شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی”
— علامہ محمد اقبال
شہادت صرف موت کا نام نہیں، بلکہ ایسی ابدی زندگی کا آغاز ہے جس پر وقت کی گرد نہیں جمتی۔ یہ وہ عظیم مقام ہے جس کی عظمت کو خود ربِ کائنات نے قرآنِ مجید میں بیان فرمایا:
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم شعور نہیں رکھتے۔”
یہی وہ رتبۂ بلند ہے جس کی آرزو رسولِ اکرم ﷺ نے بھی فرمائی کہ کاش وہ اللہ کی راہ میں بار بار شہید کیے جائیں اور پھر زندہ کیے جائیں۔ جب محبوبِ خدا ﷺ نے اس عظیم سعادت کی تمنا فرمائی، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شہادت کا مقام اللہ کے نزدیک کتنا بلند اور محبوب ہے۔
اسلام کی پوری تاریخ اس جذبۂ شہادت سے جگمگاتی ہے۔ بدر کی تپتی ریت ہو یا اُحد کا لہولہان میدان، خندق کی آزمائش ہو یا یرموک اور قادسیہ کے معرکے، مسلمان کبھی مالِ غنیمت کے طلبگار نہیں تھے اور نہ ہی کشور کشائی ان کا نصب العین تھا۔ ان کے دلوں میں صرف ایک ہی شوق موجزن تھا: اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی رضا کا حصول۔
اُحد کے میدان میں سیدالشہداء حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ نے اپنے لہو سے وفا کی ایسی داستان رقم کی کہ قیامت تک اہلِ ایمان ان کا نام عقیدت سے لیتے رہیں گے۔ کفن پورا نہ تھا، سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر مبارک نمایاں ہو جاتا، مگر یہی ظاہری محرومی دراصل وہ عظمت تھی جس پر آسمان بھی نازاں تھا۔
اسی عظیم روایتِ شہادت کی معراج کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر نظر آتی ہے، جہاں نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ بتولؓ، حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جان نثار ساتھیوں کے ساتھ حق، عدل اور دینِ مصطفیٰ ﷺ کی سربلندی کے لیے ایسی لازوال قربانی پیش کی جس نے شہادت کو ہمیشہ کے لیے حیاتِ جاوداں کی علامت بنا دیا۔ انہوں نے اپنے نانا جان ﷺ کے محبوب چچا، سیدالشہداء حضرت حمزہؓ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ اہلِ ایمان کے لیے باطل کے سامنے سر جھکانے سے بہتر حق کی خاطر سر کٹانا ہے۔ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ جب دین، حق، انصاف اور انسانیت خطرے میں ہو تو اہلِ ایمان جان کی پروا نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر قربانی پیش کرتے ہیں۔ امام حسینؓ کی عظیم قربانی آج بھی ہر دور کے مسلمانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی خاطر استقامت ہی حقیقی کامیابی ہے۔
حضرت سمیہؓ نے ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے جان دے کر اسلام کی پہلی شہیدہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ کم سن حضرت عمیر بن ابی وقاصؓ کی آنکھوں میں بھی شہادت کے خواب تھے۔ حضرت حارثہؓ، حضرت ام حرامؓ اور بے شمار صحابۂ کرامؓ نے دنیا کو سکھایا کہ اہلِ ایمان کے لیے زندگی کا حسن حق پر جینے میں اور موت کی عظمت حق پر قربان ہونے میں ہے۔
یہی جذبہ صدیوں سے امتِ مسلمہ کی روح ہے۔ جب کلمۂ حق بلند کرنے کا وقت آتا ہے تو مردِ مومن دنیا کی چمک دمک، اقتدار، دولت اور آسائشوں کو اپنے قدموں کی خاک سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ ایک لمحے کی سچی قربانی ہمیشہ کی عزت بن جاتی ہے۔
آج بھی جب پاکستان کا کوئی سپاہی برف پوش چوٹیوں، سرحدوں اور دہشت گردی کے خلاف محاذوں پر نعرۂ تکبیر "اللہ اکبر” بلند کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے سینہ سپر ہوتا ہے تو اس کے سامنے صرف ایک سرحد نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے اس کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، مساجد، مدارس، وطن کی آزادی اور پوری قوم کی عزت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر وہ اس راہ میں جامِ شہادت نوش کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے ماتھے کا جھومر اور تاریخ کا روشن باب بن جاتا ہے۔
اسلام ہمیں ظلم سے نفرت، امن سے محبت، عدل کے قیام اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔ ایک سچے مومن کی خواہش جنگ نہیں بلکہ امن، انصاف اور اللہ کے دین کی سربلندی ہوتی ہے، لیکن جب دین، وطن، عزت اور آزادی کے دفاع کا وقت آ جائے تو وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
اور پھر یہ شعر ہر شہید کی عظمت کا آئینہ بن جاتا ہے:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی کوئی بات نہیں۔
سلام ان شہداء پر جن کے لہو نے اسلام کی حرمت، کلمۂ حق کی سربلندی، پاکستان کی آزادی، وطن کی سلامتی اور قوم کی عزت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حق کو پہچاننے، اس پر ڈٹ جانے، وطن سے وفاداری نبھانے اور اپنے دین و ملت کی خدمت اخلاص، حکمت اور استقامت کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تحریر : راشد خان سواتی


