تحریر : راشد خان سواتی
زبان محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ کسی بھی قوم کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، روایات اور اجتماعی شعور کی امین ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم نے اپنی مادری زبان کو عزت دی، اسے اپنایا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی ہی مادری زبان، ہندکو، کو وہ مقام نہ دے سکے جس کی وہ مستحق ہے۔
ہندکو زبان ہزارہ، کوہاٹ، پشاور اور پنجاب کے بعض علاقوں میں صدیوں سے بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ ہمارے آباؤ اجداد کی نشانی، ان کی امانت اور ہماری ثقافتی شناخت ہے۔ اس زبان میں محبت کی مٹھاس، اپنائیت کی خوشبو اور تہذیب کی چاشنی رچی بسی ہے، لیکن بدقسمتی سے آج یہی زبان اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنتی جا رہی ہے۔
مجھے اکثر احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم ہندکو بولنے والے احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ جب میں اپنے بزرگوں سے سنے ہوئے الفاظ، مثلاً "پہتلی” (کھڑکی)، "بوہا” (دروازہ) اور "کاشک” (چمچ) استعمال کرتا ہوں تو میری اپنی بیٹیاں مسکرا دیتی ہیں۔ ان کا یہ رویہ دراصل ہماری اجتماعی غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ہم اپنی زبان اپنے بچوں کو نہیں سکھائیں گے تو وہ اسے کیسے اپنائیں گے؟
تعلیمی ادارے معاشرے کی فکری تعمیر کرتے ہیں۔ میری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ طلبہ کو اردو، انگریزی، پشتو، ہندکو، گوجری اور کوہستانی جیسی زبانوں میں اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو کہ ہر زبان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ زبانیں کسی انسان کی برتری یا کم تری کا معیار نہیں ہوتیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے، قریب آنے اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ ہندکو زبان کے فروغ کے لیے بہت سے شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، ہدایت کاروں اور الیکٹرانک میڈیا نے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، مگر اصل ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہمارے گھروں میں ہندکو نہیں بولی جائے گی تو کوئی ادارہ یا کانفرنس تنہا اس زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتی۔
ایسے میں تیسری ہندکو کانفرنس، جو جناح کالج مانسہرہ میں جناب فیاض خان سواتی اور جناب فاریض خان سواتی کی میزبانی میں منعقد ہو رہی ہے، امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ کانفرنس صرف ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ اپنی تہذیب، ثقافت اور مادری زبان سے تجدیدِ عہد کا ایک خوبصورت موقع ہے۔ ایسی کاوشیں نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
آئیے! ہم یہ عہد کریں کہ ہندکو کو صرف کانفرنسوں اور مشاعروں تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اپنے گھروں، اپنی محفلوں اور اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ اپنے بچوں سے ہندکو میں بات کریں، انہیں اس زبان کے خوبصورت الفاظ اور محاورے سکھائیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ اپنی مادری زبان پر فخر کرنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
"اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ”
اسی طرح ہر قوم کی انفرادیت اس کی زبان، ثقافت اور تہذیب میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
آخر میں صرف اتنی سی گزارش ہے کہ اگر ہم نے اپنی مادری زبان کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں شاید اس غفلت پر کبھی معاف نہ کریں۔
ہندکو بولیے، ہندکو سکھائیے، ہندکو اپنائیے؛ کیونکہ یہی ہماری پہچان، ہمارا ورثہ اور ہمارے آباؤ اجداد کی امانت ہے۔
