Skip to content

اگر علم فہم اور شعور پیدا نہیں کرتا تو محض نقالی ہے ،خواہ وہ کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہو۔

شیئر

شیئر

تحریر:شیرافضل گوجر

آج کتاب کا قومی دن ہے اور اس مناسب سے ممتاز ماہر تعلیم وحید مراد صاحب کی کتاب” رٹے کا تعلیمی نظام” جو انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ مجھے مطالعہ کے لیے بھیجی ہے،پر اپنا فیڈ بیک دینا چاہتا ہوں،اس کتاب میں ایک ایسے مسلہ کی باریک بینی سے نشاندہی کی گئی ہے بلکہ اس مسلہ کی وجوہات اور سوسائٹی پر اثرات کا بھی فلسفیانہ تجزیہ کیا گیا ہے،وحید مراد صاحب تجزیہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم کا مسئلہ محض نصاب،اساتذہ یا وسائل کا نہیں بلکہ ایک گہری فکری ساخت کا مسئلہ ہے،ایک ایسا ڈھانچہ جو “رٹے” پر قائم ہے۔ یہ کتاب رٹے کا تعلیمی نظام، اسی ساخت کو بے نقاب کرتی ہے اور ہمیں اس سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی تعلیم یافتہ ہیں،یا صرف معلومات کے بوجھ تلے دبے ہوئے یاداشت کے مزدور؟
رٹا سسٹم دراصل علم کی روح کے خلاف ایک تجریدی بغاوت ہے۔ علم سوال سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ رٹا جواب کو مقدس بنا دیتا ہے ،جب ایک بچہ “کیوں” پوچھنے کے بجائے “کیا لکھنا ہے” سیکھتا ہے تو اس کی فکری آزادی کا پہلا دروازہ بند ہو جاتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں سے ایک معاشرہ تخلیق کے بجائے تقلید اور جستجو کے بجائے جمود کی طرف بڑھتا ہے۔

وحید مراد کی یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ رٹا سسٹم صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے،یہ نظام ذہنوں کو تربیت نہیں دیتا بلکہ انہیں ایک مخصوص سانچے میں ڈھالتا ہے، نتیجتاً ایسے افراد پیدا ہوتے ہیں جو امتحان میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں، مگر زندگی کے سوالات کے سامنے بے بس کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ڈگری ہوتی ہے، مگر بصیرت نہیں؛ معلومات ہوتی ہے، مگر شعور نہیں۔
فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو رٹا سسٹم انسان کو “موضوع” (Subject) سے “شے” (Object) میں تبدیل کر دیتا ہے، یعنی انسان سوچنے والا وجود نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا ذریعہ بن جاتا ہے جو پہلے سے طے شدہ خیالات کو دہراتا ہے،اس عمل میں فرد کی انفرادیت،اس کی تخلیقی صلاحیت اور اس کا تنقیدی شعور بتدریج ختم ہو جاتا ہے یوں ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جو سوال کرنے سے ڈرتا ہے، اختلاف کو خطرہ سمجھتا ہے اور نئے خیال کو بغاوت تصور کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سماج میں فکری کمزوری، سطحی تجزیہ اور جذباتی ردعمل عام نظر آتا ہے۔ ہم پیچیدہ مسائل کو سادہ نعروں میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں گہرائی میں جانے کی تربیت ہی نہیں دی گئی، رٹا سسٹم نے ہمیں سوچنے کے بجائے ماننے کا عادی بنا دیا ہے۔

تاہم، وحید مراد کی کتاب محض تنقید نہیں بلکہ ایک دعوت بھی ہے حقیقی تعلیم کی طرف واپسی کی دعوت، حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو سوال کرنا سکھائے،جو اسے اپنی ذات اور کائنات کے ساتھ ایک زندہ مکالمے میں شامل کرے،یہ تعلیم حافظے کے بجائے شعور کو مرکز بناتی ہے اور کامیابی کو نمبروں کے بجائے فہم سے ناپتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ رٹا سسٹم غلط ہے،یہ تو واضح ہے،اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جمود کو توڑنے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ رٹا صرف کتابوں میں نہیں، ہمارے رویوں، ہماری سماجی ساخت اور ہمارے اداروں میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ اسے بدلنے کے لیے نصاب سے زیادہ ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔

اگر تعلیم کا مقصد ایک آزاد، باشعور اور تخلیقی انسان پیدا کرنا ہے تو پھر ہمیں رٹے کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا، ورنہ ہم ڈگریوں کے انبار تو لگا لیں گے،مگر ایک ایسا معاشرہ کبھی تشکیل نہیں دے سکیں گے جو سوچتا ہو، سمجھتا ہو، اور آگے بڑھنے کی حقیقی صلاحیت رکھتا ہو۔یہ کتاب ملک میں فکری افلاس، بڑھتی ہوئی مذہبی ،سیاسی و سماجی انتہا پسندی کو رٹا سسٹم کی بائے پراڈکٹ قرار دیتی ہے۔

وحید مراد کی یہ کتاب دراصل ایک آئینہ ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں