تعلیمی سند زندگی کی اُن اہم دستاویزات میں شامل ہے جن کی ضرورت صرف تعلیم مکمل کرنے تک محدود نہیں رہتی۔ ملازمت، بیرونِ ملک تعلیم، ویزا، سرکاری ملازمت اور دیگر اہم معاملات میں بھی تعلیمی سند پیش کرنا پڑ سکتی ہے۔
ایسے میں اگر اصل سرٹیفکیٹ گم یا ضائع ہوجائے تو طالب علم یا شہری کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہوتا ہے کہ نقل سرٹیفکیٹ کب تک جاری ہونا چاہیے؟
خیبر پختونخوا کے حقِ عوامی خدمات کے نظام میں نقل سرٹیفکیٹ کا اجراء بھی باقاعدہ مقررہ مدت کے اندر فراہم کی جانے والی عوامی خدمت ہے۔ شہریوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سروس کی مقررہ مدت کیا ہے، درخواست کیسے دی جائے اور تاخیر کی صورت میں کہاں شکایت کی جاسکتی ہے۔
نقل سرٹیفکیٹ کتنے دنوں میں ملنا چاہیے؟
ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت اس سروس کے لیے مقررہ مدت صرف ایک دن ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق نقل سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے ذمہ دار افسر سیکریٹری جبکہ اپیل سننے والی اتھارٹی چیئرمین ہے۔اس سروس کے لیے پیشگی شرط کے طور پر سادہ درخواست درج ہے۔
یعنی اگر شہری نے نقل سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے مطلوبہ درخواست جمع کرا دی ہے اور متعلقہ تقاضے پورے کردیئے ہیں تو اسے غیرضروری طور پر کئی دن یا ہفتوں تک انتظار نہیں کروایا جانا چاہیے۔نقل سرٹیفکیٹ کن حالات میں درکار ہوتا ہے؟عام طور پر نقل سرٹیفکیٹ اس وقت حاصل کیا جاتا ہے جب اصل تعلیمی سند یا تو گم ہوجائے، ضائع ہوجائے، یا کسی وجہ سے دوبارہ سند حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ نقل سرٹیفکیٹ اور اصل سرٹیفکیٹ کے اجراء کی سروس الگ الگ ہیں۔ اصل سرٹیفکیٹ کے لیے مقررہ مدت مختلف ہے، جبکہ نقل سرٹیفکیٹ کے لیے سرکاری نوٹیفکیشن میں ایک دن مقرر کیا گیا ہے۔
درخواست دیتے وقت کیا کریں؟
نقل سرٹیفکیٹ کے لیے شہری کو متعلقہ تعلیمی ادارے یا مجاز تعلیمی اتھارٹی کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق درخواست دینی چاہیے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں اس سروس کی پیشگی شرط سادہ درخواست بیان کی گئی ہے۔درخواست جمع کرواتے وقت شہری کے لیے بہتر ہے کہ وہ درخواست جمع کرانے کا ثبوت اپنے پاس محفوظ رکھے، درخواست کی تاریخ نوٹ کرے اور متعلقہ دفتر سے معلوم کرے کہ سرٹیفکیٹ کب فراہم کیا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ درخواست گزار اپنی درخواست یا رسید سے متعلق ریکارڈ محفوظ رکھے، تاکہ اگر مقررہ ایک دن میں سروس فراہم نہ کی جائے تو تاخیر کے خلاف اپیل کرتے وقت اس کے پاس ضروری ثبوت موجود ہوں۔
ایک دن گزر جائے اور سرٹیفکیٹ نہ ملے تو کیا کریں؟
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کا نظام شہری کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔اگر مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ کی جائے، درخواست مسترد کردی جائے یا فراہم کردہ سروس ناقص ہو تو شہری متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔نقل سرٹیفکیٹ کے معاملے میں سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اپیلیٹ اتھارٹی چیئرمین ہے۔
درخواست گزار کو اپیل کرتے وقت اپنی درخواست، رسید یا دیگر متعلقہ ریکارڈ ساتھ رکھنا چاہیے۔اگر اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری اپنے حق کے لیے کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی رجوع کرسکتا ہے۔
ایک نظر میں سروس:
نقل سرٹیفکیٹ کا اجراءمحکمہ: ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
مقررہ وقت: 1 دن
پیشگی شرط: سادہ درخواست
ذمہ دار افسر: سیکریٹری
اپیل کا اختیار: چیئرمین
شہریوں کے لیے اہم پیغام
تعلیمی سند گم ہونا پہلے ہی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ شہری کو نقل سند کے حصول کے لیے طویل عرصے تک دفاتر کے چکر لگانے پڑیں۔ کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کے تحت اس سروس کے لیے ایک دن کی واضح مدت مقرر ہے۔
اس لیے درخواست دینے کے بعد شہری کو درخواست کی تاریخ، رسید یا دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔ اگر مقررہ مدت گزرنے کے باوجود سروس فراہم نہ ہو تو شہری اپنے قانونی حق کے تحت متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے شکایت بھی کی جاسکتی ہے۔
کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز سے رابطہ
اگر مقررہ وقت گزرنے کے باوجود سروس فراہم نہ کی جائے یا غیرضروری تاخیر کا سامنا ہو تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk
