تحریر : شبیر احمد
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے حال ہی میں نیشنل اسکل کمپیٹنسی ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر ملک کی 44 جامعات میں کمپیوٹنگ پروگرامز میں نئے داخلوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ مقصد اچھا ہے، یعنی تعلیمی معیار بہتر بنانا اور انڈسٹری کے مطابق گریجویٹس تیار کرنا۔ مگر جب نتائج کو غور سے دیکھا جائے تو اس پورے عمل میں ایک بڑی خامی نظر آتی ہے۔
بات یہ ہے کہ جامعہ کی اوسط کارکردگی نکالتے وقت یہ دیکھا ہی نہیں گیا کہ کس یونیورسٹی نے کتنے طلبہ کو ٹیسٹ میں بھیجا۔ کچھ جامعات نے صرف پانچ یا دس طلبہ کو شریک کیا اور ان کا اوسط اسکور بہت اچھا رہا۔ دوسری طرف وہ جامعات جہاں دو سو یا تین سو طلبہ نے ٹیسٹ دیا، ان کا اوسط نمبر نیچے آ گیا، حالانکہ ان میں بہت سے طلبہ نے انفرادی طور پر بہت اچھی پرفارمنس دی۔
یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ جتنی کم تعداد ہو، اوسط اتنی آسانی سے اوپر جا سکتا ہے۔ اگر کوئی یونیورسٹی صرف اپنے بہترین طلبہ کو ٹیسٹ کے لیے منتخب کرے تو اس کا اوسط ظاہر ہے زیادہ ہوگا، چاہے باقی طلبہ کا لیول کچھ بھی ہو۔ جبکہ بڑی جامعات جو سینکڑوں طلبہ کو ٹیسٹ میں شریک کرتی ہیں ان کے نتائج میں اچھے اور کمزور دونوں طرح کے طلبہ شامل ہوتے ہیں، یعنی اصل میں یہی جامعات زیادہ شفاف طریقے سے چل رہی ہیں۔
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کی مثال اس بات کو اور واضح کر دیتی ہے۔ صرف چند دن پہلے خیبرپختونخوا کے صوبائی ادارے نے، جو اپنے الگ پیمانوں پر جامعات کو پرکھتا ہے، ہزارہ یونیورسٹی کو صوبے کی دوسری بہترین یونیورسٹی قرار دیا تھا۔ مگر اس کے صرف دو دن بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اسی یونیورسٹی کے کمپیوٹنگ پروگرام میں داخلے عارضی طور پر روک دیے، اور وجہ صرف NSCT کا نتیجہ بنا۔
HEC کے اپنے ہی ڈیٹا کو دیکھیں تو ہزارہ یونیورسٹی کے 183 طلبہ نے ٹیسٹ دیا، جن میں سے ایک طالب علم نے 83 نمبر لیے، جو کہ ایک بہترین اسکور ہے۔ مگر مجموعی اوسط صرف 40.47 رہا اور پاس ہونے والوں کی شرح محض 14 فیصد، جس کی بنیاد پر یونیورسٹی ان اداروں کی فہرست میں آ گئی جہاں داخلے عارضی طور پر روکے گئے۔ اس کے مقابلے میں آئی بی اے کراچی کے صرف 17 طلبہ نے ٹیسٹ دیا اور ان کا اوسط 70.76 رہا، یعنی سو فیصد پاس۔ ظاہر ہے کہ بائیس منتخب طلبہ کا اوسط نکالنا اور 194 مختلف طلبہ کا اوسط نکالنا ایک جیسی بات نہیں۔
سوال یہ بنتا ہے کہ ایک ہی ادارے کو محض اڑتالیس گھنٹوں کے فرق سے کیسے دو الگ تصویریں دکھائی گئیں، ایک طرف صوبے کی دوسری بہترین یونیورسٹی اور دوسری طرف وہ ادارہ جس کے کمپیوٹنگ پروگرام میں داخلے روکنے پڑے۔ یہ تضاد خود بتا رہا ہے کہ مسئلہ صرف جامعہ کی کارکردگی میں نہیں بلکہ جانچنے کے طریقے میں بھی ہے۔
اس کا حل بھی سادہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اوسط نکالنے سے پہلے ایک کم از کم تعداد مقرر کرنی چاہیے، یعنی نتیجہ تب ہی موازنے کے قابل سمجھا جائے جب ٹیسٹ میں مقررہ تعداد سے زیادہ طلبہ شریک ہوں۔ اس کے بغیر چھوٹے سیمپل پر مبنی نتائج ہمیشہ مصنوعی طور پر اچھے دکھائی دیں گے اور بڑی جامعات، جو زیادہ طلبہ کو ایمانداری سے ٹیسٹ میں شریک کرواتی ہیں، ناحق نقصان اٹھائیں گی۔
یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آیا تمام جامعات نے اپنے تمام اہل طلبہ کو ٹیسٹ میں بھیجا یا کچھ اداروں نے کمزور طلبہ کو جان بوجھ کر دور رکھا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ نتائج کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے۔
ایک اور سوال بھی ذہن میں آنا چاہیے۔ اگر آخر میں فیصلہ صرف اس ایک ٹیسٹ کے میٹرکس پر ہونا تھا تو ہر سال ہونے والے accreditation visits کا مقصد کیا رہ جاتا ہے۔ جب جامعات کا سالانہ جائزہ لیا جاتا ہے، نصاب چیک ہوتا ہے، فیکلٹی اور لیبز کا معائنہ ہوتا ہے تو پھر صرف ایک ٹیسٹ کی بنیاد پر پورا پروگرام روک دینا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ اگر accreditation کا process مکمل طور پر شفاف ہوتا اور سب کو معلوم ہوتا کہ کن بنیادوں پر فیصلہ ہو رہا ہے تو شاید یہ صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی۔ اور اگر واقعی طلبہ کا معیار اتنا کمزور ہے جتنا نتیجہ بتا رہا ہے، تو سوال یہ ہے کہ نئے داخلے عارضی طور پر روکنے سے ان فائنل ایئر طلبہ کا کیا فائدہ ہوگا جو پہلے ہی پروگرام میں موجود ہیں۔ یہ فیصلہ ان کی مدد کیسے کرتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کی واحد پبلک سیکٹر یونیورسٹی ہے۔ اگر یہاں کمپیوٹنگ پروگرام میں داخلے، چاہے عارضی طور پر ہی، رک جائیں تو اس علاقے کے ان طلبہ کا کیا بنے گا جو کمپیوٹر سائنس میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر کسی اور شہر جانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے پاس کوئی متبادل ادارہ موجود نہیں۔ یعنی یہ فیصلہ معیار بہتر کرنے کے بجائے ان طلبہ کے لیے دروازہ بند کر رہا ہے جو شاید اس فیلڈ میں آگے نکل سکتے تھے، صرف اس لیے کہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔


