Skip to content

پاکستانی سیاست میں نوجوان خواتین کی ڈیجیٹل آواز کیوں خاموش ہو رہی ہے؟

شیئر

شیئر

سوشل میڈیا نے پاکستانی سیاست میں نوجوان خواتین کے لیے اپنی آواز عوام تک پہنچانے، ووٹرز سے براہِ راست رابطہ کرنے اور سیاسی و سماجی مسائل پر گفتگو کا ایک اہم راستہ کھولا ہے، لیکن آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے بننے والی جعلی تصاویر اور ویڈیوز، آن لائن ہراسانی اور امیج بیسڈ ابیوز نے اسی ڈیجیٹل میدان کو کئی خواتین کے لیے خوف کا سبب بھی بنا دیا ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کے چہرے یا جسم کو جعلی تصویر یا ویڈیو میں اس انداز سے شامل کیا جا سکتا ہے کہ وہ بظاہر حقیقی محسوس ہو۔ خواتین کے خلاف اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف بدنامی تک محدود نہیں بلکہ انہیں خوفزدہ کرنے، بلیک میل کرنے، خاموش کرانے اور آن لائن عوامی زندگی سے دور کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس مانیٹر کے مطابق ڈیپ فیک مواد خواتین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے پیچھے ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں میں شامل ہو چکا ہے۔

سیاسی خواتین کے لیے خطرہ زیادہ کیوں؟

پاکستانی معاشرے میں خواتین کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو اکثر ان کی ذاتی زندگی اور خاندانی ساکھ کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی خاتون کی جعلی تصویر یا ویڈیو صرف اس کی اپنی ساکھ کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے خاندان پر بھی سماجی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس مانیٹر کی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں خواتین کی آن لائن سرگرمیوں پر حملوں میں جنسی نوعیت کے تبصرے، دھمکیاں، اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوششیں، جعلی شناخت اور تصاویر کے غلط استعمال جیسے حربے شامل ہیں۔ سیاسی رائے رکھنے والی خواتین خاص طور پر اس دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض خواتین اپنی آن لائن سرگرمی محدود یا خود کو سنسر کرنے لگتی ہیں۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جعلی مواد بنایا جا سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ چند منٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ بعد میں اگر تصویر یا ویڈیو جعلی ثابت بھی ہوجائے تو ضروری نہیں کہ اسے دیکھنے والے ہر شخص تک یہ حقیقت پہنچ سکے۔

یعنی ایک جھوٹا مواد اپنی سچائی ثابت کیے بغیر بھی اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے۔

ایک جعلی تصویر، پورے خاندان کا دباؤ

پاکستان میں خواتین کے خلاف آن لائن تشدد کا اثر اکثر فرد تک محدود نہیں رہتا۔ خاندان، رشتہ دار، برادری اور سماجی حلقے بھی اس کے اثرات کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اسی سماجی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین شکایت درج کرانے یا قانونی کارروائی کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس مانیٹر کی ایک رپورٹ میں نوجوان خواتین کے ایسے تجربات سامنے آئے جہاں آن لائن تصاویر کے غلط استعمال کے خوف نے انہیں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس محدود کرنے، تصاویر ہٹانے یا مکمل طور پر پلیٹ فارم چھوڑنے پر مجبور کیا۔

یہ صورتحال سیاسی میدان میں موجود خواتین کے لیے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ سیاست میں عوامی موجودگی خود ایک ضرورت ہے۔ ایک خاتون اگر سیاسی کارکن، امیدوار، صحافی یا عوامی نمائندہ ہے تو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رہنا اس کے لیے عملی طور پر ممکن نہیں۔

ڈیجیٹل تشدد صرف ہراسانی نہیں

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی 2024 سے دسمبر 2025 کے دوران اس کی ڈیجیٹل سیکیورٹی ہیلپ لائن نے 5,041 نئے کیسز نمٹائے۔ رپورٹ میں خواتین اور ٹرانس خواتین کو ہیکنگ، امیج بیسڈ ابیوز، بلیک میلنگ، سیکسٹورشن اور مربوط آن لائن ہراسانی کا زیادہ شکار قرار دیا گیا۔

یہ اعداد اس مسئلے کو محض سوشل میڈیا کے چند ناخوشگوار واقعات کے بجائے ایک وسیع تر ڈیجیٹل سیفٹی اور صنفی تشدد کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔

2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی تحقیق نے بھی پاکستان میں خواتین کے خلاف ڈیجیٹل ہراسانی کے نفسیاتی اور سماجی اثرات کی نشاندہی کی۔ تحقیق کے مطابق آن لائن اسٹاکنگ، دھمکیاں، نفرت انگیز مواد، جنسی ہراسانی اور غیر رضامندانہ طور پر تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا خواتین کی آن لائن شرکت اور ذہنی بہبود پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

قانون موجود، مگر کیا تحفظ کافی ہے؟

پاکستان میں آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ سائبر کرائم سے متعلق شکایات اور تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) مرکزی ادارہ ہے۔

تاہم ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے قانون کے نفاذ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس مانیٹر کے مطابق موجودہ قانونی فریم ورک میں ڈیپ فیک کو ایک الگ اور واضح اصطلاح کے طور پر نمٹنے کی حدود موجود ہیں، جبکہ تکنیکی شواہد، پلیٹ فارمز سے مواد ہٹوانے، ملزمان کی شناخت اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز سے تعاون جیسے مسائل بھی متاثرین کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

حکومت نے بھی ڈیجیٹل تشدد کے بڑھتے خطرے کو تسلیم کیا ہے۔ دسمبر 2025 میں وزارتِ انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے اداروں کے اشتراک سے ہونے والی ایک تقریب میں حکام نے سائبر اسٹاکنگ، آن لائن ہراسانی، جعل سازی، ڈیپ فیک، بلیک میلنگ اور نفرت انگیز مواد کو خواتین اور لڑکیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات میں شمار کیا تھا۔

جب خوف سیاسی آواز کو محدود کر دے

مسئلے کا سب سے اہم پہلو شاید یہ ہے کہ آن لائن تشدد کا مقصد ہمیشہ کسی خاتون کو قانونی طور پر نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات صرف خوف پیدا کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔

اگر ایک نوجوان سیاسی کارکن یہ سوچ کر اپنی تصویر پوسٹ نہ کرے کہ اسے جعلی ویڈیو میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اگر وہ سیاسی اختلاف پر اپنی رائے دینے سے گریز کرے، اگر وہ کسی جلسے یا عوامی سرگرمی میں شرکت کی تصویر شیئر کرنے سے ڈرے، تو بظاہر وہ سوشل میڈیا پر موجود ہے لیکن حقیقت میں اس کی آزادیِ اظہار محدود ہو چکی ہے۔

یہی خود سنسرشپ ڈیجیٹل سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان میں خواتین کو سیاسی میدان میں پہلے ہی خاندانی دباؤ، سماجی توقعات، صنفی تعصبات اور سیاسی تشدد سمیت متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اگر ڈیجیٹل دنیا بھی ان کے لیے ایسا ماحول بن جائے جہاں ہر تصویر، ہر ویڈیو اور ہر سیاسی رائے کے بعد کردار کشی کا خطرہ موجود ہو تو خواتین کی سیاسی شرکت مزید محدود ہو سکتی ہے۔

حل صرف اکاؤنٹ پرائیویسی نہیں

ماہرین کے مطابق خواتین کو صرف یہ مشورہ دینا کہ وہ اپنی تصاویر پوسٹ نہ کریں یا سوشل میڈیا سے دور رہیں، مسئلے کا حل نہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین، خاص طور پر سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے؛ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے لیے ڈیجیٹل سیفٹی پروٹوکول بنائیں؛ پلیٹ فارمز جعلی اور غیر رضامندانہ مواد کے خلاف تیز تر کارروائی کریں؛ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تکنیکی صلاحیت بہتر بنائی جائے اور متاثرین کو ایسا شکایتی نظام فراہم کیا جائے جہاں انہیں مزید سماجی یا نفسیاتی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کیونکہ اگر ایک جعلی تصویر کسی خاتون کو خاموش کر دیتی ہے تو نقصان صرف اس خاتون کا نہیں ہوتا۔ نقصان اس پورے ڈیجیٹل عوامی میدان کا ہوتا ہے جہاں خواتین کی آواز بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کی۔

سوال یہ نہیں کہ خواتین سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر کیوں شیئر کرتی ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا بنائی جا سکتی ہے جہاں خواتین کو اپنی آواز، شناخت اور سیاسی رائے کے اظہار کے لیے اپنی حفاظت اور عزت میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے؟

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں