹر افضل انکل جچھہ کی لکھی ہوئی کتاب ’’گمنام حقیقت‘‘ یاد آگئی۔
الیگزینڈر کی گمشدگی کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے، سرکاری محکمے، محکمۂ جنگلات کے اہلکار اور مقامی لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس کی تلاش میں شریک ہوئے۔ مگر اس تلاش کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ سرن ویلی کے عام لوگوں، خصوصاً نوجوانوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھائی اور خود پہاڑوں کی طرف نکل پڑے۔
پنجول، منڈہ گچھہ، جچھہ، جبڑ، دیولی اور اردگرد کی بستیوں کے نوجوانوں اور مکینوں نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت کی کوئی سرحد، نسل، قوم یا مذہب نہیں ہوتا۔
ایک اجنبی، ایک غیر ملکی، ایک دور دیس سے آنے والا مہمان جب مشکل میں پڑا تو وہ اجنبی نہیں رہا؛ وہ ہمارا مہمان بن گیا، اور مہمان کی حفاظت ہماری ذمہ داری۔
یہی سرن ویلی کی اصل پہچان ہے۔
یہ علاقہ مختلف اقوام، خاندانوں اور برادریوں کا مسکن ہے، مگر باہر سے آنے والے مہمان کے معاملے میں سب اختلافات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ کوئی مسلمان ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو یا کسی بھی قوم و نسل سے تعلق رکھتا ہو—مہمان، مہمان ہوتا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ الیگزینڈر کی تلاش نے مجھے ’’گمنام حقیقت‘‘ کے ایک پرانے واقعے تک پہنچا دیا۔
گمنام حقیقت—ایک پرانی داستان
ماسٹر افضل انکل جچھہ کی کتاب ’’گمنام حقیقت‘‘ میں بیان کردہ داستان میں ایک ایسے شخص کا ذکر ملتا ہے جو ہندو مذہب سے مسلمان ہوا، اپنے مرشد کی عقیدت میں گرفتار ہوا اور مرشد کے حکم کی تعمیل میں کوہِ مصلیٰ کی طرف سفر پر روانہ ہوا۔
یہ سردیوں کا موسم تھا۔ برف باری جاری تھی۔ علاقے کی مختلف اقوام پر مشتمل مشیران کا جرگہ جمع ہوا اور اسے اس خطرناک سفر سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ سب جانتے تھے کہ ایسے موسم میں مصلیٰ کی طرف جانا گویا موت کو دعوت دینا ہے۔
مگر شیخ بابا اپنے مرشد کے حکم کے پابند تھے۔
وہ سردیوں کی شدید برف باری میں سرن پہنچے، غسل کیا اور پھر کوہِ مصلیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔ علاقے کے لوگوں نے انہیں اس ناممکن دکھائی دینے والے سفر پر جاتے دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ راستہ کتنا دشوار ہے، مگر شیخ بابا اپنے ارادے سے پیچھے نہ ہٹے۔
چھ ماہ گزر گئے۔
گرمیوں کا موسم آیا تو علاقے کے لوگوں نے ان کی تلاش کا فیصلہ کیا۔ روایت کے مطابق، ان کے ساتھ وہ بھنے ہوئے مکئی کے دانے بھی تھے جو شیخ بابا سفر کے دوران اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انہی نشانیوں کی مدد سے تلاش آگے بڑھی اور بالآخر وہ لوگ اس مقام تک پہنچ گئے جہاں شیخ بابا کوہِ مصلیٰ کی چوٹی سے کچھ نیچے اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔
پھر ایک اور عجیب باب شروع ہوا۔
شیخ بابا کے ہندو خاندان کے لوگ ان کی میت لینے کے لیے انگریز افواج کے ہمراہ آئے۔ مگر علاقے کی تمام اقوام نے اپنے مہمان اور اپنے درمیان رہنے والے شخص کی میت ان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ ماحول کشیدہ ہوگیا اور لوگ اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے۔ حتیٰ کہ لڑائی کے لیے تیار ہونے کی نوبت آگئی۔
آخرکار امن کی خاطر خاندان کو میت لے جانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن روایت کے مطابق بہت کوشش کے باوجود شیخ بابا کی میت وہاں سے ایک انچ بھی نہ ہلائی جا سکی۔
بالآخر وہیں، اسی پہاڑ کی آغوش میں انہیں دفن کردیا گیا۔
یہ پاکستان بننے سے پہلے کا واقعہ تھا۔
مجھے یاد ہے کہ میری دادی جان، جن کا تعلق پنجول سے بھی تھا، کبھی کبھار اس داستان کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ بچپن میں شاید میں اس کہانی کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا تھا۔ مگر آج، الیگزینڈر کے واقعے نے اس پرانی داستان کو پھر سے زندہ کردیا ہے۔
کہانی بدل گئی، انسانیت نہیں بدلی
فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت شیخ بابا تھے اور آج الیگزینڈر ہے۔
اس وقت تلاش کرنے والے لوگ گھوڑوں، پیدل راستوں اور محدود وسائل کے ساتھ پہاڑوں کا رخ کرتے تھے؛ آج ہمارے پاس موبائل فون، سوشل میڈیا، سرکاری ادارے اور جدید ذرائع موجود ہیں۔
مگر ایک چیز نہیں بدلی:
اپنے مہمان کی فکر۔
مصیبت میں گھرے انسان کی تلاش۔
اور انسانیت کے لیے سب کا ایک ہوجانا۔
الیگزینڈر شاید ہمارے علاقے، ہماری زبان یا ہماری ثقافت سے واقف نہیں تھا۔ وہ ہزاروں میل دور سے آیا تھا۔ مگر جب وہ کوہِ مصلیٰ کی بلندیوں میں گم ہوا تو سرن ویلی کے لوگوں نے اسے صرف ایک غیر ملکی سیاح نہیں سمجھا۔
وہ ہمارا مہمان تھا۔
اور مہمان کی تلاش میں نکلنے والے ان نوجوانوں نے ایک بار پھر دنیا کو بتایا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
سرن ویلی صرف ایک وادی نہیں
سرن ویلی کے پہاڑ بلند ہیں، مگر یہاں کے لوگوں کے دل شاید ان پہاڑوں سے بھی بلند ہیں۔
پنجول، منڈہ گچھہ، جچھہ، جبڑ، دیولی اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کا یہ اتحاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مختلف اقوام کا ساتھ رہنا صرف جغرافیہ نہیں، ایک تہذیب بھی ہے۔
یہاں مہمان کے لیے دل کھل جاتے ہیں، اختلافات چھوٹے پڑ جاتے ہیں اور انسان سب سے بڑا رشتہ بن جاتا ہے۔
الیگزینڈر کی موت یقیناً ایک بڑا سانحہ ہے۔ ایک خوبصورت زندگی کو کوہِ مصلیٰ کی سنگلاخ بلندیوں نے اپنے اندر چھپا لیا۔ مگر اس سانحے کے درمیان جو منظر سامنے آیا، وہ امید پیدا کرتا ہے۔
صدیاں گزر گئیں، کردار بدل گئے، زمانہ بدل گیا، مگر سرن ویلی کے لوگوں کی مہمان نوازی نہیں بدلی۔
’’گمنام حقیقت‘‘ شاید ایک کتاب کا نام ہے، مگر آج الیگزینڈر کی داستان نے مجھے محسوس کرایا کہ اس کتاب کی ایک حقیقت آج بھی زندہ ہے۔
کوہِ مصلیٰ نے ایک اور مسافر کو اپنے دامن میں سلا دیا، مگر سرن ویلی کے لوگوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
الیگزینڈر اب واپس نہیں آئے گا،
مگر اس کی تلاش میں نکلنے والے مقامی نوجوانوں کے قدموں کے نشان شاید آنے والی نسلوں کو یہ بتاتے رہیں گے کہ:
مہمان کسی بھی ملک کا ہو،
کسی بھی نسل کا ہو،
کسی بھی مذہب کا ہو—
مشکل وقت میں وہ صرف انسان ہوتا ہے،
اور انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔
