تحریر : محمد حنیف
آج پانچ جون 2026 کو عالمی یوم ماحولیات منایا جا رہا ہے اور اس بار اقوام متحدہ نے "موسمیاتی عمل” (Climate Action) کو مرکزی عنوان قرار دیا ہے۔ اس سال کا عالمی پیغام ہے: #NowForClimate اور "Inspired by Nature. For Climate. For Our Future.” اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس موقع پر خبردار کیا کہ گزشتہ گیارہ سال ریکارڈ کے گرم ترین سال رہے ہیں اور نقصان صرف بڑھتے درجہ حرارت تک محدود نہیں—آلودہ ہوا، انحطاط پذیر زمین، گرتے ماحولیاتی نظام اور غائب ہوتی حیاتیاتی تنوع نے دنیا کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
موسموں کی بے قاعدگی، بڑھتی ہوئی گرمی، بے وقت بارشیں اور خطرناک قدرتی آفات اب محض اتفاق نہیں رہے، بلکہ یہ ایک بڑے عالمی بحران کی علامت ہیں جسے موسمیاتی تبدیلی کہا جاتا ہے۔
ماحولیاتی بحران کی جڑیں دن بدن گہری ہوتی جارہی ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کا دارومدار بنیادی طور پر گلوبل وارمنگ سے ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ جیواشم ایندھن (کوئلہ، گیس اور تیل) کا بے دریغ استعمال ہے۔ ان سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں فضا میں گرمی کو پھنساتی ہیں، جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ انسانی سرگرمیاں جیسے جنگلات کی کٹائی، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں، پلاسٹک آلودگی اور قدرتی وسائل کا غیر متوازن استعمال اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اہم اور چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک، جو عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ دار ہیں، اس کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے دنیا کے انتہائی متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں اب کوئی دور دراز کا خیالی تصور نہیں رہی۔ یہ روزمرہ کی تلخ حقیقت ہے جس نے عوامی صحت، غذائی تحفظ، معاشی استحکام، بنیادی ڈھانچے اور سماجی برداشت کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب، بار بار پڑنے والی خشک سالی اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے ممالک کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
شدید گرمی کی لہریں (Heatwaves) مئی 2026 میں ہی ملک میں موسم گرما خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے، درجہ حرارت معمول سے زیادہ اور طویل عرصے تک رہتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے بار بار ہیٹ ویو اور گلیشیئر جھیلوں میں پھٹنے کے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔
پانی کا بحران اور خوراک کی عدم تحفظ کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے جون تا اگست معمول سے کم بارش اور زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ صورتحال فصلوں کی بوائی، پیداوار اور کسانوں کے لیے خطرہ ہے۔
تباہ کن سیلاب اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے 2022 کے سیلاب نے سندھ اور بلوچستان کو تہہ و بالا کر دیا تھا۔ حالیہ برسوں میں بارشوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے سیلابوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ شمالی علاقوں میں بڑھتی گرمی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بن رہی ہے۔
زیادہ درجہ حرارت اور نمی کے باعث ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ گرمی سے متعلقہ بیماریاں خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے میں عام ہو رہی ہیں۔
گزشتہ چار سیلابوں میں چھ ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ لوگ غربت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق قدرتی آفات سے معیشت کو سالانہ چار ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
اس وقت عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اب
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے محض نعرے بازی کافی نہیں۔ اس وقت ضرورت ہے ٹھوس، سائنسی اور عملی اقدامات کی۔ گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے لیے دنیا کو اپنی قابل تجدید توانائی کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہو گا۔
عالمی سطح پر، قابل تجدید توانائی اور پائیدار ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کی مالیت آج تقریباً 245 بلین ڈالر ہے۔ آذربائیجان (جو اس سال کا میزبان ملک ہے) 2035 تک 40 فیصد اخراج میں کمی اور 2030 تک 30 فیصد قابل تجدید توانائی کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔
ہمیں بحیثیت قوم اس وقت ایسی عملی پالیسی کی ضرورت ہے جسے انفرادی، سماجی اور قومی سطح پر لاگو کیا جاسکے
انفرادی اور سماجی کردار میں عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی دینا اور انہیں ماحول دوست طریقوں کی طرف راغب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ چھوٹے اقدامات جیسے توانائی اور پانی کی بچت، درخت لگانا اور پلاسٹک کا استعمال کم کرنا بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
· قومی پالیسی اور منصوبہ بندی کے حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر طریقہ کار وضع کرے۔ فصلوں کے تحفظ، ڈرون سے نگرانی اور جدید زرعی طریقے اپنانے ہوں گے۔ این ڈی ایم اے کے چیئرمین کے مطابق، موجودہ ہائیڈرو میٹرولوجیکل خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
· سائنسی تحقیق اور تعلیم کے فروغ میں جامعات اور تحقیقی اداروں کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اور اختراعی حل فراہم کرنے چاہئیں۔ بین الضابطہ موسمیاتی انوویشن لیبارٹریز کا قیام ضروری ہے۔ نینو میٹریلز، سیمی کنڈکٹرز اور توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز پر تحقیق ملک کو پائیدار توانائی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
وقت اب بھی ہے، لیکن بہت کم موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا چیلنج ہے جس کی کوئی سرحد نہیں۔ یہ ایک مربوط اور عالمی سطح پر مربوط ردعمل کا متقاضی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو اس کے تباہ کن اثرات سے دوچار ہوتے دیکھ کر دنیا کو فوری طور پر عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
عالمی یوم ماحولیات 2026 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین بحث نہیں کرتی، زمین سودے بازی نہیں کرتی زمین صرف سگنل بھیجتی ہے: بڑھتا ہوا سمندر، بھڑکتی ہوئی آگ، گرمی کی لہریں، پگھلتے گلیشیئر۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے جواب میں کیا سگنل واپس بھیجتے ہیں؟ کیا ہم مزید تاخیر، خاموشی اور انکار کا انتخاب کریں گے، یا کارروائی، اختراع اور تبدیلی کا؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہم اپنے ماحول کو تباہ کرنے والے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ ہماری قومی بقا کا ضامن ہے۔ وقت اب بھی ہے، لیکن یہ بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ آئیے، آج سے، ابھی سے، NowForClimate کا عزم کریں


