Skip to content

ڈی ایم سی اور سند کی تصدیق کیسے کرائیں؟ اگر سروس نہ ملے تو شہری کیا کریں؟

شیئر

شیئر

تعلیمی اسناد کی تصدیق طلبہ کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت، اسکالرشپ، یونیورسٹی میں داخلے یا دیگر سرکاری و قانونی معاملات میں اکثر ڈی ایم سی (DMC) یا تعلیمی سند کی تصدیق درکار ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں یہ سہولت بھی کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز (کے پی آر ٹی ایس) کے تحت نوٹیفائیڈ عوامی خدمات میں شامل ہے۔ شہریوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق کیسے کرائی جاسکتی ہے، اس کے لیے کیا تقاضے ہیں اور مقررہ وقت میں سروس نہ ملنے کی صورت میں کہاں شکایت کی جاسکتی ہے۔

ڈی ایم سی اور سند کی تصدیق کیا ہے؟

ڈی ایم سی یا سرٹیفکیٹ کی تصدیق سے مراد یہ جانچ ہے کہ متعلقہ تعلیمی دستاویز واقعی اسی بورڈ کی جانب سے جاری ہوئی ہے اور اس میں درج معلومات بورڈ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق درست ہیں۔ یہ تصدیق اس وقت خاص اہمیت اختیار کرجاتی ہے جب کسی طالب علم کو بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت، اسکالرشپ، یونیورسٹی داخلے یا کسی سرکاری ادارے میں دستاویزات جمع کرانی ہوں۔

خیبر پختونخوا کے مختلف بورڈز میں یہ سہولت طلبہ اور دیگر درخواست گزاروں کو دستیاب ہے۔ مثال کے طور پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کی آن لائن سہولیات میں DMCs اور Certificates کی Verification کی سہولت بھی موجود ہے۔

ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق کے لیے درخواست کیسے دی جائے؟

ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق کے لیے درخواست گزار کو متعلقہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے رجوع کرنا ہوتا ہے۔ مختلف تعلیمی بورڈز نے اس مقصد کے لیے آن لائن اور دیگر سہولیات فراہم کر رکھی ہیں۔

مثلاً بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کی ویب سائٹ پر Document Verification (Online) کی سہولت موجود ہے، جس کے ذریعے متعلقہ تعلیمی دستاویز کی تصدیق کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے۔ تاہم مختلف بورڈز کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے، اس لیے درخواست گزار کو اپنے متعلقہ بورڈ کی تازہ ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

تصدیق کے لیے کون سی دستاویز اور فیس درکار ہے؟

کے پی آر ٹی ایس کے تحت اس سروس کے سرکاری نوٹیفکیشن میں پیشگی شرط کے طور پر مقررہ فیس جمع کرانا درج ہے۔ یعنی ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق کی درخواست پر کارروائی کے لیے متعلقہ بورڈ کی مقررہ فیس ادا کرنا ضروری ہے۔

مثال کے طور پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کی دستیاب فیس معلومات کے مطابق Verification Fee per document (Normal) 805 روپے جبکہ IBCC verification کے لیے 1,000 روپے فی دستاویز فیس درج ہے۔ تاہم دوسرے تعلیمی بورڈز کی فیس مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے درخواست دینے سے پہلے متعلقہ بورڈ کی موجودہ فیس ضرور چیک کرنی چاہیے۔

درخواست گزار کو چاہیے کہ فیس جمع کرانے کے بعد اس کی رسید ضرور محفوظ رکھے، کیونکہ مقررہ سروس میں تاخیر کی صورت میں یہ رسید اہم ثبوت کے طور پر استعمال ہوسکتی ہے۔

کتنے دن میں ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق ہونی چاہیے؟

یہاں کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز نظام کا اہم کردار سامنے آتا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی ایم سی/سند کی تصدیق کے لیے مقررہ مدت 3 دن ہے۔

اس سروس کے لیے سیکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نامزد افسر جبکہ چیئرمین بورڈ اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔

یعنی مقررہ فیس جمع ہونے اور مطلوبہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد شہری کو اس نوٹیفائیڈ سروس کے لیے غیر ضروری طور پر طویل انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم تین دن کی مقررہ مدت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی نامکمل درخواست یا ضروری تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں تصدیق لازماً مکمل کردی جائے گی۔

اگر 3 دن میں تصدیق نہ ہو تو کیا کریں؟

اگر درخواست گزار نے مقررہ فیس جمع کرا دی ہے، ضروری کارروائی مکمل کردی ہے لیکن اس کے باوجود 3 دن گزرنے کے بعد ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق نہیں کی جاتی تو شہری اپنے حق کے لیے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔

اس سروس کے لیے چیئرمین متعلقہ بورڈ اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اپیلیٹ اتھارٹی تاخیر، ناقص سروس یا سروس سے انکار کی صورت میں اپیل سن سکتی ہے۔

درخواست گزار کو چاہیے کہ فیس کی رسید، درخواست یا آن لائن ٹریکنگ نمبر، تصدیق کے لیے جمع کرائی گئی ڈی ایم سی یا سند کی کاپی اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اپیل یا شکایت کے ساتھ ثبوت فراہم کیا جاسکے۔

کیا ڈی ایم سی اور سند کی تصدیق میں واقعی تاخیر ہوتی ہے؟

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق آٹھ اضلاع میں 43,075 ڈی ایم سی/سند کی تصدیق کے کیسز نمٹائے گئے۔ ان میں سے 40,469 کیسز مقررہ 3 دن کے اندر مکمل ہوئے جبکہ 2,606 کیسز میں تاخیر ہوئی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ زیادہ تر کیسز مقررہ مدت میں نمٹائے گئے، تاہم کچھ معاملات میں شہریوں کو تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایسی صورت میں شہری کے پاس قانونی طور پر دستیاب اپیل اور شکایت کا راستہ موجود ہے۔

شہری اپنا حق کیسے استعمال کریں؟

ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق کے لیے درخواست دیتے وقت شہری کو سب سے پہلے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ درست متعلقہ تعلیمی بورڈ سے رجوع کررہا ہے۔ اس کے بعد مقررہ فیس جمع کرائی جائے اور درخواست یا آن لائن درخواست کا ثبوت محفوظ رکھا جائے۔ تصدیق کے لیے جمع کرائی گئی دستاویز کی کاپی، فیس کی رسید اور اگر دستیاب ہو تو آن لائن ٹریکنگ نمبر بھی سنبھال کر رکھنا چاہیے۔

درخواست گزار کو 3 دن کی مقررہ مدت ذہن میں رکھنی چاہیے۔ اگر تمام ضروری تقاضے مکمل ہونے کے باوجود مقررہ مدت میں تصدیق نہ کی جائے تو پہلے متعلقہ بورڈ کے چیئرمین سے اپیل کی جاسکتی ہے۔ اگر اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری اپنے حق کے لیے کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رجوع کرسکتا ہے۔

ایک نظر میں

سروس: ڈی ایم سی/سند کی تصدیق
مقررہ مدت: 3 دن
ذمہ دار افسر: سیکریٹری، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
اپیلیٹ اتھارٹی: چیئرمین، متعلقہ بورڈ
بنیادی شرط: مقررہ فیس کی ادائیگی
کے پی آر ٹی ایس رابطہ: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

اہم بات

ڈی ایم سی یا سند کی تصدیق ایک اہم سرکاری تعلیمی سروس ہے جس کی نوٹیفائیڈ مدت 3 دن مقرر کی گئی ہے۔ شہری کو درخواست جمع کراتے وقت فیس کی رسید، درخواست نمبر یا ٹریکنگ نمبر اور متعلقہ دستاویز کی کاپی محفوظ رکھنی چاہیے۔ مقررہ مدت میں سروس نہ ملنے کی صورت میں پہلے متعلقہ بورڈ کے چیئرمین سے اپیل کی جاسکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

شہریوں کے لیے اپنے حقوق سے آگاہ ہونا اس لیے ضروری ہے کہ سرکاری سروس کی مقررہ مدت معلوم ہونے کی صورت میں وہ غیر ضروری تاخیر کے خلاف بروقت اور قانونی طریقے سے آواز اٹھا سکتے ہیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں