Skip to content

نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح؛ تعلیمی اسناد میں غلطی کتنے وقت میں درست ہونی چاہیے؟

شیئر

شیئر

تعلیمی اسناد میں نام، والد کا نام یا تاریخِ پیدائش کی معمولی غلطی بھی مستقبل میں داخلے، ملازمت، پاسپورٹ، شناختی دستاویزات اور دیگر سرکاری معاملات میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے خیبر پختونخوا میں تعلیمی بورڈز کے ریکارڈ میں نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح کو باقاعدہ عوامی سروس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

طلبہ اور والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسی غلطی کی تصحیح کے لیے کیا طریقہ کار ہے، کون سی دستاویزات درکار ہوسکتی ہیں اور متعلقہ بورڈ کو یہ سروس کتنے وقت میں فراہم کرنا ہوتی ہے۔

نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح کی سروس کیا ہے؟

خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ’’Correction of Name/Father Name/Date of Birth in Documents‘‘ سروس محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے تحت 2022 میں نوٹیفائیڈ سروسز میں شامل کی گئی۔

اس سروس کے تحت تعلیمی بورڈ کے ریکارڈ میں طالب علم کے نام، والد کے نام یا تاریخِ پیدائش میں موجود غلطی کی قواعد کے مطابق تصحیح کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے۔اس سروس کے لیے مقررہ وقت صرف ایک دن ہے، جبکہ ذمہ دار افسر سیکریٹری، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور اپیل کا اختیار چیئرمین بورڈ کے پاس ہے۔

کن معلومات کی تصحیح ہوسکتی ہے؟

اس سروس کے تحت تعلیمی بورڈ کے ریکارڈ میں طالب علم کے نام، والد کے نام یا ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے تصحیح فارم میں بھی نام، والد کے نام اور تاریخِ پیدائش کی Correction کے لیے الگ الگ آپشنز موجود ہیں۔

تاہم ہر قسم کی تبدیلی کو محض معمولی دفتری غلطی نہیں سمجھا جاسکتا۔ درخواست کی نوعیت اور مطلوبہ تبدیلی کے مطابق بورڈ اضافی ثبوت یا دستاویزات طلب کرسکتا ہے۔

درخواست کے ساتھ کون سی دستاویزات درکار ہوسکتی ہیں؟

تصحیح کی نوعیت کے مطابق ضروری دستاویزات مختلف ہوسکتی ہیں۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے تصحیح فارم میں AWR یعنی Admission Withdrawal Register، عدالتی ڈگری یا حکم، Correction Committee کی منظوری، اخبار میں اشتہار اور دیگر متعلقہ دستاویزات کے آپشن موجود ہیں۔

اگر نام، ولدیت یا تاریخِ پیدائش کی غلطی اسکول کے ریکارڈ میں موجود درست معلومات کی بنیاد پر درست کرانی ہو تو Admission Withdrawal Register (AWR) سمیت متعلقہ تعلیمی ریکارڈ کی جانچ کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب اگر مطلوبہ تبدیلی بنیادی نوعیت کی ہو تو بعض معاملات میں Correction Committee کی منظوری یا عدالتی حکم بھی درکار ہوسکتا ہے۔

اس لیے درخواست دینے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ متعلقہ معاملہ صرف دفتری یا کلریکل غلطی کی تصحیح ہے، معمولی تبدیلی ہے یا بنیادی نوعیت کی تبدیلی، کیونکہ ہر صورت میں دستاویزات اور قانونی تقاضے ایک جیسے نہیں ہوتے۔

مقررہ وقت صرف ایک دن

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح کی اس سروس کے لیے مقررہ وقت ایک دن ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2023 میں آٹھ اضلاع سے اس سروس کی مجموعی طور پر 18,333 درخواستوں کا ڈیٹا رپورٹ ہوا۔ ان میں سے 17,890 درخواستیں مقررہ وقت کے اندر نمٹائی گئیں جبکہ 443 درخواستیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس سروس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ نام اور عمر سے متعلق ریکارڈ کی درستگی سرٹیفکیٹس اور ڈگریوں کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ تمام بورڈز میں اس سروس کی بہتر فراہمی کے لیے مؤثر ایس او پیز اور ڈیٹا شیئرنگ کی ضرورت ہے۔

عام تصحیح اور عدالتی فیصلے کے تحت تبدیلی میں فرقیہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کے بروشر میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت عدالتی فیصلے کی تعمیل میں تاریخِ پیدائش اور نام کی تبدیلی کو الگ سروس کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

اس سروس کے لیے مقررہ مدت 7 دن ہے۔ اس لیے عام ریکارڈ میں نام، ولدیت یا تاریخِ پیدائش کی تصحیح اور عدالتی فیصلے کی بنیاد پر نام یا تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کو ایک ہی سروس سمجھنا درست نہیں ہوگا۔اگر معاملہ عدالتی حکم یا کسی بنیادی تبدیلی سے متعلق ہو تو درخواست گزار کو متعلقہ بورڈ کے مقررہ طریقہ کار اور اضافی قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔

اگر ایک دن میں تصحیح نہ ہو تو کیا کریں؟

اگر درخواست مکمل ہے، تمام مطلوبہ دستاویزات اور ضروری تقاضے پورے کردیئے گئے ہیں لیکن مقررہ ایک دن میں سروس فراہم نہیں کی جاتی تو شہری کے پاس کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ کے تحت اپیل کا حق موجود ہے۔اس سروس کے لیے اپیل کا اختیار چیئرمین متعلقہ بورڈ کے پاس ہے۔

درخواست گزار کو چاہیے کہ درخواست کی رسید، ٹوکن یا درخواست نمبر، جمع کرائی گئی دستاویزات اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھے تاکہ تاخیر کی صورت میں اپیل کرتے وقت ثبوت پیش کیے جاسکیں۔اگر متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری اپنے حق کے لیے کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی رجوع کرسکتا ہے۔

شہریوں کے لیے ضروری احتیاط نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح کی درخواست دیتے وقت شہری کو سب سے پہلے اپنے تمام سرکاری اور تعلیمی ریکارڈ کا موازنہ کرنا چاہیے تاکہ درست معلومات کے ثبوت کے ساتھ درخواست جمع کرائی جاسکے۔ خاص طور پر شناختی کارڈ، اسکول ریکارڈ، Admission Withdrawal Register اور دیگر متعلقہ دستاویزات میں موجود معلومات کو چیک کرنا ضروری ہے۔

درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی رسید یا ٹوکن نمبر ضرور محفوظ رکھا جائے اور مقررہ ایک دن کی مدت کو ذہن میں رکھا جائے۔ اگر مقررہ وقت میں سروس فراہم نہ ہو تو پہلے متعلقہ بورڈ کے چیئرمین سے اپیل اور ضرورت پڑنے پر کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

ایک نظر میں سروس:

نام، ولدیت اور تاریخِ پیدائش کی تصحیح محکمہ: ابتدائی و ثانوی تعلیم

مقررہ وقت: 1 دن

ذمہ دار افسر: سیکریٹری، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن

اپیل کا اختیار: چیئرمین بورڈ

متعلقہ ریکارڈ: تعلیمی اسناد اور بورڈ ریکارڈ

بنیادی ثبوت: AWR، متعلقہ تعلیمی ریکارڈ یا کیس کی نوعیت کے مطابق عدالتی/کمیٹی دستاویزات

عدالتی فیصلے کے تحت نام/تاریخِ پیدائش کی تبدیلی: الگ سروس، مقررہ مدت 7 دن

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز سے رابطہ

اگر مقررہ وقت گزرنے کے باوجود سروس فراہم نہ کی جائے یا غیرضروری تاخیر کا سامنا ہو تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

فون: 091-9216375

ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk

ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

اہم بات

ایک دن کی مقررہ مدت ’’Correction of Name/Father Name/Date of Birth in Documents‘‘ نامی نوٹیفائیڈ سروس کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکمل اور متعلقہ تقاضے پورے کرنے والی درخواست پر سروس مقررہ مدت کے اندر فراہم کی جانی چاہیے۔

تاہم اگر معاملہ نام یا تاریخِ پیدائش میں بنیادی تبدیلی یا عدالتی حکم کی تعمیل سے متعلق ہو تو اس کے لیے الگ سروس، اضافی دستاویزات اور مختلف طریقہ کار لاگو ہوسکتا ہے۔شہریوں کو چاہیے کہ تعلیمی ریکارڈ میں کسی بھی غلطی کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت درست کرائیں، کیونکہ ایک معمولی غلطی مستقبل میں اہم تعلیمی اور سرکاری معاملات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں