اسلحہ لائسنس کے حصول میں درخواست جمع کرانے کے بعد ایک اہم مرحلہ درخواست دہندہ کی پولیس سے تصدیق ہے۔ اس مرحلے میں متعلقہ پولیس حکام درخواست گزار کے کوائف اور پس منظر کی جانچ کرتے ہیں تاکہ لائسنس کے اجرا سے پہلے قانونی تقاضے پورے کیے جاسکیں۔خیبر پختونخوا میں یہ عمل بھی رائٹ ٹو پبلک سروسز (کے پی آر ٹی ایس) کے تحت ایک نوٹیفائیڈ پبلک سروس ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پولیس تصدیق کے لیے بھی قانون میں ایک مقررہ مدت موجود ہے اور شہری کو غیر ضروری تاخیر کی صورت میں داد رسی کا حق حاصل ہے۔
پولیس تصدیق کب ہوتی ہے؟
اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست اور ابتدائی کارروائی مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کی معلومات متعلقہ پولیس اسٹیشن کو تصدیق کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ کے پی آر ٹی ایس کے مطابق یہی مرحلہ Verification of Arms Applicant by Police کہلاتا ہے۔ پولیس تصدیق مکمل ہونے کے بعد رپورٹ متعلقہ حکام کو واپس بھیجی جاتی ہے تاکہ اسلحہ لائسنس کی درخواست پر مزید قانونی کارروائی ہوسکے۔یعنی سادہ الفاظ میں:درخواست → ابتدائی کارروائی → پولیس تصدیق → پولیس رپورٹ → لائسنس کے اگلے مراحل
پولیس تصدیق میں کیا دیکھا جاتا ہے؟
پولیس تصدیق کا مقصد درخواست گزار کے فراہم کردہ کوائف اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کرنا ہے۔ اس عمل میں درخواست گزار کی شناخت، رہائش اور دستیاب پولیس ریکارڈ سے متعلق معلومات کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔اسلحہ لائسنس کے لیے کے پی آر ٹی ایس کی سرکاری معلومات میں درخواست گزار سے CNIC، دو تصاویر، مقررہ درخواست فارم اور حلف نامہ سمیت دیگر دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔ درخواست گزار کی عمر کم از کم 21 سال ہونا بھی ضروری ہے۔ سرکاری ملازم کی صورت میں آخری پے سلپ اور متعلقہ محکمے کے سربراہ یا ضلعی افسر کا خط بھی درکار ہے۔ پولیس تصدیق اسی اسلحہ لائسنس درخواست کے عمل کا حصہ ہے، اس لیے شہری کے لیے ضروری ہے کہ درخواست کے وقت فراہم کردہ معلومات درست اور مکمل ہوں۔
پولیس تصدیق کے لیے کتنے دن مقرر ہیں؟
یہ اس سروس کا سب سے اہم پہلو ہے۔کے پی آر ٹی ایس کی سرکاری رپورٹ کے مطابق درخواست دہندہ کی پولیس سے تصدیق کے لیے 15 دن کی مدت مقرر ہے۔ اس سروس کے لیے ڈپٹی کمشنر نامزد افسر جبکہ متعلقہ کمشنر اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ یعنی اگر درخواست متعلقہ پولیس کو تصدیق کے لیے موصول ہوچکی ہے تو شہری کو مقررہ مدت کے بعد غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
اگر 15 دن میں پولیس تصدیق مکمل نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر شہری کی درخواست پولیس تصدیق کے مرحلے میں ہے اور 15 دن گزرنے کے باوجود تصدیق مکمل نہیں ہوتی تو شہری متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔اس سروس کے لیے کے پی آر ٹی ایس کے مطابق متعلقہ کمشنر اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ شہری کو درخواست کی رسید، درخواست نمبر، شناختی دستاویزات اور اسلحہ لائسنس سے متعلق دیگر کاغذات محفوظ رکھنے چاہئیں تاکہ تاخیر کی صورت میں اپیل یا شکایت کے وقت یہ ریکارڈ پیش کیا جاسکے۔
کیا 15 دن بعد خود بخود اسلحہ لائسنس جاری ہوجاتا ہے؟
نہیں۔یہ بات شہریوں کے لیے سمجھنا ضروری ہے کہ 15 دن کی مدت صرف پولیس تصدیق کی سروس کے لیے ہے، اسلحہ لائسنس کے حتمی اجرا کی ضمانت نہیں۔پولیس تصدیق مکمل ہونے کے بعد درخواست اسلحہ لائسنس کے اگلے مرحلے میں جاتی ہے۔ صوبائی لائسنس کی صورت میں پولیس تصدیق کے بعد درخواست دوبارہ آرمز لائسنس برانچ میں آتی ہے، جہاں مقررہ فیس اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔ آل پاکستان لائسنس کی صورت میں پولیس تصدیق کے بعد درخواست مزید منظوری کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی جاتی ہے۔
2023 میں کتنی درخواستیں بروقت نمٹائی گئیں؟
کے پی آر ٹی ایس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2023 میں اسلحہ لائسنس کے درخواست دہندگان کی پولیس تصدیق کے 48,379 کیسز پراسیس کیے گئے۔ان میں:45,812 تصدیقات مقررہ وقت میں مکمل ہوئیں۔3,367 کیسز مقررہ مدت کے بعد مکمل ہوئے۔رپورٹ کے مطابق بروقت تصدیق کی شرح تقریباً 94 فیصد رہی، جبکہ باقی کیسز میں تاخیر ہوئی۔ یہ اعداد اس بات کی اہمیت واضح کرتے ہیں کہ پولیس تصدیق کے لیے مقررہ 15 دن محض رسمی مدت نہیں بلکہ سروس کی کارکردگی جانچنے کا ایک پیمانہ بھی ہے۔
کے پی آر ٹی ایس میں شکایت کیسے کی جائے؟
اگر نوٹیفائیڈ سروس مقررہ وقت میں فراہم نہ ہو تو شہری کے پی آر ٹی ایس کے تحت اپنے حق کے لیے رجوع کرسکتا ہے۔ کمیشن کا بنیادی مقصد ہی شہریوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ نوٹیفائیڈ سرکاری خدمات فراہم کرانا اور تاخیر، انکار یا سروس میں کمی کی صورت میں سرکاری اہلکاروں کو جواب دہ بنانا ہے۔
سروس: درخواست دہندہ کی پولیس سے تصدیق
مقررہ مدت: 15 دن
ذمہ دار افسر: ڈپٹی کمشنراپیلیٹ اتھارٹی
متعلقہ کمشنر کے پی آر ٹی ایس کمیشن سے رابطہ فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk
اہم بات
پولیس تصدیق کا مقررہ وقت 15 دن ہے، جبکہ اس کے بعد اسلحہ لائسنس کے اجرا کے لیے مزید قانونی اور انتظامی مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔ اس لیے 15 دن گزرنے کا مطلب یہ نہیں کہ لائسنس خود بخود منظور ہوگیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس تصدیق کی نوٹیفائیڈ سروس میں تاخیر کی صورت میں شہری اپنا حق استعمال کرسکتا ہے۔
