تحریر: شیرافضل گوجر
پاکستان میں ان دنوں بظاہر ایک پرانی بحث اچانک غیر معمولی شدت کے ساتھ دوبارہ زندہ ہو گئی ہے۔ بحث نئے صوبوں کی ہے۔ بظاہر معاملہ انتظامی اصلاحات، بڑھتی ہوئی آبادی، بہتر گورننس اور عوام کو ان کے قریب حکومت فراہم کرنے کا ہے، لیکن اگر اس بحث کو موجودہ سیاسی حالات، ریاستی بیانیے، نوجوانوں کی سیاست اور ملک میں طاقت کے بدلتے ہوئے مراکز کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ صرف نئے صوبے بنانے کا نہیں رہتا۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہو جاتا ہے کہ اگر پاکستان میں نئے صوبے بن گئے تو طاقت کس کے ہاتھ میں جائے گی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں صوبہ محض ایک انتظامی یونٹ نہیں۔ صوبہ ایک مکمل سیاسی طاقت کا مرکز ہے۔ اس کے پاس اسمبلی ہے، حکومت ہے، وزیراعلیٰ ہے، کابینہ ہے، بیوروکریسی ہے، پولیس ہے، ترقیاتی بجٹ ہے، سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ ہے اور ایک ایسی سیاسی قیادت ہے جو وقت کے ساتھ وفاق کے سامنے ایک طاقتور سیاسی فریق بن سکتی ہے۔ چنانچہ صوبوں کی تعداد بڑھانے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک بڑے علاقے کو چھوٹے انتظامی حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، بلکہ اس کا مطلب سیاسی طاقت کے موجودہ نقشے کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کے اچانک دوبارہ مرکزی سیاسی موضوع بن جانے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ دنوں ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبوں کے مطالبے کو ایک مرتبہ پھر پوری شدت سے اٹھایا۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی تقاریر اور پریس کانفرنسوں میں نہ صرف سندھ میں نئے صوبے کی بات سامنے آئی بلکہ پورے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجودہ governance system کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے administrative units اور structural reforms کی ضرورت کی بات کر چکے ہیں۔
یہاں تک تو شاید کچھ غیر معمولی نہیں۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ، کراچی اور دوسرے علاقوں میں اس حوالے سے مختلف ادوار میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف سیاسی کرداروں کی طرف سے اس موضوع کا غیر معمولی طور پر نمایاں ہو جانا، اور اسے صرف انتظامی اصلاحات کے بجائے موجودہ سیاسی و حکومتی نظام کی ناکامی کے ساتھ جوڑنا، اس بحث کو ایک نئے تناظر میں لے آتا ہے۔
کیونکہ اگر واقعی مسئلہ صرف گورننس ہے تو پھر سوال بہت سادہ ہونا چاہیے: نئے صوبوں کا مکمل خاکہ کہاں ہے؟ کتنے صوبے ہوں گے؟ ان کی حدود کیا ہوں گی؟ ان کے دارالحکومت کہاں ہوں گے؟ وسائل کیسے تقسیم ہوں گے؟ NFC Award پر کیا اثر پڑے گا؟ سینیٹ کی نمائندگی کیسے تبدیل ہوگی؟ بیوروکریسی اور پولیس کا ڈھانچہ کیسے تقسیم ہوگا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نئے صوبوں کے بننے کے بعد وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی نئی تقسیم کیا ہوگی؟
بدقسمتی سے ابھی تک عوامی بحث زیادہ تر نعروں تک محدود ہے، جبکہ اصل سوال طاقت کی تقسیم کا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک بڑا صوبہ ٹوٹ کر اگر کئی صوبوں میں تقسیم ہوتا ہے تو صرف نقشہ نہیں بدلتا، سیاسی طاقت کے مراکز بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ کی جگہ کئی وزیراعلیٰ آتے ہیں، ایک اسمبلی کی جگہ کئی اسمبلیاں وجود میں آتی ہیں، ایک کابینہ کی جگہ کئی کابینائیں بنتی ہیں، ایک بڑے سیاسی elite کی جگہ کئی نئے سیاسی elites پیدا ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ decentralisation ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ طاقت نیچے عوام تک پہنچتی ہے یا صرف ایک بڑے سیاسی مرکز سے کئی چھوٹے سیاسی مراکز میں منتقل ہو جاتی ہے؟
یہ فرق معمولی نہیں۔
اگر نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، مالی خودمختاری، مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار اور عوام کو فیصلہ سازی میں موثر نمائندگی ملتی ہے تو یہ واقعی decentralisation ہوگی۔ لیکن اگر بڑے صوبوں کو توڑ کر نئے صوبے تو بنا دیے جائیں اور اصل مالی و انتظامی اختیار پھر بھی وفاقی بیوروکریسی یا مرکزی طاقت کے پاس رہے تو یہ عوام کو طاقت دینا نہیں ہوگا۔ یہ صرف طاقت کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دینا ہوگا۔
اور شاید اسی مقام پر نئے صوبوں کی موجودہ بحث کا سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
پاکستان کے بڑے صوبے صرف انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ وفاقی سیاست میں طاقت کے مراکز بھی ہیں۔ پنجاب اپنی آبادی اور سیاسی وزن کی وجہ سے قومی سیاست پر غیر معمولی اثر رکھتا ہے۔ سندھ میں کراچی اور اندرون سندھ کی اپنی الگ سیاسی dynamics ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک مضبوط سیاسی شناخت اور مزاحمتی سیاسی روایت موجود ہے، جبکہ بلوچستان میں وسائل، شناخت اور صوبائی خودمختاری کے سوال بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ تمام صوبے وفاق کے اندر اپنے سیاسی وزن کے ساتھ موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر وفاقی حکومت کے سامنے ایک الگ سیاسی طاقت کے طور پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
اب اگر یہی بڑے صوبے چھوٹے چھوٹے سیاسی یونٹس میں تقسیم ہو جائیں تو کیا ہوگا؟
ممکن ہے عام آدمی کو حکومت قریب مل جائے۔ ممکن ہے دور دراز علاقوں کے مسائل بہتر طور پر حل ہوں۔ ممکن ہے پسماندہ خطوں کو زیادہ نمائندگی ملے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بڑے صوبائی سیاسی مراکز کی مجموعی bargaining power کم ہو جائے اور وفاقی مرکز نسبتاً زیادہ طاقتور ہو جائے۔
یہی وہ سوال ہے جس پر ابھی سب سے کم بات ہو رہی ہے۔
نئے صوبوں کی بحث میں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نئی سیاسی قیادتیں کہاں سے پیدا ہوں گی اور ان کی سیاسی بقا کس پر منحصر ہوگی۔ ایک بڑا صوبہ ٹوٹنے کے بعد کئی نئے وزرائے اعلیٰ، وزراء، ارکان اسمبلی، بیوروکریٹس، سیاسی خاندان اور کاروباری مفادات کے نئے مراکز پیدا ہوں گے۔ یہ سب اپنی اپنی طاقت کے لیے وفاق کے ساتھ تعلقات قائم کریں گے۔ اگر ان صوبوں کے وسائل اور مالی اختیار محدود رہے تو ان کی سیاسی و انتظامی بقا بڑی حد تک مرکز سے آنے والے وسائل پر منحصر ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں صوبے تو زیادہ ہوں گے، مگر کیا صوبائی خودمختاری بھی زیادہ ہوگی؟
یہی اصل سوال ہے۔
اور شاید اس بحث کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک اور پہلو کو بھی ساتھ رکھنا ہوگا، اور وہ ہے پاکستان کی نئی نسل، خصوصاً Gen-Z۔
آج کا نوجوان روایتی سیاسی جماعتوں سے پہلے جیسا وابستہ نہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر ہے، اپنی information خود تلاش کرتا ہے، روایتی سیاسی بیانیوں کو چیلنج کرتا ہے اور ریاستی و سیاسی اداروں سے سوال کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ریاستی اور حکومتی بیانیے میں بھی نوجوانوں اور Gen-Z کی اہمیت غیر معمولی طور پر نمایاں ہوئی ہے۔ محسن نقوی نے اپنی حالیہ تقریر میں نوجوانوں کو مستقبل کی بڑی سیاسی قوت کے طور پر بیان کیا اور موجودہ governance crisis اور structural reforms کو بھی اسی تناظر میں جوڑا۔
یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔ کیونکہ اگر پاکستان کا سیاسی architecture آنے والے برسوں میں تبدیل ہونا ہے تو اسے نئی نسل کو نظر انداز کرکے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ نئی نسل کو کس سیاسی تصور کے ساتھ جوڑا جائے گا؟ کیا اسے زیادہ جمہوری، بااختیار اور participatory سیاست کی طرف لایا جائے گا یا اسے ایک ایسے national-security اور stability-oriented narrative میں جگہ دی جائے گی جہاں traditional politicians کو مسلسل ناکام، کرپٹ اور مسئلے کی جڑ کے طور پر پیش کیا جائے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جب کسی معاشرے میں مسلسل یہ narrative بننے لگے کہ سیاسی جماعتیں ناکام ہیں، حکومتیں ناکام ہیں، صوبائی نظام ناکام ہے، معیشت ناکام ہے اور موجودہ governance structure ناکام ہے تو اگلا سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ پھر متبادل کیا ہے؟
اور متبادل کا تصور ہی اصل سیاسی کھیل کا آغاز کرتا ہے۔
اسی تناظر میں تحریک انصاف کی سیاست کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ PTI اپنی سیاسی مزاحمت اور mobilization جاری رکھے ہوئے ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا میں اس کی سیاسی قوت اب بھی ایک اہم factor ہے۔ لیکن اس صورتحال کو کسی خفیہ coordination یا کسی master plan کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ پاکستان میں جاری سیاسی کشمکش خود اس narrative کو تقویت دیتی ہے کہ موجودہ سیاسی نظام مسلسل بحران کا شکار ہے اور اسے structural reforms کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک خطرناک مگر اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی بحران، انتظامی اصلاحات اور نئی نسل کے لیے ایک نیا ریاستی narrative، الگ الگ نظر آنے کے باوجود بالآخر ایک ہی بڑے سیاسی transformation کا حصہ بن جائیں؟
میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ پاکستان میں کوئی خفیہ master plan تیار ہو چکا ہے۔ ایسے دعوے کے لیے اس وقت قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں۔ لیکن سیاسی تجزیے میں ہر چیز کا اعلان ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی trends کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھنا پڑتا ہے۔
نئے صوبوں کی بحث تیز ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے اہم لوگ administrative restructuring کی بات کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان اسے سیاسی مہم میں تبدیل کر رہی ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت اس کے خلاف کھڑی ہے۔ نوجوانوں کو مستقبل کی فیصلہ کن قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ملک پہلے ہی شدید سیاسی polarization کا شکار ہے۔
یہ تمام چیزیں ایک ہی منصوبے کا ثبوت نہیں، لیکن یہ ضرور بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ریاست، سیاست، صوبوں اور عوام کے درمیان طاقت کے تعلقات پر ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے۔
اور اسی لیے نئے صوبوں کے معاملے کو صرف “کتنے صوبے ہونے چاہئیں؟” کے سوال سے دیکھنا خطرناک حد تک سطحی ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ “کس کے اختیار میں کیا ہوگا؟”
اگر کل پاکستان دس، پندرہ یا بیس صوبوں میں تقسیم ہو جائے تو ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کتنے نئے دارالحکومت بنے، کتنی نئی اسمبلیاں وجود میں آئیں اور کتنے نئے وزیراعلیٰ آگئے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پیسہ کس کے پاس ہے، فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے، پولیس کس کے ماتحت ہے، بیوروکریسی کس کے سامنے جواب دہ ہے، قدرتی وسائل پر اختیار کس کا ہے، مقامی حکومتوں کے پاس کیا طاقت ہے اور عام شہری کے پاس اپنے منتخب نمائندے کو جواب دہ بنانے کا کتنا اختیار ہے۔
کیونکہ صوبے زیادہ ہونے کا مطلب لازماً عوام کے زیادہ طاقتور ہونے کے برابر نہیں۔
ممکن ہے صوبے زیادہ ہوں اور عوام پھر بھی کمزور ہوں۔
ممکن ہے اسمبلیاں زیادہ ہوں مگر فیصلے پھر بھی چند مراکز میں ہوں۔
ممکن ہے وزیراعلیٰ زیادہ ہوں مگر اصل اختیار پھر بھی مرکز کے پاس ہو۔
اور ممکن ہے نئے صوبوں کے نام پر نئی سیاسی اشرافیہ تو پیدا ہو جائے، مگر عام آدمی وہیں کھڑا رہے جہاں آج کھڑا ہے۔
اس لیے نئے صوبوں کی بحث میں میرے نزدیک سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں چار صوبے کافی ہیں یا نہیں۔ میں تو اس سوال کو بھی ثانوی سمجھتا ہوں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کا سیاسی نقشہ تبدیل کیا جا رہا ہے تو طاقت کا نقشہ کون بنا رہا ہے؟
اور اس نئے نقشے میں طاقت کہاں رکھی جا رہی ہے؟
اگر طاقت وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوتی ہے، پھر صوبوں سے مقامی حکومتوں اور شہریوں کو منتقل ہوتی ہے، تو یہ ایک حقیقی democratic decentralisation ہوگی۔ اگر پسماندہ علاقوں کو اپنے وسائل، اپنے اداروں اور اپنی ترجیحات پر اختیار ملتا ہے تو نئے صوبے پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔
لیکن اگر بڑے صوبائی سیاسی مراکز کو کمزور کرکے صرف نئے چھوٹے صوبائی elites پیدا کیے گئے، مالی اختیار مرکز کے پاس رکھا گیا، مقامی حکومتوں کو بدستور کمزور رکھا گیا اور نئی سیاسی قیادتوں کی بقا وفاقی سرپرستی سے مشروط رہی تو پھر ہمیں اسے عوامی empowerment نہیں کہنا چاہیے۔
اسے طاقت کی نئی ترتیب کہنا ہوگا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی آنے والی سیاست کا سب سے بڑا سوال چھپا ہوا ہے۔
نئے صوبے بن سکتے ہیں۔
نئے دارالحکومت بن سکتے ہیں۔
نئی اسمبلیاں بن سکتی ہیں۔
نئے وزیراعلیٰ آ سکتے ہیں۔
نئے سیاسی خاندان پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب ایک عام پاکستانی شہری پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگا۔
ورنہ نقشہ بدل جائے گا، نام بدل جائیں گے، حکمران بدل جائیں گے، مگر طاقت وہیں رہے گی۔
اس لیے میں نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتا۔ بلکہ پاکستان جیسے بڑے اور پیچیدہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی ضرورت پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ ہزارہ ہو، جنوبی پنجاب ہو، بہاولپور ہو، کراچی ہو یا کوئی اور خطہ، جہاں عوام حقیقی سیاسی و انتظامی محرومی محسوس کرتے ہیں وہاں ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔
لیکن اس بحث کی پہلی شرط یہی ہونی چاہیے کہ صوبے عوام کے لیے بنیں، طاقت کے لیے نہیں۔
کیونکہ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے صوبے بڑے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے شہری اب بھی بہت چھوٹے ہیں۔
اتنے چھوٹے کہ ان کے پاس اپنی حکومت کے سامنے سوال کرنے کا اختیار کم ہے، اپنے وسائل پر اختیار کم ہے، مقامی فیصلوں میں حصہ کم ہے اور ریاستی طاقت کے مقابلے میں ان کی آواز کمزور ہے۔
اگر نئے صوبے اس شہری کو بڑا بناتے ہیں تو نئے صوبے خوش آئند ہیں۔
لیکن اگر نئے صوبے صرف طاقت کے مراکز چھوٹے کرتے ہیں اور طاقت کے اصل مرکز کو مزید بڑا بنا دیتے ہیں تو پھر سوال اٹھانا ہوگا۔
اور شاید آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست کا سب سے اہم سوال یہی ہوگا:
نقشہ کون بنا رہا ہے؟
صوبے کتنے ہوں گے، یہ بعد کا سوال ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ نئے پاکستان میں طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی؟
اور اس سوال کا جواب ہی بتائے گا کہ یہ واقعی اصلاحات تھیں، یا صرف طاقت کی ایک نئی تقسیم۔…


