Skip to content

صحت کے نام پر بھیانک کھیل

شیئر

شیئر

ہمارے یہاں صحت کے نام پر ایسے ایسے بھیانک کھیل کھیلے جا رہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پتا نہیں ہمارا نظام اور ضلعی انتظامیہ اس ہولناک خاموشی کا کفن اوڑھ کر کب تک سوتی رہے گی؟ آخر یہ انتظامیہ کب جاگے گی اور کب ان موت کے سوداگروں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالے گی؟

اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسے درجنوں نام نہاد کلینکس اور میڈیکل اسٹورز ملیں گے جہاں بیٹھنے والوں کے پاس نہ کوئی ڈگری ہے اور نہ کوئی قانونی لائسنس۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اگر کسی ڈاکٹر کی ڈگری یا لائسنس کرائے پر لگا بھی رکھا ہے تو وہاں وہ معالج خود کبھی نہیں ملتا۔ المیہ دیکھیے کہ جو لوگ صبح کے وقت کسی سرکاری محکمے یا ہسپتال میں چپڑاسی کی نوکری کرتے ہیں وہ شام ہوتے ہی ڈاکٹر کا لبادہ اوڑھ کر کسی گلی کے کونے میں مسیحا بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔

آج ایک میڈیکل اسٹور کی دہلیز پر جو منظر دیکھا اس نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کاؤنٹر پر ایک 7 سال کا معصوم بچہ بیٹھا تھا جو بغیر کسی خوف کے ادویات بیچ رہا تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر گیا مگر پیچھے کوئی ڈاکٹر تو کیا ذمہ دار ہیلتھ ٹیکنیشن یا فارماسسٹ بھی موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ایک مجبور عورت تڑپتی ہوئی آئی اور کہنے لگی "ڈاکٹر صاحب کو بلا دیں!” 7 سال کے بچے نے کہا میرے پاس فون نہیں ہے آپ ابو کو کال کرلیں۔ فون ملایا تو جواب ملا "بس میرا بھائی آ رہا ہے!” وہ بھائی جو خود کسی ٹیکنیشن سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا تھا 20 منٹو بعد آن آیا اور ایک چھوٹی سی پرچی پر تین چار ادویات لکھ کر اس عورت کے ہاتھ میں تھما دیں۔

ساری حدیں تو تب پار ہو گئیں جب اسی فرضی ڈاکٹر کے کچھ دوست موٹر سائیکل پر وہاں پہنچے۔ وہ اس کی نااہلی سے واقف تھے اس لیے جب وہ اس مریضہ کو چیک کرنے کا ناٹک کر رہا تھا تو اس کے اپنے دوستوں نے پیچھے سے ہنستے ہوئے اس کی تصویر کھینچ لی اور کہنے لگے ڈھکنا ڈاکٹر ؟ جن کے نزدیک انسانی زندگی دوستوں کی محفل کا ایک لطیفہ بن جائے وہ کسی کے مسیحا کیسے ہو سکتے ہیں؟

انتظامیہ سے درخواستی اپیل ہے کہ وہ اب خوابِ غفلت سے بیدار ہو۔ ہر گلی ہر محلے اور ہر ایسی جگہ کی سخت اسکریننگ کی جائے جہاں یہ فرضی کلینکس کھلے ہوئے ہیں۔ معصوم شہریوں کی زندگیوں کو ان نیم حکیموں اور پارٹ ٹائم جلادوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل اس نظام کی بھینٹ چڑھنے والا کوئی ہمارا اپنا بھی ہو سکتا ہے۔

شہری

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں